07:38 am
یوم شہدا…حکومت کے 27 مراسلے!

یوم شہدا…حکومت کے 27 مراسلے!

07:38 am

٭6 ستمبر، یوم شہدا کی تقریبات! ’’ہم تیار ہیں‘‘، عمران خان، جنرل باجوہ! وزیراعظم مظفرآباد میں27Oنافرمان وزارتیں! وزیراعظم برہمO رحیم یار خاں، صلاح الدین قتل کیس لٹکانے کے لئے جوڈیشل کمیشن!O ’’مضبوط حکومت!‘‘ ایک دن آرڈی ننس اگلے دن واپس!!O سعودی، امارتی وزرائے خارجہ کی کشمیر کاز کی حمائتO رواں سال، پولیس تشدد، 19 افراد ہلاک، کسی پولیس والے کو کوئی سزا نہیں۔
٭6 ستمبر ہر سال آتا ہے، گزر جاتا ہے، اس بار مختلف رنگ میں آیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم کی انتہا ہو چکی ہے۔ کرفیو کو ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے! پورے کشمیر کو جیل بنا دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں مذمت ہو رہی ہے۔ ہر وقت بھارت سے بغل گیر، ہم نوالہ و ہم پیالہ سعودی عرب اور عرب امارات بھی کشمیر کی حالت زار پر دکھ کے اظہار پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان دونوں ملکوں نے جس طرح فرعون مزاج بھارتی وزیراعظم کو گلے لگایا اور اپنے اعلیٰ ترین اعزازات دیئے، اس پر پاکستان میں جو شدید ردعمل سامنے آیا، اسے یہ لوگ نظر انداز نہیں کر سکے۔ آج عرب امارات میں 12 لاکھ اور سعودی عرب میں 20 لاکھ پاکستانی کام چھوڑ کر واپس آ جائیں تو پاکستان کو تو جو معاشی نقصان ہو گا، مگر ان ممالک کی معیشت جس طرح ٹھپ ہو جائے گی، اس کا احساس ہوا تو پھر ان کے وزرائے خارجہ پاکستان آ کر چکنی چُپڑی باتوں سے پاکستانی عوام کو رام کرنے پر مجبور ہو گئے۔ مگر پاکستان آ کر بھی بھارت کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہا، صرف اسلامی اخوت یاد آتی رہی۔لیکن باقی عرب ممالک کہاں ہیں؟ کسی کے منہ سے کشمیر کا لفظ نہ نکل سکا! ہر ملک ڈالروں کا غلام، امریکہ سے ڈالرقرض لے کر یورپی ساحلوں پر محل بنا لیتے ہیں۔ کسی کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں۔ اب تو سعودی عرب میں بھی سینما گھر اور ناچ گھر کھل گئے ہیں! ذہن بھاری ہو رہا ہے، یہ باتیں یہیں ختم!
٭حکمرانی کا کھیل تماشا! ایک روز ایک آرڈی ننس جاری ہوا کہ پسندیدہ سرمایہ داروں، صنعت کاروں کو عوام کے خون پسینے سے کمائے ہوئے دو کھرب آٹھ ارب روپے بطور بخشیش دیئے جا رہے ہیں۔ ملک میں شور اٹھا اور حکومت ڈانواں ڈول ہونے لگی تو فوراً آرڈی ننس واپس لے لیا! اور کیسی حکمرانی کہ وزیراعظم اس آرڈی ننس سے لاعلم تھا! نوازشریف کے دور میں چار سال تک کوئی وزیر خارجہ نہیں، ایک 90 سالہ مشیر وزارت خارجہ کو چلاتا رہا۔ اُس دور میں کشمیر کا نام تک نہ لیا گیا اور وزیراعظم بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری میں نریندر مودی سے جپھیاں ڈالتا رہا پھر پاکستانی وزیراعظم کی محبت میں مبتلا یہی نریندر مودی ایک بھارتی شال لے کر لاہور میں شریف خاندان کے گھر جاتی عمرا میں اتر آیا…جس روز جاتی عمرا میں جپھیاں ڈالی جا رہی تھیں، اس روز بھی آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ جاری تھی۔ چلیں، شریف خاندان نے جو کیا اس کا خمیازہ وہ بھگت رہا ہے مگر موجودہ حکومت!! کوئی وزیر خزانہ اور وزیراطلاعات ہی نہیں! اپنی حکومت کے دو سو سے زیادہ پارلیمانی ارکان میں سے ایک بھی شخص وزیرخزانہ یا وزیر اطلاعات بننے کا اہل نہ پایا۔ وزارت خزانہ کو مانگے تانگے کا ایک غیر منتخب مشیر اور وزارت اطلاعات کو ایک غیر منتخب معاون خصوصی (مشیر بھی نہیں!) چلا رہی ہے۔ جو صبح و شام پریس کانفرنس کے نام سے اپنی رٹی رٹائی ٹیپ چلا دیتی ہے، ’’عمران خاں زندہ باد‘‘!
٭ بات چھ ستمبر کی ہو رہی تھی۔ اس دفعہ رات کے بڑے جلسے کی بجائے دن کی روشنی میں جی ایچ کیو میں صرف شہدا کے لواحقین کے ساتھ تقریب رکھی گئی اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے ولولہ انگیز تقریر میں بھارت کو پھر پیغام دیا کہ ہم تیار ہیں! وزیراعظم عمران خاں ایک ماہ کے اندر دوسری بار مظفر آباد پہنچ گئے اور…اور مولانا فصل الرحمان نے اگلے ماہ اسلام آباد فتح کرنے کے لئے مختلف کمیٹیوں کا اعلان کر دیا۔ مولانا 10 سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، کبھی کنٹرول لائن پر نہ گئے! مظفر آباد صرف ایک بار اپنی پارٹی کے کنونشن کے سلسلے میں گئے! کشمیر کے ساتھ تعلق اس حد تک رہا کہ کشمیر کمیٹی کو ہر سال پانچ کروڑ روپے کے فنڈز ملتے تھے…میں یہ ذکر چھوڑ رہا ہوں، ورنہ پھر ڈنڈوں، لاٹھیوں کی دھمکیاں شروع ہو جائیں گی (وہ تو اب بھی آئیں گی!)
٭رحیم یار خان اور لاہور میں پولیس نے دو روز میں دو زیر حراست افراد پر انتہائی ظالمانہ تشدد کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔ ان واقعات کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چلا ہے۔ کسی پولیس والے کو کوئی سزا کوئی برطرفی، کچھ نہیں ہوا۔ چند رسمی معطلیاں، ایک آدھ گرفتاری اور بس! یہ معطلیاں، دکھاوے کی ہوتی ہیں۔ چند روز تک پھر سب بحال ہو جائیں گے۔ مجھے ناروے سے ایک عزیز نے پوچھا ہے کہ کسی وزیر یا پولیس کے حاکم نے اس بربریت پر کوئی استعفا دیا؟ میں کیا جواب دیتا؟ عالم تو یہ ہے کہ رحیم یار خاں کا اعلیٰ پولیس افسر کہہ رہا ہے کہ پولیس نے بالکل کوئی تشدد نہیں کیا، ملزم کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وہ چل بسا۔ (خود ہی جسم پر جگہ جگہ گہرے زخم لگائے تھے اور خود ہی ہارٹ اٹیک کر لیا تھا!!)۔ اس آدم خور قسم کے افسر نے وضاحت نہیں کی کہ ملزم کو ہارٹ اٹیک کیوں ہوا تھا؟ یہ عجیب بات ہے کہ کسی ملزم کو تھانے میں پہنچتے ہی ہارٹ اٹیک ہو جاتا ہے۔ پولیس کے اس افسر کا نام عمر حیات بتایا جاتا ہے! عمر حیات، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رواں سال آٹھ ماہ چار دنوں کے دوران پنجاب میں پولیس کے نجی ٹارچر سیلوں میں زیر تفتیش 19 بے بس قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں لاہور میں 6 شیخوپورہ میں کامونکی کے ذیشان سمیت 5 ،قصور میں تین، ساہیوال میں 3 اور رحیم یار خاں میں ایک قیدی شامل ہیں۔ یہ صرف رواں سال کی تعداد ہے۔ آج تک کسی ایک پولیس والے کو کوئی سزا نہیں ہوئی اور اس کے جتنے لوگ معطل ہوئے، سب چند روز میں نہ صرف بحال ہو گئے، بعض کو ترقیاں بھی مل گئیں۔ اِنا لِلّٰہ وانا الیہ راجعون!!
٭بات رہ گئی کہ وزیراعظم نے 27 نافرمان وزارتوں کے سیکرٹریوں کو مختلف احکام کی عدم تعمیل پر ریڈلیٹر جاری کر دیئے ہیں۔ ریڈلیٹر سخت کارروائی کا آخری  انضباطی مراسلہ ہوتا ہے۔ اس سے حکمرانی کے رعب داب اور قابل قبول ہونے کا اندازہ ہوتا ہے مگر جس حکومت میں چار چار ’وزرائے خارجہ‘ خارجی امور پر ہدائت نامے جاری کر رہے ہوں، ہر وزیر، ہر دوسرے وزیر کا تمسخر اڑا رہا ہوں، اطلاعات اور خزانے کا کوئی وزیر ہی نہ ہو، 17 مشیر ہوں، کسی کو پتہ ہی نہ ہو اس نے کیا کرنا ہے! ایسی صورت حال میں پہلے سے مکمل آزاد، خود مختار بیورو کریسی (اکٹھی 27 وزارتیں!) وزیراعظم کو کیا اہمیت دے گی؟ ان افسروں کو ریٹائر ہونے کے بعد اسلام آباد میں دو دو پلاٹ مل جاتے ہیں، ایک بیچ کر دوسرے پر کوٹھی بنا لو، انہیں کوئی کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پہلے حکومت کا نظام تو ٹھیک کرو!
٭دوائی کی دکان میں مائوتھ واش (منہ میں جراثیم کش دوا) خریدنے کیلئے گیا۔ کچھ عرصہ پہلے 85 روپے میں چھوٹی بوتل خریدی تھی۔ دکان دار کے سامنے 85 روپے رکھے۔ وہ ہنسا کہ جناب 185 روپے کی ہو گئی ہے، 100 روپے اور دیں۔ میرے سامنے اخبار میں لکھا ہے کہ 250 روپے کلو والی مسور کی دال میں 100 روپے کا اضافہ ہو گیا اب 350 روپے کلو مل رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی خبر ہے کہ یوٹیلٹی سٹور نے چینی کی قیمت میں مزید پانچ روپے کا اضافہ کر دیا ہے، اب 80 روپے کلو (بازار میں 85 روپے) ملے گی۔ چوتھی خبر کہ بجلی کی قیمت میں مزید ایک دوپہر 78 پیسے فی یونٹ اصافہ منظوری دے دی گئی ہے…میرے خدا! میرا بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے! کالم ختم!
٭دنیا بھر میں اس وقت مختلف سابق صدور، وزرائے اعظم اور ان کے اہل وعیال کرپشن کے الزام عدالتوں اور قید خانوں میں عذاب بھگت رہے ہیں۔ تازہ ترین مثال ہونڈراس کے سابق صدر فیرولوبو کی اہلیہ الینا بونیلا کو بھاری کرپشن کے الزام میں 58 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس نے قومی خزانے سے 6 لاکھ ڈالر اپنے نام منتقل کرائے تھے! صرف چھ لاکھ ڈالر!! ہمارے ہاں لوٹ مار کے مقابلے میں تو یہ رقم کچھ بھی نہیں!

تازہ ترین خبریں