07:02 am
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات

07:02 am

وِلادت باکرامت:۔ راکب دوشِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگرگوشہ مرتضیٰ، دلِ بند ِ فاطمہ
وِلادت باکرامت:۔ راکب دوشِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگرگوشہ مرتضیٰ، دلِ بند ِ فاطمہ، سلطانِ کربلا، سید الشہداء، امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام، امامِ ہمام، امامِ تشنہ کام حضرت سیدنا امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سراپا کرامت تھے، حتیٰ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت بھی کرامت ہے۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت باسعات 5شعبان المعظم 4ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ حضرت سیدی عارف باللہ نورالدین عبدبالرحمن جامی قدس سرہ السامی ’’شواہد النبوۃ‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’منقول ہے کہ امامِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدتِ حمل چھ ماہ ہے۔ حضرت سیدنا یحییٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور امامِ عالی مقام امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کوئی ایسا بچہ زندہ نہ رہا جس کی مدتِ حمل چھ ماہ ہوئی ہو۔ (شواہد النبوۃ، ص228)
نام و اَلقاب:۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام مبارک حسین، کنیت: عبداللہ اور القاب سبط رسول اللہ اور ریحانۃ الرسول (یعنی رسول کے پھول) ہے۔
4فرامین مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:۔ (۱) حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) مجھ سے ہے اور میں حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے ہوں، اللہ پاک اُس سے محبت فرماتا ہے جو حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے محبت کرے۔ (۲)حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے جس نے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی۔ (۳) حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) دُنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (۴)حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
رخسار سے انوار کا اظہار:۔ حضرت علامہ جامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں: حضرت امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان یہ تھی کہ جب اندھیرے میں تشریف فرما ہوتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک پیشانی اور دونوں مقدس رخسار (یعنی گال) سے انوار نکلتے اور قرب و جوار ضیا بار (اطراف روشن) ہو جاتے۔ (شواہد النبوۃ ص228)
کنویں کا پانی اُبل پڑا:۔ حضرت سیدنا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں حضرت سیدنا ابن مطیع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے عرض کی، میرے کنویں میں پانی بہت کم ہے، براہِ کرم دُعائے برکت سے نواز دیجئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کنویں کا پانی طلب فرمایا، جب پانی کا ڈول حاضر کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منہ لگا کر اس میں سے پانی نوش کیا اور کلی کی، پھر ڈول کر واپس کنویں میں ڈال دیا تو کنویں کا پانی کافی بڑھ بھی گیا اور پہلے سے زیادہ میٹھا اور لذیذ بھی ہو گیا۔ (طبقاتِ ابن سعد ج5 ص110 ملخصاً)
گھوڑے نے بدلگام کو آگ میں ڈال دیا:۔ امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یومِ عاشورہ یعنی بروز جمعۃ المبارک 10محرم الحرام 61ھ کو یزیدیوں پر اِتمام حجت (یعنی اپنی دلیل مکمل) کرنے کیلئے جس وقت میدانِ کربلا میں خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں، اُس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مظلوم قافلے کے خیموں کی حفاظت کیلئے خندق میں روشن کردہ آگ کی طرف دیکھ کر ایک بدزمان یزیدی (مالک بن عروہ) اس طرح بکواس کرنے لگا: ’’اے حسین! تم نے وہاں کی آگ سے پہلے یہیں آگ لگا دی‘‘، حضرتِ سیدنا امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’کَذَبْتَ یَا َدُوَّ اللّٰہ‘‘ یعنی ’’اے دشمن خدا! تو جھوٹا ہے، کیا تجھے یہ گمان ہے کہ (معاذ اللہ) میں دوزخ میں جائوں گا‘‘ ۔ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قافلے کے ایک جانثار (حضرت سیدنا) مسلم بن عوسجہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے حضرتِ امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اُس منہ پھٹ بدلگام کے منہ پر تیر مارنے کی اجازت طلب کی۔ حضرتِ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرما کر اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ ہماری طرف سے حملے کا آغاز نہیں ہونا چاہئے۔ پھر امامِ تشنہ کام (یعنی پیاسے امام) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دست دُعا بلند کر کے عرض کی: ’’اے رب قہار! اس نابکار (شریر) کو عذابِ نار سے قبل بھی اس دُنیائے ناپائیدار میں آگ کے عذاب میں مبتلا فرما‘‘۔ فوراً دُعا مستجاب (قبول) ہوئی اور اُسکے گھوڑے کا پائوں زمین کے ایک سوراخ پر پڑا جس سے گھوڑے کو جھٹکا لگا اور بے ادب و گستاخ یزیدی گھوڑے سے گرا، اُسکا پائوں رِکاب میں اُلجھا، اسے گھسیٹتا ہوا دوڑا اور آگ کی خندق میں ڈال دیا اور بدنصیب آگ میں جل کر بھسم ہو گیا۔ امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سجدۂ شکر ادا کیا، حمد الٰہی بجا لائے اور عرض کی: یااللہ کریم! تیرا شکر ہے کہ تو نے آل رسول کے گستاخ کو سزا دی‘‘۔ (سوانح کربلا ص138 ملخصاً) 
سیاہ بچھو نے ڈنگ مارا:۔ گستاخ و بدلگام یزیدی کا ہاتھوں ہاتھ بھیانک انجام دیکھ کر بھی بجائے عبرت حاصل کرنے کے اس کو ایک اتفاقی اَمر سمجھتے ہوئے ایک بے باک یزیدی نے بکا، آپ کو اللہ کریم کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا نسبت؟ یہ سن کر قلب امام کو سخت اِیذا پہنچی اور تڑپ کر دُعا مانگی: ’’اے ربِ جبار! اس بدگفتار (برا بولنے والے) کو اپنے عذاب میں گرفتار فرما‘‘۔ دُعا کا اثر ہاتھوں ہاتھ ظاہر ہوا، اس بکواسی کو ایک دَم قضائے حاجت کی ضرورت پیش آئی، فوراً گھوڑے سے اُتر کر ایک طرف کو بھاگا اور برہنہ ہو کر بیٹھا، یکایک ایک سیاہ بچھو نے ڈنگ مارا، نجاست آلودہ تڑپتا پھرتا تھا، نہایت ہی ذلت کیساتھ اپنے لشکریوں کے سامنے اس بدزبان کی جان نکلی، مگر ان سنگ دلوں اور بے شرموں کو عبرت نہ ہوئی، اس واقعے کو بھی ان لوگوں نے اتفاقی اَمر سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ 
گستاخِ حسین پیاسا مرا:۔ یزیدی فوج کا ایک سخت دل شخص امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آ کر یوں بکنے لگا: ’’دیکھ تو سہی دریائے فرات کیسا موجیں مار رہا ہے، خدا کی قسم! تمہیں اسکا ایک قطرہ بھی نہ ملے گا اور تم یوں ہی پیاسے ہلاک ہو جائو گے‘‘۔ امامِ تشنہ کام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہِ ربُّ الانام میں عرض کی: ’’اَللّٰھُمَّ اَمِتْہٗ عَطْشَانًا‘‘۔ یعنی ’’یارب! اس کو پیاسا مار‘‘۔
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں