10:53 am
کشمیر لہو کی ہولی کا میدان....!

کشمیر لہو کی ہولی کا میدان....!

10:53 am

لہو کی ہولی ،مسلمانوں کے لہو کی ہولی،کشمیر لہو کی ہولی کا میدان بنا ہے ،مسلمان بچے ،بوڑھے اور جوان ، گاجر مولی کی طرح  کاٹے جا رہے ہیں ،جوان کیا ننھی ،معصوم بچیوں تک کی عصمتیں تار تار کی جارہی ہیں ،عزتیں پامال کی جا رہی ہیں۔
 
عالمِ کفر چپ کی چادر تان رکھی ہے،عالمِ اسلام کی مداہنت دیدنی ہے۔یہ حمیت نہیں مفادات بچانے کا دور ہے۔پوری اُمہّ کے امتحان کا بوجھ کشمیر کے مسلمانوں کے کندھوں پر ہے ،اللہ کے عدل کی زنجیر استغفار سے ہِلے گی۔ناں کہ عربوں کی امداد سے،خونِ مسلم کبھی رائیگاں نہیں گیا۔عالمِ اسلام کی خموشی ایک طرف ،عالمِ کفر پر بھی سکوت طاری ہے ،اسے خبر ہے ، خلوصِ نیت کے ساتھ کوئی ایک محمد بن قاسم بھی نکل کھڑا ہوا تو چاروں کھونٹ فتح کے پھریرے لہرا دیگا ۔
یہ حکمرانوں کے وزیر بے تدبیر آدھا گھنٹہ کھڑے رہنے کے درس سے کیا باور کرانا چاہتے ہیں ؟ کیا مصائب و آلام کے حالات میں اسلام اسی عمل کی دعوت کا تقاضہ کرتا ہے؟ ریاستِ مدینہ ایسے مشکل حالات سے کبھی نہیں گزری تھی؟ 
عقل پر پردے پڑ گئے ہیں ان نابغوں کی جو کپتان کے گرد جمع ہیں ،جنہیں پی ٹی آئی کے سال بھر کی حکمرانی کے دوران  ایک صائب مشورہ بھی وزیر اعظم عمران خان کو دینے کی توفیق نہیں ہوئی کہ اس افلاطون کی اپنی عقلِ کل اوجِ ثریا پرپناہ گزین ہے ،زمین پر تو دیکھ ہی نہیں پاتی کہ جن افتادگانِ خاک نے اسے اس بلندی تک پہنچایا وہ نانِ جویں کو ترستے ہیں زمام ِ اقتدار ہاتھ آنے کے بعد کوئی تو ایسا فیصلہ ہو جو کر پائے ہوں ۔اب کشمیر پر بھی سیڑھی اور سانپ کا کھیل کھیل رہے ہیں، پانچ اگست سے پانچ ستمبر کے ایک ماہ میں کیا پیش رفت ہوئی ہے کشمیری مسلمانوں کے لہو کی ہولی روکنے کی راہ میں؟کبھی جو ڈی چوک پر کنٹینر کے آگے ناچتے اور رقص کرتے تھے ،آج فیس بک اور ٹویٹر پر دھمال ڈالتے دکھائی دیتے ہیں ،کوئی  فکر ،نہ نظریہ ،بس ہر بات کا جواب گالی میں یا تہذیب کے دائرے سے باہر ۔کیا  زمانے  میں  پنپنے  کی  یہی  باتیں  ہیں  ؟
اب تو وزراء کے نافرمان ہونے کی خبر بھی منصہ شہود پر آگئی ۔کیا رہ گیا ہے وزیر اعظم کے پاس ،وہ جو مولانا راز چھپائے ہوئے ہیں یہی تو نہیں کہ اوپر والے بے خبر وزیر اعظم کی لیاقت سے نالاں ،بساط لپیٹنے کے درپے۔سو کپتان اور اس کی ٹیم  کو اپنی فکر دامن گیر ،مسئلہ ان کے لئے نہیں رہا کشمیر ،پاکستان کا مسئلہ تو یہ ہے ہی نہیں ،یہ تو مسلمان بہو بیٹیوں کی عزت کا مسئلہ ہے ،جو ہرکلمہ گو ،جہاں کا بھی باسی ہو ،جس ذات ہو ،جس گروہِ انسانی کا اسے اس پر چپ نہیں رہنا چاہیئے،کہ اس سے بڑھ کر مداہنت اور بے حمیتی کیا ہوگی۔
ہنسنے کی رُت نہیں ورنہ اس بے اعتنائی پر قہقہے نچھاور کرتے کہ ملک کی وزراتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز شخص کو اتنی بھی خبر نہیں۔ ملازمین کی ترقیوں اور ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں کی تفصیلات کیا ہیں؟اور جسے اپنے ملک کے لوگوں کی حالت زار کاعلم نہ ہو ،وہ مقبوضہ علاقوں پر کیا نظر رکھتا ہوگا۔اس پر مستزاد ملک کے کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر ہیں جو  ہلاکتوں کے منڈلاتے بادلوں کی فکر سے ماورا اس سوچ میں غلطاں کہ ’’پیرول اور بروبیشن بل ‘‘ کا نفاذکس ترجیح پر رکھا جائے‘اور ہم بے چارے ،ترجیحات و ترغیبات کی سان پر چڑھے عوام جن پر مہنگی بجلی کا بم گرانے کی منظوری دے دی گئی ہے ،جو چوبیس ارب ساٹھ کروڑ کا اضافی بوجھ اٹھا کے جینے پر مجبور ہونگے۔اوپر سے وزیر اعظم کا یہ بھاشن کہ’’کاروبارمیں آسانی کے لئے غیر ضروری ضابطے ختم کئے جائیں ‘‘ سوچیں تو یہ کس کے حق کی بات کی ہے۔!
مقبوضہ کشمیر لہو کی ہولی کا میدان بنا ئے جانے کی بات ابھی بیچ میں ہے ۔سرکارایک طرف جنگ کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا بیان کہ’’بھارت سے تکنیکی مذکرات مکمل ، نومبر میں کرتار پور راہداری کھول دینگے۔یہ سب جاری ہے تو جنگی جنون کا کھلواڑ کیسا،کیوں لوگوں میں سراسیمگی پھیلائی جارہی ہے ۔ عوام کو اندھیروں میںکیوں رکھا جارہا ہے ۔کیا اس امر سے وزیر اعظم آگاہ ہیں یا اس سے بھی نا بلد ؟ یہ بجا کہ کائنات کا نظام وہ چلارہا ہے جو خداہے،مگر اس نے اپنے بندوں کے ذریعے جنہیں اقتدار بخشا ہے ، اختیار ودیعت کیا ہے ۔وہ کس کام میں لگے ہیں ’’ انہیں  خبر  ہے  ہمارے  اندر  ہر  ایک  منظر  بچشمِ تر ہے‘‘
وہ جن سے معیشت تک سنبھالی نہیں جا رہی ،وہ لہوکی ہولی کو کیسے روک سکتے ہیں۔دنیا کی دوسری سپر پاور سویت یونین کی معیشت ہی تو نامضبوط تھی جس نے اس کو اپنے اندر لخت لخت کردیا۔!

تازہ ترین خبریں