07:34 am
 جنگ کا آپشن؟

 جنگ کا آپشن؟

07:34 am

 راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے بطن سے جنم لینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے دنیا کو  مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کے عملی معنی سمجھا دئیے ہیں۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ مسلمان ہونا کشمیریوں کا ایسا جرم ہے کہ عالمی برادری بھارتی مظالم  کے متعلق سب جانتے بوجھتے چپ سادھے بیٹھی ہے۔ یہ جرم صرف کشمیریوں کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا بھی ہے۔ پاکستان کا قیام بھی اسی لیے بھارت کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست  ہے کہ یہ ملک مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم ہوا۔ بھارت ٹوٹا اور پاکستان وجود میں آیا۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد پنجہ ہنود سے نکل گئی۔ ہندو شدت پسندوں کے دلوں میں قیام پاکستان کا  صدمہ اور غصہ ہر گذرتے دن کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف زہریلی نفرت کا روپ دھارتا چلا گیا۔بھارت میں مقیم مسلمان اس نفرت کی بھٹی میں مسلسل سلگ رہے ہیں ۔ اسی نفرت کی بدولت پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش بنانے میں بھارت پیش پیش تھا۔بھارت میں مقیم مسلمان تو گھڑے کی مچھلی جیسے ہو گئے۔جب چاہا جیسے چاہا جہاں چاہا گاجر مولی کی طرح کا ٹ ڈالا۔کشمیر مسلم اکثریت کا حامل وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں تہتر برس سے شدت پسند ہندو ذہنیت قیام پاکستان کی صورت بھارت کے ٹوٹنے کا انتقام مظلوم کشمیریوں سے لے رہی ہے۔  
 
کیا پاکستان کسی خاص زبان بولنے والے اور کسی خاص ثقافت سے جڑے طبقے کے لیے قائم کیا گیا تھا ؟اگر ایسا ہوتا تو پنجاب کبھی تقسیم نہ ہوتا! پنجابی زبان بولنے والی اکالی دل جتھوں نے پنجابی زبان بولنے والے مسلمانوں کو ہجرت کے وقت کیوں قتل کیا ؟ اردو، گجراتی اور مارواڑی زبانیں بولنے والے اپنے ہم زبانوں کے خوف سے ہجرت کر کے سندھ میں کیوں آن بسے؟کوئی لبرل ٹوڈی مغرب نواز مانے یا نہ مانے اصل مسئلہ مذہب ہی کا تھا۔مسلمان ہونا ہی سب سے بڑا جرم ٹھہرا ۔ قیام پاکستان کے بعد پنڈت نہرو یہ امید لگائے بیٹھے رہے کہ پاکستان آج نہیں تو کل ٹوٹ کر حقیر کنکر کی طرح لڑھکتا ہوا بھارت کے قدموں میں آن گرے گا ۔ رب کے فضل سے وہ دن نہیں آیا، جو ملک رنگ، نسل ، زبان اور علاقائی رشتوں سے بالاتر ہو کر محض رب کی بندگی اور غلامی رسولﷺ کے رشتے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اُسے توڑنے کے لیے لسانی  تعصب کا ہتھیار استعمال کیا گیا جو لوگ مسلمان بن کر پاکستان آئے تھے انہیں بنگالی، پشتون ،پنجابی،بلوچی، سرائیکی،سندھی اور مہاجر بنا نے کی مہم شروع ہوئی۔یہ پنڈت نہرو تھا جس نے افغانستان کی زمین کو پاکستان میں نسلی تعصب پھیلانے کے لیے استعمال کیا ۔ 
 ہمیں آج صرف سقوط ڈھاکہ یاد ہے۔ بلوچستان اور سابقہ صوبہ سرحد میں جس طرح بلوچ اور پشتون قوم پرستی کی آڑ لے کر افغانستان کے ذریعے قیام کے ابتدائی تیس برسوں میں  پاکستان کے حصے بخرے کرنے کے لیے جو خونی کھیل کھیلا جاتا رہا وہ آج نئی نسل کے علم میں نہیں۔ بالآخر تعصب کا زہر ہماری کوتاہیوں کی بدولت سقوط ڈھاکہ کا باعث بنا ۔ غیر فطری جغرافیے اور غیر سیاسی طرز عمل کا بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ مشرقی پاکستان نے مسلم قومیت پر بنگالی شناخت کو ترجیح دی۔ بھارتی فوج کی گود میں بیٹھ کر اپنے کلمہ گو مسلمان بھائیوں کے خون سے ہاتھ رنگے۔ بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے کہ بالآخر ہندوستان توڑنے کا بدلہ لے لیا گیا ۔ مسلمان  اب مسلمان  نہ رہا بلکہ بنگالی بن گیا۔ ستر اور اسی کی دہائی میں یہی ہتھیار جی ایم سید اور الطاف حسین کے ہاتھ میں تھما کر ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ہلاکت انگیز کھیل شروع کیا گیا ۔ نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہ نکلا ۔ ایک چیز بہر حال ماضی سے مختلف تھی کہ  آج کا پاکستان جغرافیائی لحاظ سے مشرقی پاکستان کے برعکس باہم متصل ہے۔غیر ملکی آقائوں کے اشاروں پر پاکستان کو نذر آتش کرنے والے فتنہ بازوں کی بھر پور سر کوبی ہو چکی ۔ 
کراچی کی حد تک غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بننے والے سیاستدانوں کا قبضہ ختم کیا جا چکا ہے البتہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں لسانی تعصب کے زہریلے ہتھیار کو نئی دھار لگائی جا رہی ہے۔ مسلمان ریاست ہونا پاکستان کا ایسا جرم ہے جسے ہندوستان کبھی معاف نہیں کرے گا۔ بھارت کے قبضے میں رہ کر بھی کشمیر آج خطے میں دو قومی نظریے کی سب سے نمایاں علامت بن کے جگمگا رہا ہے۔کشمیر قطعاً علاقائی تنازعہ نہیں ۔یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری نظریاتی جنگ کا ایک محاذ ہے۔ بھارت کو لاکھوں کشمیریوں سے نہیں بلکہ کشمیر کی زمین سے دلچسپی ہے۔ارضِ کشمیر پر قبضہ قائم رکھ کر بھارت قیام پاکستان سے پیدا ہونے والی قدیم جلن مٹانا چاہتا ہے۔ پاکستان کو طویل مدت کے لیے غیر مستحکم رکھ کر توڑنا مقصود ہے تاکہ اکھنڈ بھارت کا سپنا پورا کیا جاسکے۔بھارت کے واضح جارحانہ عزائم کے باوجود مغرب زدہ این جی او مافیا اور بھاڑے پر دستیاب دانشور یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ کشمیر ایک علاقائی تنازعہ ہے اور جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ بجا طور پر یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ اگر جنگ کوئی آپشن نہیں تو پھر برسوں سے دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو کیا نام دیا جائے؟ 
کلبھوشن یادیو بھارت کی جانب سے چھیڑی جانے والی جنگ کا مضبوط ترین ثبوت ہے۔ ایل او سی پر تسلسل سے برستے بھارتی گولے،افغانستان کے راستے مغربی سرحد وں پر ہونے والے دہشت گرد حملے  اور کلیدی اہمیت کی حامل وزارتوں پر بیٹھے بھارتی نیتائوں کے دھمکی آمیز بیانات کو سنجیدگی سے پرکھنا چاہیے۔ فی الحال نریندر مودی کا تذکرہ رہنے دیتے ہیں اور بی جے پی کے تین اہم لیڈروں راج ناتھ سنگھ ،امیت شا  اور سبرامنیم سوامی کے بیانات پر نگاہ ڈالتے ہیں ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بڑھک لگائی کہ پاکستان سے مذاکرات نہیں ہوں گے اور اگر ہوئے بھی تو آزاد کشمیر پر بات ہوگی! رکھشا منتری نے یہ کہتے ہوئے ایٹمی حملے کی دھمکی بھی دے ڈالی کہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔  
یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اس  دھمکی کی شکل میں  پاکستان کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کشمیر میں تو ہم نے جو کرنا تھا وہ کر لیا اب تم اپنی خیر منائو! 

بھارت کی ذہنیت سے واقفیت رکھنے والوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ  بھارت ہر قیمت پر پاکستان کو ایک حقیر کیچوے کی طرح بے بس کرنا چاہتا ہے۔ امیت شا برسر عام آسام میں مسلم اکثریت کو ہندو مت کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ سبرامنیم سوامی نے کئی مرتبہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حیرت ہے کہ ایک مخصوص ذہنیت کا حامل طبقہ ایسے کھلے شواہد کی موجودگی میں بھی بطور فیشن یہ ڈائیلاگ دھرا رہا ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دشمن مسلمانوں پر جنگ مسلط کر دے اور نوے لاکھ سے زائد مسلمانوں کو عملی طور پر جیل میں ڈال دے تو کیا پھر بھی جنگ کوئی آپشن نہیں ۔

تازہ ترین خبریں