11:00 am
بھارتی سیارہ ’چندریان‘ تباہ، سائنس دان رونے لگے!

بھارتی سیارہ ’چندریان‘ تباہ، سائنس دان رونے لگے!

11:00 am

٭وزیراعظم عمران خان و جنرل باجوہ کنٹرول لائن پرO بھارت: چاند پر بھیجا گیا سیارہ تباہ، سائنس دان رونے لگےO ن لیگ کا دور اقتدار، ارکان اسمبلی 20 کروڑ کی دوائیں کھا گئے!O مقبوضہ کشمیر پر ظلم، چار بھارتی ڈپٹی کمشنر مستعفی O شنگھائی تنظیم، بھارت کی مذمتO لیڈی کانسٹیبل پر وکیل کے تھپڑ، اسی کانسٹیبل نے ہتھکڑیاں لگا دیںO عمران خان وزیروں سے خوش نہیں، ایک رپورٹ، وزیر بھی خوش نہیں، دوسری رپورٹOامریکی کمانڈر جنرل کینتھ 17 رکنی فوجی وفد کے ساتھ اسلام آباد میں۔
 
٭وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کنٹرول لائن کا دورہ کیا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام بھی ساتھ تھے۔ وزیراعظم اگلے مورچوں میں گئے اور فوجی جوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی وزیراعظم لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں پر گیا ہو۔ صرف ایک بار وزیراعظم بے نظیر بھٹو ان علاقوں میں گئیں مگر کنٹرول لائن سے کچھ فاصلے پر رہیں، انہیں اگلے مورچوں پر نہیں جانے دیا گیا۔ باہم معاہدہ کے تحت کسی ملک کا کوئی اہم حاکم اپنے سرحدی علاقے میں جا رہا ہو تو سرحد پار دوسرے ملک کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی ہے اور دورہ کے دوران سرحد پر فائرنگ بند رکھی جاتی ہے۔ کشمیر کمیٹی کے کسی چیئرمین کا کنٹرول لائن کا یہ پہلا دورہ ہے۔ صرف اتنی بات اور کہ کشمیر کمیٹی کو ہر سال پانچ کروڑ روپے کا فنڈ ملتا ہے! ویسے وزیر دفاع بھی پہلی بار وہاں گئے ہیں وہ بھی وزیراعظم کے ساتھ! وزیر دفاع کا نام ہے پرویز خٹک!
٭قارئین کرام! میری ہمت اور حوصلے کی تعریف کریں کہ چار گھنٹے سے بجلی بند ہے، شدید حَبس سے پسینہ پسینہ ہو رہا ہوں، چکر آ رہے ہیں، مگر کالم لکھ رہا ہوں۔ خدا تعالیٰ آپ سب پر رحمتوں کی بارش برسائے! اس موقع پر مجھے رحیم یار خان کے ایک محترم شاعر (نام یاد نہیں آ رہا) کی ایک غزل کا ایک شعر یاد آرہا ہے کہ دریا پانیوں سے بھرے ہوئے ہیں مگر ان کے بیلے (کنارے پر لمبی گھاس) خشک کیوں ہیں؟
٭بھارت کا چاند پر بھیجا جانے والا خلائی سیارہ ’چندریان2-‘ چاند سے صرف دو کلو میٹر کی بلندی سے گر کر تباہ ہو گیا۔ اس پر بھارتی سائنس دان رونے لگے۔ بھارت کے وزیراعظم سمیت پورا بھارت جشن منانے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ چاند پر اترنے میں صرف دو منٹ باقی تھے، وزیراعظم رسد گاہ میں موجود تھا اور پورے ملک کو خوش خبری سنانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔ دو منٹ گزر گئے، پھر تین منٹ، چارمنٹ اور جشن منانے کی تیاری کرنے والے سائنس دانوں اور بھارتی عوام پر یہ خبر بم کی طرح گری کہ چندریان 2- سے مواصلاتی رابطہ ختم ہو گیا ہے، اور سیارہ تباہ ہو گیا ہے۔ اس خبر پر بھارتی وزیراعظم اور وہاں موجود سائنس دانوں پر سناٹا چھا گیا۔ (9) ارب ڈالر کے اخراجات سے چاند پر بھیجا جانے والا ہے بھارت کا یہ دوسرا ناکام تجربہ تھا! ہکا بکا وزیراعظم نریندر مودی نے وہاں موجود سائنس دانو ںکو حوصلہ کی تلقین کرنا چاہی مگر آواز بھرا گئی۔ اس نے چیف سائنس دان ’کے سوان‘ کو گلے لگا کر تسلی دینے کی کوشش کی، ’سوان‘ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، اس پر دوسرے سائنس دان بھی رونے لگے۔ ایسا ایک تجربہ پہلے بھی ناکام ہو چکا تھا۔ پورے بھارت پر سوگ کا عالم طاری ہو گیا۔
قارئین کرام! ہمارے بہت بڑے صوفی شاعر حضرت محمد بخشؒ نے تلقین کی ہے کہ دشمن مرے تو خوشی نہ کریے…! مگر ہمارے سائنس کے وزیرفواد چودھری پر الٹا اثر ہوا ہے! بھارتی سائنس دانوں کے ساتھ کسی رسمی ہمدردی کی بجائے کیا تبصرہ کیا ہے کہ ’نالائقوں، کام نہیں آتا تو پنگا کیوں کیا تھا؟‘‘ مزید کہہ دیا کہ ’چندریان‘ کا یہ کھلونا کہیں ممبئی میں اتر گیا ہو گا، اسے وہاں ڈھونڈو!‘‘ فواد چودھری کو ہاتھ سے وزارت اطلاعات پھسل جانے کا صدمہ نہیں بھول رہا تھا، انہوں نے بھارتی سائنس دانوں پر غصہ نکال لیا! ویسے ایک اطلاع کے مطابق بھارت اب تک خلائی تجربوں پر 90 ارب ڈالر ضائع کر چکا ہے۔ وہ صرف ایک عام مواصلاتی سیارہ زمین کے گرد خلائی مدارس پہنچا سکا ہے! جہاں پہلے ہی دوسرے ممالک کے درجنوں سیارے گھوم رہے ہیں۔ ایک خیال آ رہا ہے کہ بھارت کو شائد کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کی سزا ملی ہے۔
٭شنگھائی تعاون تنظیم نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی مذمت کر دی ہے۔ اس تنظیم میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ازبکستان، تاجکستان اور کرغیزستان شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
٭کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم پر خود بھارت میں کیا احتجاج ہو رہا ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے حال ہی میں بھارت کے مختلف صوبوں میں چار ڈپٹی کمشنر مستعفی ہو چکے ہیں ان میں ایک مسلمان، تین ہندو افسر شامل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان ڈپٹی کمشنر فیصل نے استعفا دیا تو فوج نے اسے گرفتار کر لیا۔ مگر کیرالہ کے ڈپٹی کمشنر کاٹن گوپی ناتھ، رکھشنا کناڈا کے سی کانت اور تامل ناڈو ’برائی‘‘ شامل ہیں۔ ان سب نے اپنے استعفوں میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے!
٭فرانس میں جی7- کانفرنس میں برازیل کے صدر نے فرانس کے صدر کی اہلیہ کو بدصورت خاتون قرار دے دیا۔ اس پر فرانس کے میڈیا نے بہت شور مچایا۔ برازیل کا وزیرمعاشیات ’پائو لوگو‘ پیرس آیا تو میڈیا نے یہ مسئلہ اٹھایا۔ اس پروزیر نے کہا کہ ہمارے صدر نے درست ہی تو کہا ہے۔ فرانس کے صدر کی اہلیہ واقعی بدصورت ہے۔ اس پر ہنگامہ مزید بڑھ گیا اور وزیر کو معافی مانگنا پڑی۔ معاملہ یہ ہے کہ فرانس کے صدر کی بیوی اس سے 24 سال بڑی ہے جبکہ برازیل کے صدر کی بیوی اس سے 27 سال چھوٹی ہے۔ اخبارات نے ستم یہ کیا ہے کہ فرانس کے صدر کی بیوی کی تصویر چھاپ دی ہے۔ واقعی! مگر نہیں، میں خواتین کا بہت احترام کرتا ہوں۔
٭ایک دلچسپ سزا: شاہدرہ کے علاقہ فیروز والا میں غلط پارکنگ روکنے پر ایک وکیل نے ایک لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ اور ٹھنڈے مارے۔ پولیس نے وکیل کو گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دیں اور ان ہتھکڑیوں کی زنجیر اسی لیڈی کانسٹیبل کے ہاتھوں میں دے کر وکیل کو عدالت میں پیش کر دیا۔ اس پر دوسرے وکیل بہت گرم ہو رہے ہیں۔
٭ایک خبر: نوازشریف کے عہد اقتدار میں ن لیگ کے ارکان اسمبلی 20 کروڑ روپے کی دوائیں کھا گئے۔ ان ’دوائوں‘ میں خواتین کا میک اپ اور پرفیوم وغیرہ کی خاصی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ ان ادویات کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔ تقریباً 25 سال پہلے میں ایک دوسرے اخبار میں تھا۔ ملک قاسم اینٹی کرپشن کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے مجھے قومی اسمبلی کے ریکارڈ کی کچھ فہرستیں بھیج دیں۔ ان کے مطابق نوازشریف کے دور کے ڈھائی برسوں میں ارکان اسمبلی 11½ کروڑ روپے کی دوائیں کھا گئے تھے۔ طریقہ کار بہت آسان تھا۔ اسمبلی کے ڈاکٹر کو ان ارکان اسمبلی کے مراسلے موصول ہوتے۔ ان پر لاکھوں روپے کی بہت سی قیمتی دوائیں درج ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ کوئی سوال کر چکے۔ وہ ان دوائوں کا نسخہ بنا دیتا۔ یہ نسخہ مقررہ میڈیکل سٹور پر جاتا۔ وہ اپنا مناسب کمیشن کاٹ کر باقی دوائوں کی نقد قیمت رکن اسمبلی کو بھیج دیتا۔ اس فہرست میں نوازشریف کے بھائی عباس شریف کو جاری ہونے والی ایک لاکھ 37 ہزار روپے کی دوائوں کا بھی ذکر تھا۔ یہ فہرست چھپ گئی۔ عباس شریف کو بہت غصہ آیا۔ اس کے سیکرٹری نے مجھے فون پر عباس شریف کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا۔ مجھے بھی سخت غصہ آ گیا۔ میں نے کہا کہ عباس شریف سے کہو کہ کوئی شکائت ہے تو خود میرے پاس آئے یہ اسمبلی کا ریکارڈ ہے، ویسے ابھی تو ایک فہرست چھپی ہے، ایک فہرست اور بھی ہے، تھوڑی دیر میں سیکرٹری کا فون آیا کہ عباس شریف کہہ رہے ہیں کہ چھوڑیئے، ہم کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ دوسری فہرست رہنے دیں۔

تازہ ترین خبریں