07:37 am
عوام حکومت کی، کشمیر اور اسرائیل پالیسی پر نظر رکھیں

عوام حکومت کی، کشمیر اور اسرائیل پالیسی پر نظر رکھیں

07:37 am

شدید عوامی ردعمل کے بعد تحریک انصاف کی تبدیلی مارکہ حکومت نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے دوسو ارب سے زائد رقم معاف کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا، سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس یوٹرن پر حکومت کی تعریف کی جائے یا پھر تنقید؟ اسے عمران خان کی خوش قسمتی ہی سمجھا جائے کہ انہوں نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت لیا تھا وگرنہ ان کا ایک سالہ دور حکومت پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے تباہ کن ہی ثابت ہوا۔
مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ عمران خان کی زبان پر ریاست مدینہ کا دعویٰ لیکن ان کے عملی حکومتی اقدامات اس کے بالکل برعکس ہیں۔
کشمیر اور بھارت کے حوالے سے عمران خان کے بیانات کو عوام محض زبانی جمع خرچ قرار دے رہے ہیں  اور اگر کوئی پی ٹی آئی کا ورکر حکومت مخالف شخص سے بحث کرتا ہے تو وہ تڑلے سے ’’یوتھیے‘‘ سے سوال داغ دیتا ہے کہ جس بھارت نے سوا کروڑ سے زائد کشمیری مسلمانوں  کا دانہ پانی بند کررکھا ہے عمران خان حکومت نے اس بھارت سے دوائوں کی برآمدات پر پابندی کیوں ختم کی؟
7 اگست کو پاکستان نے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدہ کرکے9 اگست کو بھارت کے ساتھ اگر تجارت بند کی تھی تو اس کی وجہ5 اگست کو بدمعاش مودی کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا تھا، عوام پوچھتے ہیں کہ اب جو بھارت  سے دوائوں کی درآمدات پر پابندی ختم کی ہے تو کیا نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کو دوبارہ بحال کرکے وہاں سے کرفیو ختم کر دیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر بھارت سے دوائوں کی درآمدات سے پابندی ختم کرکے حکومت بھارت کے معاملے پر عوام کی نگاہوں میں مزید مشکوک ہوگئی ہے۔
بھارت کا کشمیر کے مسلمانوں پربے پناہ  مظالم ڈھانا اور عمران خان حکومت کا بھارت کے ساتھ تجارت پرلگی ہوئی پابندی ہٹانا یہ بات کچھ جچ نہیں رہی، گو کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں کہہ دیا ہے کہ ’’کشمیر پر کوئی ڈیل ہوئی نہ ہونے دیں گے، پاک فوج کے بہادر جوان  تیار اور بے تاب ہیں، اسرائیل کے بارے میں اپنے موقف پہ قائم ہیں، حملہ بھارت کرے یا اسرائیل بھرپور جواب دیں گے، یہ باتیں نہات خوش آئند ہیں۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ اسرائیلی کمانڈوز سال ہا سال سے بھارتی فوج کے ساتھ مل کر کشمیری مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں، ماہ فروری میں جب بھارت پاکستان کے بعض شہروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا تب بھی اسے اسرائیل کی  مدد حاصل تھی جو اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر  کشمیری مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، جو اسرائیل بھارت کی ہمنوائی میں پاکستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بناچکا ہے، اس اسرائیل کو پاکستان میں تسلیم کرنے کی باتیں کس نے کیں؟ قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کی ایک خاتون  رکن اسمبلی نے اسرائیل اور بیت المقدس کے حوالے سے جو متنازعہ تقریر کی وہ تقریر کس کے ایما پر تھی؟ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کی تعریف و توصیف کے  حوالے سے عوام نے رائے نہیں دی بلکہ یہ مہم پی ٹی آئی کے ایک سیکٹر کی طرف سے جان بوجھ کر چلائی گئی، پھر اس مہم نے  اس قدر زور پکڑا کہ عوام کو  گمان ہونے لگا کہ جیسے عمران خان کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہی ہے، اللہ  پاک فوج کے ترجمان کو جزائے خیر دے کہ جنہوں نے اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے روائتی موقف پر کھڑے رہنے کے عمل کو دہرا کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی  بے چینی کی فضا کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ اسمبلی کے فلور پر اسرائیل اور بیت المقدس کے حوالے سے متنازعہ گفتگو کرکے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والی خاتون رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کرتی؟
تحریک انصاف کی حکومت سے پاکستان جیسا مقدس گھر سنبھالا نہیں جاتا لیکن اس کے  اراکین باتیں اسرائیل کی کرتے ہیں، حکمران کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستانی عوام کوئی بھیڑ بکریاں ہیں کہ وہ انہیں جدھر چاہیں ہانک لیں گے؟ عوام کی حکومت کی کشمیر پالیسی اور اسرائیل پالیسی پر مکمل نظر ہے اگر پاکستانی عوام کو کشمیر، اسرائیل پالیسی اور پاکستان کے موقف میں بڑھتا ہوا تضاد نظر آیا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔

تازہ ترین خبریں