07:03 am
منافین کا انجام

منافین کا انجام

07:03 am

عام آدمی منافق اس کو سمجھتا ہے جس نے شروع سے ہی دل میں اسلام قبول نہ کیا ہو‘ یعنی صرف اسلام کا لبادہ اوڑھا ہواور
 عام آدمی منافق اس کو سمجھتا ہے جس نے شروع سے ہی دل میں اسلام قبول نہ کیا ہو‘ یعنی صرف اسلام کا لبادہ اوڑھا ہواور اندر سے وہ کافر ہو۔ اس نے کسی سازش کے تحت کلمہ پڑھا ہو۔ جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں بھی اس طرح کے کئی کیس سرحدی علاقوں میں پکڑے گئے کہ بھارت سے ہندو مسلمان عالم کے بھیس میں یہاں آتے تھے اور یہاں پر رہ کر وہ انڈیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔ لوگ انہیں مسلمان سمجھ رہے تھے۔ یہ بات تو مسلمانوں کو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ منافق ہے۔ اس نے جو کلمہ پڑھا ہے وہ جھوٹا ہے‘ جبکہ منافقت یا نفاق ایک ایسی بیماری ہے جس کا شکار مسلمان بھی ہوتا ہے‘ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہم کسی سازش کا حصہ ہی نہیں ہیں لہٰذا ہم سے منافقت کا کیا تعلق ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ایسے منافقین کا ذکر قرآن مجید میں بہت ہی کم ہے جو کسی سازش کے تحت اسلام میں داخل ہوئے ہوں ۔ اس طرح کی سازش یہود نے کی تھی جسے قرآن نے بے نقاب کر دیا تھا‘ لیکن جس منافقت کا تذکرہ قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ ہے وہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ایمان تو لائے تھے۔ انہوں نے آنحضور ﷺ کی دعوت ایمان کو قبول کیا تھا‘ لیکن اس کے بعد جب ایمان کے تقاضے اور مشکل مراحل (جہاد و قتال و انفاق) سامنے آئے تو جان و مال کی محبت ان کے پائوں کی بیڑی بن گئی۔ 
آنحضورﷺ کے دور میں جو منافقین تھے ان میں عظیم اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو اسلام کے عملی تقاضوں کی وجہ سے اللہ اور رسول پر دل سے ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تھے‘ کیونکہ اب سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کرنا ہے۔ ’’اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔‘‘ (التوبۃ:111) اس آیت کی رو سے جو بھی مسلمان ہوا ہے اس نے گویا اللہ سے سودا کر لیا کہ جان اور مال صرف اللہ کی ہے، اسی کی امانت ہے، اس کی مرضی کے مطابق خرچ ہو گی یہاں تک کہ ضرورت ہوئی تو ہم اللہ کے راستے میں قتال بھی کریں گے۔ نقد جان لے کر کفار کے مقابلے پر اللہ کے دین کے غلبہ اور قیام کے لیے میدان جنگ میں آئیں گے ۔اس لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے کہ اہل ایمان کفار کو قتل بھی کرتے ہیں اور خود بھی قتل ہوتے ہیں۔ دراصل یہ اسلام اور اس کے تقاضے ہیں، لیکن دنیا کی محبت، مال کی محبت، جان اور مال کے خوف کی وجہ سے قدم پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔ 
یہ مرض ہے اور قرآن نے اس کو مرض کہا ہے۔ جب اس کی چھوت لگتی ہے اور اس کو کنٹرول نہ کیا جائے تو بڑھتے بڑھتے یہ مرض اندر سے ایمان کو ختم کر دیتا ہے۔ اس مرض کا مکی سورتوں میں بھی ذکر ہے۔ ’’اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہو جائے اور اگر کوئی آفت  پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی کافر ہو جائے)   اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔‘‘ (الحج:11)اسلام کے رستے پر آئے ہو تو اب اسلام جو تقاضا کرتا ہے اس کے لیے لبیک کہہ کر آگے بڑھو۔ جب اللہ کو رب مان لیا تو اب اس کے حکم سے پیچھے ہٹنا اپنی عاقبت برباد کرنے والی بات ہے۔ یہ رب سے بے وفائی والی بات ہے۔ دین سے بدعہدی والی بات ہے۔ یہ بیماری ہے جسے قرآن نے کہا ’’فی قلوبھم مرض‘‘ ان کے دلوں میں مرض ہے۔ وہ مرض کیا ہے دنیا کی محبت ہے۔ 
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ تر ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
آنحضورﷺ کو اللہ نے جو ساتھی عطا کیے تھے ان کا سب سے بڑا وصف یہی تھا۔ ایک اشارے پر بڑ ی سے بڑی قوت سے ٹکرانے کے لیے تیار، منتظر ہیں کہ کب بلاوا آئے۔ یہ ہے سچے اہل ایمان کا طریقہ کار، ان کا طرز عمل۔ اس کے مقابلے میں کچے پکے ایمان والے مشکل مراحل میں عذر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ 
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں