10:56 am
بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب 

بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب 

10:56 am

 
(گزشتہ سےپیوستہ)

اوپن ڈور کی رپورٹ میں ان واقعات کے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد مسیحیوں، مسلمانوں اور قبائلی دلتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس مہم میں ’’لوو جہاد‘‘ کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے جس میں مسلمان مَردوں پر باقاعدہ سازش کے تحت  تبدیلی مذہب کی خاطر ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسانے کے الزامات عائد کرکے ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔ اسی طرح مسلمانوں اور مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کروانے کے لیے ’’گھر واپسی‘‘ کے عنوان سے مہم چلائی گئی جبکہ تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے یک طرفہ قوانین بنائے گئے۔
بھارت میں مسیحیوں کے حالات بھی اچھے نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں بسنے والے ساڑھے چھ کروڑ مسیحی سوا ارب کی آبادی کے ملک میں جن ہولناک حملوں کا سامنا کرچکے ہیں رپورٹ میں ان پُرتشدد واقعات کے ’’محرکات‘‘ ہندوتوا نظریات رکھنے والی تنظیموں اور تبدیلی مذہب کے خلاف بھارتی قوانین کو بتایا گیا ہے۔ متعدد بھارتی ریاستوں نے ایسے نام نہاد ’’آزادی مذہب‘‘ کے بل منظور کررکھے ہیں جو بنیادی طور پر مسیحیت قبول کرنے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اوڑیسہ پہلی ریاست ہے جس میں سب سے پہلے ایسا ہی ایک قانون ’’اوڑیسہ آزادیٔ مذہب ایکٹ،1967ء ‘‘ کے نام سے متعارف کروایا گیا۔ 1968ء میں مدھیہ پردیش اور 1978ء میں اروناچل پردیش نے بھی ایسے ہی قوانین بنائے۔ 
اوڑیسہ اور مدھیہ پردیش کے یہ قوانین آئین کی دفعہ 25کی بنیاد پر ہائی کورٹ میں چیلنج کیے گئے۔ بھارتی دستور کی یہ دفعہ نظم و نسق، اخلاق اور صحت کے بارے میں ہے اور اس کے مطابق ہر فرد شعور کی آزادی اور مذہبی عقائد اختیار کرنے  اور ان کی تبلیغ کا حق رکھتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے تبدیلی مذہب کے مخالف قوانین کی حمایت ان الفاظ میں کی’’جو کسی ایک کے لیے آزادی ہے وہی دوسرے کے لیے بھی آزادی ہونی چاہیے، تاہم اپنے مذہب کو تبدیل کرنے کو کسی فرد کے بنیادی حقوق میں شمار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اپنے ہی دستور کی دفعہ 25کے متن اور مفہوم سے متصادم ہے جو کہ مذہبی تبلیغ کی اجازت بھی دیتی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد مزید بھارتی ریاستوں نے ایسے قوانین منظور کیے مثلاً اگست 2006ء میں چھتیس گڑھ اسمبلی نے ایسا ہی ایک قانون منظور کیا جس میں تبدیلی مذہب  کے لیے تیس روز کا نوٹس دینا ہوگا اور اس کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ 
اس کے بعد سے اقلیتوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوا اور بالخصوص انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی اور وزیر اعظم مودی کے دوبارہ انتخاب سے حالات مزید گھمبیر ہوگئے ہیں۔ رواں سال جون میں جرمنی کے ریاستی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے میں ایک مضمون شائع ہوا جس کے مطابق مودی سرکار کے دور میں اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا۔اس میں ایک فرد کے ہجوم کے ہاتھوں تشدد سے قتل کی ویڈیو کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو بھارتی سوشل میڈیا پر پھیلی  اور بھارتی مسلمانوں کو اس سے گہرا صدمہ پہنچا۔ 
اس ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ہندو انتہا پسندوں نے مشرقی ریاست جھاڑ کھنڈ میں 22سالہ تبریز انصاری کو ایک کھمبے سے باندھ رکھا ہے،مبینہ طور پر اس نوجوان کو ڈکیتی کا مرتکب بتایا گیا لیکن ہجوم اسے ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کے لیے مسلسل مارتا پیٹتا رہا۔ انصاری کی اسی روز اسپتال میں موت ہوگئی۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں بھارت کی مذہبی اقلیتوں کے حالات کی ہولناک تصویر کشی کی گئی ہے۔اس رپورٹ پر بھارت کی وزارت خارجہ نے شدید رد عمل ظاہر کیا اور یہ کہتے ہوئے اسے مسترد کردیا کہ کسی غیر ملکی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بھارتی ریاست کے شہریوں کے مسائل پر تبصرہ کرے، دستور شہریوں کو جو حقوق فراہم کرتا ہے یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ 
اس میں رتی بھر شک  نہیں کہ بھارت جس سیکیولرازم اور اقلیتی حقوق کا دعوے دار تھا اب یہ اس کے ماتھے کا کلنک بن چکے ہیں۔ بھارتی عوام کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے والا آئین بار بار پامال ہوا۔دفعہ 370کا خاتمہ دستور کی پامالی کی اس داستان کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ (یہ کالم سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام  سہگل اور ہمبلوٹ یونیورسٹی برلن کے شعبہ برائے جنوبی ایشیاء کی سابق سربراہ ڈاکٹر بیٹینا روبوٹکا کی مشترکہ کاوش ہے) 

تازہ ترین خبریں