07:37 am
بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب

بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب

07:37 am

1950ء میں بھارتی دستور میں شامل ہونے والی دفعہ  15کے مطابق ’’ریاست کسی شہری سے مذہب، نسل، ذات، صنف، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی بھی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتے گی۔‘‘ 
مطالبۂ پاکستان کے خلاف کانگریس اور بھارت کا استدلال یہ تھا کہ ہندوستانیوں میں مسلم قومیت جیسی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ تمام ہندوستانی چاہے وہ کسی بھی ذات، جنس یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ہندوستانی قوم کا حصہ ہیں اور سیکیولر ریاست کی نظر میں سب برابر حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان یا کسی اور نام سے علیحدہ ریاست کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تقریباً نصف آبادی نے کانگریس کے اس وعدے پر اعتبار کرلیا،ان کی قیادت جواہر لعل نہرو کے قریبی دوست ابوالکلام آزاد کررہے تھے۔ شیخ عبداﷲ بھی نہرو کے قریبی دوست تھے اور انہی کی وجہ سے کشمیری مسلمان بھی ہندوستانی قوم میں اپنی قبولیت کے امکانات پر یقین رکھتے تھے۔ دونوں مسلمان رہنما آزاد اور شیخ عبداﷲ کو جلد ہی اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا۔ 1950کی دہائی تک ان دونوں رہنماؤں پر آشکار ہوگیا کہ ہندوستان کی آزادی کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھتے رہے اور کانگریس نے ان سے عہد شکنی کی۔ مایوسی کے عالم میں آزاد کا انتقال 1958ء میں ہوا، بھارت کے بارے میں اپنے اوہام کا انہوں نے کبھی براہ راست اعتراف نہیں کیا۔ 1992ء میں ان کے ایک قریبی دوست نے کہا کہ ’’آزاد دل شکستہ دنیا سے رخصت ہوئے‘‘۔ شیخ عبداﷲ کو ان کے دوست نہرو نے دس برس تک اس لیے جیل میں رکھا کہ انہوں نے اس پر آواز اٹھائی تھی کہ دہلی نے کشمیر کو وہ خودمختاری نہیں دی جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ 
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت دعوے دار ہے کہ وہ اپنے دستور کے مطابق  شہریوں کو آزادی اور حقوق فراہم کرتی ہے۔ ممکن ہے کہ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والوں کے حالات میں کوئی بہتری آئی ہو تاہم اقلیتوں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔حالات اسی نہج پر ہیں جیسے  1950ء کی دہائی میں کانگریس کی حکومت کے دوران تھے۔ 1980ء کے بعد دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے عروج کے بعد سے اقلیتوں کے احساس محرومی میں شدت پیدا ہوئی اور بابری مسجد کے سانحے نے بھارت میں مذہبی تقسیم کو مزید گہرا کردیا۔ ہر گزرتے برس کے ساتھ بھارت میں مسلمانوں کی سماجی و معاشی محرومیوں میں اضافہ ہوتا گیا ، 2006ء میں سچر کمیٹی اور 2007ء میں مشرا کمیشن کی رپورٹ میں جس سے متعلق تفصیلی حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ان دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نے دوسری مذہبی برادریوں کے مقابلے میں کس طرح انہیں سماجی و اقتصادی اعتبار سے محرومیوں اور پسماندگی کی کھائی میں دھکیل دیا ہے۔ پالیسی سازی کی سطح پر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالات کی سنگینی میں اضافے کے سوا اور کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔بالخصوص 2014ء میں بی جے پی کی انتخابات میں کامیابی اور مریم  نواز کے انکل مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کی بیگانگی میں اضافہ ہوا۔ حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی شریک اقتدار ’’سنگھ پریوار‘‘  کی تنظیموں نے مذہبی اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ٹھوس بنیادوں پر مہم کا آغاز کیا۔’’اوپن ڈور‘‘ جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف حملوں میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا اور صورت حال انتہائی تشویش ناک ہوچکی ہے۔ اوپن ڈور کی رپورٹ میں ان واقعات کے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد مسیحیوں، مسلمانوں اور قبائلی دلتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس مہم میں ’’لوو جہاد‘‘ کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے جس میں مسلمان مَردوں پر باقاعدہ سازش کے تحت  تبدیلی مذہب کی خاطر ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسانے کے الزامات عائد کرکے ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔ اسی طرح مسلمانوں اور مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کروانے کے لیے ’’گھر واپسی‘‘ کے عنوان سے مہم چلائی گئی جبکہ تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے یک طرفہ قوانین بنائے گئے۔
بھارت میں مسیحیوں کے حالات بھی اچھے نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں بسنے والے ساڑھے چھ کروڑ مسیحی سوا ارب کی آبادی کے ملک میں جن ہولناک حملوں کا سامنا کرچکے ہیں رپورٹ میں ان پُرتشدد واقعات کے ’’محرکات‘‘ ہندوتوا نظریات رکھنے والی تنظیموں اور تبدیلی مذہب کے خلاف بھارتی قوانین کو بتایا گیا ہے۔ متعدد بھارتی ریاستوں نے ایسے نام نہاد ’’آزادی مذہب‘‘ کے بل منظور کررکھے ہیں جو بنیادی طور پر مسیحیت قبول کرنے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اوڑیسہ پہلی ریاست ہے جس میں سب سے پہلے ایسا ہی ایک قانون ’’اوڑیسہ آزادیٔ مذہب ایکٹ،1967ء ‘‘ کے نام سے متعارف کروایا گیا۔ 1968ء میں مدھیہ پردیش اور 1978ء میں اروناچل پردیش نے بھی ایسے ہی قوانین بنائے۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں