10:57 am
دعایابددعا۔۔۔؟

دعایابددعا۔۔۔؟

10:57 am

ماہِ ستمبرمیری ماں کی43 ویں برسی کامہینہ! اس دفعہ بھی یہ ماہ ودن لندن میں خاموشی سے گز ر گئے  ، پہلے یہ دن اپنے آبائی شہرفیصل آبادمیں گزراکرتے تھے گھرکے وسیع صحن میں جہاں میری ماں خیرات کی دیگیں اورقربانی کاگوشت بانٹا کرتی تھی وہیں پراب اس کی برسی کی دیگیں محلہ میں برتائی جاتی ہیں۔سامنے برآمدہ میں محلہ کی عورتیں قرآن خوانی اور کھجور کی گٹھلیاں پڑھتی ہیں اوربعدمیں دعاکے بعدکھانے کے دوران میری ماں کی بے شمارنیکیوں کے ذکرکے ساتھ ایک لمبی آہ بھرکرایک اورسال گزرجانے کااعلان ہوجاتاہے۔میں صبح سو یرے  قبرستان میں اپنی والدہ محترمہ اوردوسرے عزیزواقارب کی قبروں پرپھولوں کی چادریں چڑھاکرگویااپنے دل کی تسلی کیلئے ہرسال یہ عمل دہراتاتھااورواپس آنے سے پہلے اس خاموش مٹی کی ڈھیری کے پاس کچھ وقت کیلئے بیٹھ کراپنی تمام دل کی باتیں کرنے بیٹھ جاتاتھا، میں اسے اب بھی اپنے ارد گردڈھونڈتاہوں،چپکے چپکے پکارتاہوں مگروہ مجھے کہیں نظرنہیں آتی۔
 
مجھے محسوس ہوتاہے کہ اب وہ ہستی اورمحترم شخصیت میری دنیاسے اٹھ گئی جس کے ہوتے ہوئے دنیابھی میری اوردنیاکے یقین بھی میرے تھے اب میری پشت خالی ہے جس پر مفادات اورلین دین سے بھرے رشتوں کے تازیانے برستے رہتے ہیں میں گھبراگھبراکراسے یاد کرتا ہوں جس کے ہوتے ہوئے میں بھی سلامت تھااورمیری شناخت بھی!
میری ماں جس نے مجھے اپنی محبت کے مکتب میں اسباق زندگی اوررموزِزندگی کی آگہی وشعوردیا،جس نے انسانوں سے محبت میری گھٹی میں ڈالی خلقِ خدامیری تربیت کاحصہ بنائی انسانوں کوجانچنے اورپرکھنے کامعیار جاہ وحشم نہیں اعلی انسانی صفات کوٹھہرایا۔حلال وحرام کے درمیان فرق کی وضاحت سمجھائی،رشتوں کی اہمیت اورتعلقات کونبھانے کاطریق میری فطرت کاجزوبنایا جوقدم قدم پرمیری رہنماومعاون رہی۔تمام عمرمیں اس کی انگلی تھام کرچلتارہااوروہ مجھے چلاتی رہی ۔وہ جو غریب وپسما ندہ رشتہ داروں بوڑھی میلی مائیوں اور حاجت  مندوں کوہتھیلی کاچھالہ بنائے رکھتی تھی وہ جسے عزت کرنے اورکروانے کاسلیقہ آتاتھاجس کی ہمدردطبیعت ہمیشہ خدمتِ خلق کے بہانے ڈھونڈتی تھی جب وہ دنیاسے رخصت ہوئی توسرخ گلابوں کے رنگ کالے ہوگئے، دعائیں ناتواں ہوگئیں،حروف سہم سے گئے، رشتے بے وجوداور شرمندہ دکھائی دینے لگے اورشناختیں نامعتبر ہونے لگیں وہ در ودیوارجہاں قدم قدم پراپنے ہونے کی گواہیاں ملاکرتی تھیں اجنبی لگنے لگے اور فیصل آبادجس کی گلیاں سڑکیں اورفضائیں زندگی کاناگزیرحصہ تھیں، غیرہونے لگیں مجھے لگاکسی نے مجھے اچانک زور داردھکادیکرکسی سمندرمیں اچھال دیاہو! کسی ایسے منطقے پرجہاں ہر طرف دھوپ ہی دھوپ ہوکہیں سایہ نظرنہ آتاہووہ میرا گھرجہاں میں اپنی ماں کی محبت کی اخلاص بھری دعائوں کے نادرکھلونوں کے ساتھ اس کی بے لوث ممتا کی نرم چادریں اوڑھ کربے فکری کی نیند سونے سے قبل کشمیرجنت نظیرکی داستان سناکرتاتھا،اس گھرکو یکایک آگ لگ گئی اس میں میرا بچپن میرے خواب گھروندے،میراکھیل کاساراسامان، مامتابھری لوریاں  سب کچھ جل کرراکھ ہوگیااورمیں اس غلام کشمیرکے آنگن میں کھڑاتنہاسوچ رہاہوں اب کیاہوگا؟اس کی تصویر اپنی مہربان شبنمی مسکراہٹ سے مجھے دیکھتی رہی!وہ گھر جو مجھ سے1976ء میں چھن گیاتھااس کی راکھ اب بھی میرے دل کے پلوسے بندھی ہے جس سے مامتا کی بھینی بھینی مہک اڑتی ہے جومیرایقین تھی۔اللہ اوراس کی کائناتوں میں چھپے محبت کے بھیدوں کوجاننے کاواحد ذریعہ تھی۔اللہ،ماں اورمحبت کی تکون میں گم رہنے والا اپنی ماں کایہ اداس بیٹا آج بھی اس تکون سے اس گمشدہ کڑی کوڈھونڈنے کیلئے جان کوبیمارکئے ہوئے ہے جوچاردہائیاں قبل بدنصیبی کے ایک بھاری پل نے اس سے چھین لیاتھااس کی کائناتوں کاجغرافیہ درہم برہم کردیاتھا وہ جغرافیہ آج بھی درہم برہم ہے کائنات نامکمل اورادھوری ہے حالانکہ محبت اوراللہ کی موجودگی پراس کا ایمان بھی کامل ہے مگرماں کانہ ہونا ایک ایسی مسلسل کمی ہے جوجان کوآزارکی طرح لگی ہوئی ہے۔ مائیں اپنی اولاد کیلئے لئے بہت اہم ہوتی ہیں چاہے وہ جیسی بھی ہوں مگرمائیں اولاد کیلئے کتنی ضروری ہوتی ہیں اس کا اندازہ ان کے جانے کے بعدہوتاہے اورپتہ چلتاہے کہ ماں توآکسیجن کانام ہے جس کے بغیرانسان حبس اورگھٹن کے مارے اندرسے مرنے لگتاہے اور پھرمرتاہی چلاجاتا ہے۔
میری سادہ دل خوبصورت نیک اورمہربان ماں، سفیدکے ٹی کی شلواراورسفیدٹوپی والے برقعے والی محترم عورت جس کی شخصیت کاحسن اورپاکیزگی اس کے گردنورکے ہالے کی طرح رہتی تھی جوتمام عمربناوٹ‘ تضع اوردنیاوی آلائشوں سے دوررہی جس نے خدا اور خلقِ خداکوعجزانکساری رحم محبت اورخدمت کے ذریعے پہچانا۔جوتکبرظلم اورزیادتی اور’’میں‘‘ سے یکسرانجان تھی اور ہمیں بھی ان فضولیات سے دوررہنے کادرس دیاکرتی تھی جس نے اعلی انسانی اقداراورنیکی محبت اورخدمت کاسبق ہمیں اٹھتے بیٹھتے دیاجس نے برائی سے نفرت اوراچھائی سے محبت کاشعورہماری فطرت کاحصہ کیا۔وہ جب اس دنیاسے رخصت ہوئی تواپنے پیچھے ایک ایسابے انتہاخلاچھوڑگئی جوبعدمیں کبھی بھی پرنہیں ہوااوراس امر کا علم بھی تجربہ سے ہوامائوں اورمحبتوں کاخلاکبھی بھرانہیں کرتایہ ہماری غلط فہمیاں ہیں جواس معاملے میں ہمیں دھوکے پردھوکہ دیتے چلی جاتیں ہیں سوایساہی ہوا۔ان گزرے سالوں میں ماں توکیاکہیں ماں کی شبیہ کابھی گمان نہ گزراجہاں میں اپنی اداسی ڈھیرکرتااوراس جدائی کاافسانہ رقم کرتاجس نے میرے اندرحشر اٹھا رکھاہے!
اے میری پیاری ماں!مجھے بتائیں کیا کروں؟ آپ یادآتی ہیں توحسن،نیکی اورمحبت یادآتی ہے اوروہ مسلسل کمی جس نے روح کوبے سکون کررکھاہے ہرسال ستمبرمیری آنکھوں میں پانی اوردل میں نمی چھوڑتا ہے۔ ہر دن مجھے آپ کی یادکی دہلیزوں پر ننگے پائوں کھڑاہوناپڑتاہے میں سوچتاہوں آخراس خوبصورت اورمہربان عورت کومیں بھول کیوں نہیں جاتا ؟ جو آج سے 43سال قبل زندگی کے رنگین چوکھٹے سے نکل کرمٹی کی ایک سونی ڈھیری میں سماگئی تھی اورحقیقت سے واہمہ ہوگئی اس کی نرم روئی میرے دل کی روئی کی طرح کیوں دھنکتی رہتی ہے؟اداسی مجھے ہمہ وقت اپنے دل میں بیٹھی کیوں نظر آتی ہے؟یہ ایک عجیب سوال ہے جومجھ سے اب تک حل نہیں ہوااور1976ء سے 2019ء آگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنی جنتی ماں سے کہناچاہتاہوںماں!اب میں آپ کواس قدریاد نہیں کرسکتااس قدراداس نہیں ہوسکتا کیونکہ مجھے زندگی میں اوربھی بہت سے کام کرنا ہیں۔تیراکشمیرجل رہا ہے، بیٹیوں کی عصمتیں قربان ہورہی ہیں،وہاں کے باسیوں کی چیخیں مجھے سونے نہیں دیتی،اس روتی بسورتی دنیامیں ہنس کھیل کرجینا چاہتاہوں،مجھے زندگی میں اوربھی بہت سے کام کرناہیں،کچھ لکھناپڑھناہے، دنیا داری کرنی ہے اورسب سے بڑی بات کہ مجھے جیناہے زندہ نظر آنے والے دوسرے کامیاب لوگوں کی طرح آپ کی یاد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مجھے ہنسنے کھیلنے نہیں دیتی، جدائی کی کہانی سنا کرہر ایسے کام سے روکتی رہتی ہے جو دنیاداری اور کامیابی کے لئے ازحد ضروری ہے لہذا میری ماں،میری اچھی ماں مجھے بد دعادومیں تمہیں بھول جائوں!
خورے کدوں پیمبر  لمحے بولن گے
ایس جہانے صدیاں  دا سناٹا اے

تازہ ترین خبریں