07:35 am
یوم دفاع

یوم دفاع

07:35 am

مزاحمتی قوت گرتے ہوؤں کوپیروں پرکھڑاکرتی ہے،ڈوبتے ہوؤں کوتیرنے کاحوصلہ دیتی ہے اور ساحل پرلاپٹختی ہے،بیمارکوبیماری سے جنگ میں فتح یاب کر تی ہے(اللہ کے حکم سے ) بجھتے د یئے کی لوبجھنے سے پہلے تیزہوجاتی ہے،کیوں؟شایددیادیرتک جلنا چاہتاہے۔ یہ اس کی مزاحمت ہے۔اندھیروں کے خلاف کبھی کوئی مسافر کسی جنگل میں درندوں کے درمیان گھرجائے توتنہاہی مقابلہ کرتاہے کہ اس کے بغیرکوئی چارہ نہیں ہوتا۔ایک ناتواں مریض جوبسترسے اٹھ کرپانی نہیں پی سکتا،ناگہانی آفت کی صورت میں چھلانگ لگاکر بستر سے نیچے کودسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض میں وہ مزاحمتی قوت موجودتھی جس کااس کو خودبھی اندازہ نہیں تھا۔ خطرے کے احساس نے اس قوت کوبیدارکر دیا۔ یہی وہ قوت ہے جوکمزوروں کوطا قتورسے ٹکرادیتی ہے،کبوترکے تن نازک میں شاہین کا جگرہ پیدا ہو جاتاہے،چیونٹی ہاتھی کے مقابلے میں اترآتی ہے،مظلوم کی آنکھیں قہربرساتی اورسلگتے انگارے شعلہ جوالہ بن جاتے ہیں۔
 
 تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیاوی کامیابی کے حصول کیلئے مزاحمت کمزورپڑکرسردہوجاتی ہے لیکن اگرمزاحمت کے ساتھ’’ایمان باللہ‘‘شامل ہوجائے تو مزاحمت کبھی سردنہیں پڑتی،راکھ میں کوئی نہ کوئی چنگاری سلگتی رہتی ہے جہاں مزاحمتی قوت بیدارہوتویہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے لیکن کیایہ ضروری ہے کہ یہ مزاحمتی قوت اس وقت بیدارہوجب خطرہ حقیقت بن کرسامنے آجائے،جب سرپرلٹکتی تلوارکی نوک شہہ رگ کوچھونے لگے،جب سرحدوں پرکھڑے مہیب اوردیوہیکل ٹینکوں اورطیاروں کی گڑگڑاہٹ سڑکوں اورچھتوں پرسنائی دینے لگے،جب ڈیزی کٹر،کروز اورٹام ہاک بم بارش کے قطروں کی طرح برسنے لگیں ،جب بہت کچھ ’’گنواکر‘‘ کچھ بچانے کیلئے ہم مزاحمت پراترآئیں گے؟
پا کستانی ذمہ داروں نے پہلی مرتبہ خطرہ کو درحقیقت’’دوچارلب بام‘‘سمجھنے کی بجائے انتہائی مناسب جواب دے کرساری قوم کے دل جیت لئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم لڑے بغیرہی شکست تسلیم کرلیتی ہے تویہ جسمانی نہیں ذہنی پسپا ئی ہوتی ہے۔ایسی قوم کوجسمانی طورپرزیرکرنے کیلئے دشمن کوزیا دہ مشکل نہیں اٹھانی پڑتی۔ہلاکو خان کی فوجیں کھوپڑیوں کے مینار ہی نہیں تعمیرکرلیاکرتی تھیں ۔  صلاح الدین ایوبی نے جب’’ملت اسلامیہ‘‘ کانام لیاتوایک غدارفوجی افسرطنزیہ مسکرااٹھا،کون سی ملت اسلامیہ؟یہ ذہنی پسپائی کی سب سے گری ہوئی شکل تھی کہ ایک دیوہیکل انسان اپنے ہی وجودسے انکاری تھا لیکن صلا ح الدین ایوبی نے مز احمت کی قوت کے ساتھ ایمان کوجمع کرکے خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے بعدبیت المقدس نا پاک ہا تھوں سے چھین لیا۔
آج ہمیں ثابت قدمی سے میدان میں کھڑادیکھ کرہما را دشمن پہلے سے بڑھ کرمصیبت مول لے چکاہے۔ایک یقینی شکست کے امکان کے باوجود محض دنیاپرظا ہری غلبے کی خواہش نے اسے ایک  ایسی دلدل میں اتاردیاہے جہاں اگلا قدم اس کی ظاہری شان وشوکت اورمصنوعی ہیبت کاجنازہ نکال کررکھ دے گا۔ کیاہم نے کبھی سوچاہے کہ ہمیں گھروں میں بیٹھے ہیبت زدہ کرنے کی ناکام کوشش کے بعد وہ سارے لاؤلشکرکے باوجود زیادہ خوفزدہ ہے۔اس کی چڑھائی میں شیرجیسی بے جگری نہیں بلکہ لومڑی جیسی عیاری ہے۔اب وہ ہمیں دیوارسے لگانے کیلئے پس پردہ دوسرے اقدامات کرنے سے بازنہیں آئے گایعنی ہمیں سیاسی اورمعاشی فتنوں میں مبتلاکرے گا پس آج ہمیں اپنی مزاحمتی قوت کوسمجھنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد’’ایمان‘‘ہے اوراس قوت کومضبوط کرنے والی قوت’’اللہ کی نصرت‘‘ہے اوراللہ کی نصرت کیلئے اس کی مکمل حاکمیت کاعملی اعلان کرنا ہوگا ۔ 
جب مومن اپناسب کچھ لگادیتاہے تومزاحمت میں اللہ کی نصرت نازل ہوکراس کوکامیابی سے ہمکنارکرتی ہے۔ تاریخ اسلام کے صفحات پرایسی روشن مثالیں ان گنت تعدادمیں جگمگارہی ہیں جب نہتے مسلمانوں کی مزاحمت نے وقت کے فرعونوں کو زخم چاٹنے پرمجبورکردیا۔آج بھی دنیابھرمیں مزاحمتی تحریکیں پوری شان سے جا ری ہیں۔پتھرنے ٹینک سے شکست نہیں کھائی،دنیادیکھ رہی ہے کہ معمولی ہتھیاروں سے جدیدٹیکنالوجی کامقابلہ جاری ہے۔ جتناظلم بڑھتاجارہاہے اتنی ہی شدت سے مزاحمت بڑھتی جارہی ہے لیکن کیامزاحمت کی صرف ایک ہی صورت ہے؟جب کوئی جابروقت اپنے لشکروں کے زعم میں کسی قوم پرچڑھ دوڑتاہے توہرمظلوم ہاتھ میں ہتھیاراٹھا لیتا ہے۔ یہ یقینی امرہے کہ ایسے وقت میں بغیرمزاحمت کے کشمیریوں کونسل کشی سے نہیں بچایا جا سکتا جو ہما ری مزاحمتی قوت کے شدت سے منتظرہیں۔ یہ ڈوب رہے ہیں ان کوساحل پرکھینچ لانے کیلئے بھرپورتوانائیوں کی ضرورت ہے۔آج وہ خطرناک مرحلہ آچکاہے جب نحیف ونزارمریض زندگی کی ڈورسلامت رکھنے کیلئے اس پوشیدہ قوت پرانحصار کرتاہے جواس کے جسم میں بجلی کی سی طاقت بھر دیتی ہے۔گونگے، بہرے اوراندھے بھی اس نازک دورکی شدت سے کچھ کرگزرنے کو تیارہوجا ئیں توجن کواللہ نے تما م ترتوانائیوں سے نوازرکھاہے ان کواپنی صلاحیتوں سے بھرپورفائدہ اٹھانے سے کس نے روک رکھاہے؟
مسلمانان پا کستان نے آج اپنی  طاقت کے اس رازکوپالیااوراس کوپختہ کرلیاتویہ وہ مورچہ ہے جس میں پناہ لینے والوں کیلئے دائمی فتح کی خوشخبریاں ہیں۔ مزاحمت ایمانی قوت  سے مشروط ہے،اس کو کھو دیا توسب کچھ چھن جائے گا! یاد رکھیں ’’ اللہ کوپاکرکبھی کسی نے کچھ نہیں کھویااوراللہ کوکھوکرکبھی کسی نے کچھ نہیں پایا‘‘یہی ہمارے یوم دفاع کابہترین پیغام ہے۔  

تازہ ترین خبریں