10:58 am
لشکرحسینی ؓمیں ایک جانثار دولہا

لشکرحسینی ؓمیں ایک جانثار دولہا

10:58 am

حضرت سیدنا وہب ابن عبداللہ کلبی رضی اللہ عنہ قبیلہ بنی کلب کے نیک خو اور خوبرو جوان تھے، عنفوانِ شباب، امنگوں کا وقت اور بہاروں کے دِن تھے، صرف سترہ دن شادی کو ہوئے تھے اور ابھی بساطِ عشرت و نشاط گرم ہی تھی کہ والدہ ماجدہ تشریف لائیں جو ایک بیوہ خاتون تھیں جن کی ساری کمائی اور گھر کا چراغ یہی ایک نوجوان بیٹا تھا۔ مادرِ مشفقہ نے رونا شروع کر دیا۔ بیٹا حیرت میں آ کر ماں سے پوچھتا ہے: پیاری ماں! رنج و ملال کا سبب کیا ہے؟ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اپنی عمر میں کبھی آپ کی نافرمانی کی ہو، نہ آئندہ ایسی جرات کر سکتا ہوں۔ آپ کی اطاعت و فرمانبرداری مجھ پر فرض ہے اور میں ان شا اللہ عزوجل تابہ زندگی مطیع و فرمانبردار رہوں گا۔
 
ماں! آپ کے دِل کو کیا صدمہ پہنچا اور آپ کو کس غم نے رلایا؟ میری پیاری ماں! میں آپ کے حکم پر جان بھی فدا کر سکتا ہوں، آپ غمگین نہ ہوں۔ سعادت مند بیٹے کی یہ گفتگو سن کر ماں اور بھی چیخ مار کر رونے لگی اور کہنے لگ: اے فرزند! تو میری آنکھ کا نور، میرے دل کا سرور ہے، اے میرے گھر کے روشن چراغ اور میرے باغ کے مہکتے پھول، میں نے اپنی جان گھلا گھلا کر تیری جوانی کی بہار پائی ہے، تو ہی میرے دل کا قرار اور میری جان کا چین ہے۔ ایک پل تیری جدائی اور ایک لمحہ تیرا فراق مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا۔ اے جانِ مادر! میں نے تجھے اپنا خونِ جگر پلایا ہے۔ آج اس وقت دہشت کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظلم و ستم سے نڈھال ہے۔ میرے لال! کیا تجھ سے ہو سکتا ہے کہ تو اپنی جان ان کے قدموں پر قربان کر ڈالے۔ اس بے غیرت زندگی پر ہزار تف ہے کہ ہم زندہ رہیں اور سلطانِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لاڈلا شہزادہ ظلم و جفا کے ساتھ شہید کر دیا جائے۔ اگر تجھے میری محبتیں کچھ یاد ہوں اور تیری پرورش میں جو مشقتیں میں نے اٹھائی ہیں ان کو تو بھولا نہ ہو تو اے میرے چمن کے مہکتے پھول! تو پیارے حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے سر پر صدقے ہو جا۔ حسینی دولہا سیدنا وہب رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی، اے مادرِ مہربان، خوبی نصیب، یہ جان شہزادہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر قربان ہو، میں دِل و جان سے آمادہ ہوں، ایک لمحہ کی اجازت چاہتا ہوں تاکہ اس بی بی سے دو باتیں کر لوں جس نے اپنی زندگی کے عیش و راحت کا سہرا میرے سر پر باندھا ہے اور جس کے ارمان میرے سوا کسی کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے، اس کی حسرتوں کے تڑپنے کا خیال ہے، اگر وہ چاہے تو میں اس کو اجازت دیدوں کہ وہ اپنی زندگی کو جس طرح چاہے گزارے۔ ماں نے کہا: بیٹا! عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں، مبادا تو اس کی باتوں میں آ جائے اور یہ سعادت سرمدی تیرے ہاتھوں سے جاتی رہے۔ سیدنا وہب رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: پیاری ماں! امامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی محبت کی گرہ دِل میں ایسی مضبوط لگی ہے کہ ان شا اللہ عزوجل اس کو کوئی کھول نہیں سکتا اور ان کی جانثاری کا نقش دِل پر اس طرح کندہ ہے جو دنیا کے کسی بھی پانی سے نہیں دھویا جا سکتا۔ یہ کہہ کر بی بی کی طرف آئے اور اسے خبر دی کہ فرزند رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابن فاطمہ بتول، گلشن مولی علی کے مہکتے پھول میدانِ کربلا میں رنجیدہ و ملول ہیں، غداروں نے ان پر نرغہ کیا ہے، میری تمنا ہے کہ ان پر جان قربان کروں۔ یہ سن کر نئی دلہن نے ایک آہِ سرد دلِ پردرد سے کھینچی اور کہنے لگی: اے میرے سر کے تاج! افسوس کہ میں اس جنگ میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ شریعت اسلامیہ نے عورتوں کو لڑنے کیلئے میدان میں آنے کی اجازت نہیں دی۔ افسوس! اس سعادت میں میرا حصہ نہیں کہ تیرے ساتھ میں بھی دشمنوں سے لڑ کر امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ پر اپنی جان قربان کروں۔ سبحان اللہ! آپ نے تو جنتی چمنستان کا ارادہ کر لیا، وہاں حوریں آپ کی خدمت کی آرزو مند ہوں گی، بس ایک کرم فرما دیں کہ جب سردارانِ اہل بیت علیہم الرضوان کیساتھ جنت میں آپ کیلئے نعمتیں حاضر کی جائیں گی اور جنتی حوریں آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہوں گی، اس وقت آپ مجھے بھی ہمراہ رکھیں۔ 
حضرت وہب رضی اللہ تعالی عنہ اپنی اس نیک دلہن اور برگزیدہ ماں کو لیکر فرزند رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دلہن نے عرض کی: اے ابن رسول! شہدا گھوڑے سے زمین پر گرتے ہی حوروں کی گود میں پہنچتے ہیں اور غلمانِ جنت کمالِ اطاعت شعاری کیساتھ ان کی خدمت کرتے ہیں یہ حضور پر جانثاری کی تمنا رکھتے ہیں اور میں نہایت ہی بے کس ہوں، کوئی ایسے رشتہ دار بھی نہیں جو میری خبرگیری کر سکیں۔ التجا یہ ہے کہ عرصہ گاہ محشر میں میری اِن سے جدائی نہ ہو، اور دنیا میں مجھ غریب کو آپ کے اہل بیت اپنی کنیزوں میں رکھیں، اور میری تمام عمر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی پاک بیبیوں رضی اللہ تعالی عنھن کی خدمت میں گزر جائے۔ حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے یہ عہد و پیماں ہو گئے اور سیدنا وہب رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی عرض کر دی کہ یاامام عالی مقام! اگر حضور تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے مجھے جنت ملی تو میں عرض کروں گا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ بی بی میرے ساتھ رہے۔ 
دشمنوںکی طرف سے آواز آئی: کوئی ہے مقابلہ پر آنے والا؟ سیدنا وہب رضی اللہ تعالی عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر میدان کی طرف روانہ ہوئے۔ نئی دلہن ٹکٹکی باندھے ان کو جاتا دیکھ رہی ہے اور آنکھوں سے آنسوئوں کے دریا بہا رہی ہے۔ حسینی دلہا شیر ژِیاں(غضبناک شیر)کی طرح تیغ آبدار و نیزہ جاں شکار لیکر معرکہ کارزار میں صاعقہ وار آ پہنچا۔ اس وقت میدان میں اعدا کی طرف سے ایک مشہور بہادر اور نامدار سوار حکم بن طفیل جو غرورِ نبردآزمائی میں سرشار تھا، تکبر سے بل کھاتا ہوا لپکا، سیدنا وہب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک ہی حملے میں اس کو نیزہ پر اٹھا کر اس طرح زمین پر دے مارا کہ ہڈیاں چکناچور ہو گئیں اور دونوں لشکروں میں شور مچ گیا اور مبارزوں میں ہمت مقابلہ نہ رہی۔ سیدنا وہب رضی اللہ تعالی عنہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے قلب دشمن پر پہنچے۔ جو مبارز سامنے آتا، اس کو نیزہ کی نوک پر اٹھا کر خاک پر پٹخ دیتے، یہاں تک کہ نیزہ پارہ پار ہو گیا۔ تلوار میان سے نکالی اور تیغ زنوں کی گردنیں اڑا کر خاک میں ملا دیں۔ جب اعدا اس جنگ سے تنگ آگئے تو عمر و بن سعد نے حکم دیا کہ سپاہی اس نوجوان کے گرد ہجوم کر کے حملہ کریں اور ہر طرف سے یکبارگی ٹوٹ پڑیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب حسینی دلہا زخموں سے چور ہو کر زمین پر تشریف لائے تو سیاہ دِلانِ بدباطن نے ان کا سر کاٹ کر حسینی لشکر کی طرف اچھال دیا۔ ماں اپنے لخت جگر کے سر کو اپنے منہ سے ملتی تھی اور کہتی تھی، اے بیٹا! میرے بہادر بیٹا! اب تیری ماں تجھ سے راضی ہوئی۔ پھر وہ سر اس کی دلہن کی گود میں لا کر رکھ دیا۔ دلہن نے ایک جھرجھری لی اور اسی وقت پروانہ کی طرح اس شمع جمال پر قربان ہو گئی اور اس کی روح حسینی دلہا سے ہم آغوش ہو گئی۔ 
سرخروئی اسے کہتے ہیں کہ راہِ حق میں
سر کے دینے میں ذرا تو تامل نہ کیا

تازہ ترین خبریں