07:05 am
آہ حسینؓ  ، واہ حسینؓ

آہ حسینؓ  ، واہ حسینؓ

07:05 am

زوجہ محترمہ سید نا حسینؓ، حضرت سیدہ رباب ؓ نے اپنے عظیم شوہر کی شہادت کے بعد جو دردناک
 زوجہ محترمہ سید نا حسینؓ، حضرت سیدہ رباب ؓ نے اپنے عظیم شوہر کی شہادت کے بعد جو دردناک اشعار پڑھے تھے....  وہ آج بھی  مستند کتابوں میں موجود ہیں، سیدہ ربابؓ  نے فرمایا تھا کہ’’ وہ  نور جو روشنی پھیلاتا تھا کربلا میں  مقتول پڑا ہے،  اسے مدفون بھی کسی نے نہ کیا ، اے سبط نبی اللہ ہماری طرف سے  تجھے بہترین جزا دے،  آپ میزان عمل سے  بچائے گئے۔  میرے لئے آپ بلند پہاڑ کی چوٹی تھے، جسکی پناہ میں تھی، آپ کا برتائو رحم اور دین تھا ....  اب کون  رہ گیا ہے جس کے پاس ہر مسکین ، یتیم اور فقیر کو پناہ ملے گی،  اب مسکینوں کا کون ہے؟  اب اس قرابت کے بعد اور کوئی خوشی پسند نہیں کروں گی، حتیٰ کہ ریت اور مٹی کو   چھوئوں‘‘  
معرکہ حق و باطل ازل سے شروع ہے اور ابد تک جاری و ساری رہے گا، وہ جو پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’جا بر سلطان اور بادشاھان وقت کے خلاف کلمہ حق بلند  کرنا سب سے بڑا جہاد ہے‘‘ (ترمذی)
 سید نا امام حسینؓ کی اپنے 72  سربلند جانبازوں سمیت شہادت اسکی عملی تفسیر ہے،  حضرت حسینؓ صرف اپنی پاکباز بیویوں ، حضرت شہر بانوؓ، حضرت معظمہ لیلیٰؓ،  حضرت ربابؓ، حضرت ام اسحاقؓ، حضرت قفاعیہؓ، اور اپنی اولاد یا دیگر اہل بیت ؓ کیلئے ہی مینارہ نور نہیں تھے    بلکہ روئے زمین پر بسنے والا ہر سچا مسلمان قیامت کی صبح تک آپؓ کو عظمتوں کا مینار سمجھتا رہے گا،  مستند تاریخی روایات کے مطابق 60 ھ  میں یزید نے اسلامی اقدار  کی روح کے منافی اپنی حکومت  بنانے کا اعلان کیا تو مدینہ منورہ میں ایک مختصر حکم نامہ ارسال کیا گیا جس میں تحریر تھا کہ’’ حسینؓ، عبداللہ بن عمرؓا ور عبداللہ بن زبیر ؓ،  کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے، اس  معاملے  میں پوری  سختی سے کام لیا جائے یہاں تک کہ وہ بیعت کر لیں‘‘ (ابن کثیر / الکامل فی التاریخ)۔
 وقت کے حکمران یزید کے اس حکم کو منوانے کیلئے شمر اور ابن زیاد کی سپاہ نے جگر گوشئہ بتولؓ ،  جوانان جنت کے سردار سید نا حسین ابن علیؓ، اور آپ کے جانثاروں کو کربلا کے ریگزاروں میں جاگھیرا،ممکن ہے کہ شمر اور ابن زیادہ کے خیال میں یہ ہو کہ نواسہ رسولؐ سید نا حسینؓ ، جب اپنے اہل و عیال سمیت خود کو یزیدی لشکر کے گھیرے میں محسوس کریں گے تو  طاقت کے سامنے سر جھکانے پر  مجبور ہو جائیں گے  لیکن سرکار دو جہاںؐ کے نور نظر نے طاقت کی  وحشت و بربریت کے سامنے سرجھکانے سے سرکٹانے کو ترجیح دے کر  قیامت تک پیدا ہونے والے مجاہدین کیلئے ایک راہ متعین  فرما دی کسی اللہ والے نے کیا خوب فرمایا تھا کہ ’’ شہیدان حق کی دنیا میں نواسہ رسولؐ سید نا حسین ابن علیؓ،  نے کیا عظیم الشان مقام پایا ہے،کسی نے حق کی خاطر خود زہر کا پیالہ پی  لیا، کوئی قید و بند کی سختیاں زندگی بھر جھیلتا رہا، کوئی تنہا تختہ دار پر جھول گیا....  کسی نے تیرو تلوار سے مر جانا قبول کر لیا،  حسینؓ کا معاملہ ان سب سے مختلف ہے ، آپؓ نے  اپنے گھرانے کا ایک ایک فرد اپنی آنکھوں کے سامنے کٹوا دیا ،  اپنے جگر گوشوں کے لاشے خاک و خون میں تڑپتے ہوئے دیکھے ، پیاسی اور بلکتی ہوئی بچیوں کی آہ و بکا سسکیاں اور صدائیںاپنے کانوں سے سنیںمگر وہ صبر و ضبط کا پیکر، وہ ثبات اور استقلال کا ہمالیہ، وہ جرات و استقامت کا کوہ گراں، وہ حق و صداقت کا علم بردار ، وہ عزت و ناموس کا سراپا، وہ غیرت و حمیت کا کوہ گراں، دشمن اور اسکے باطل عزائم کے سامنے گردن جھکانے  پر آمادہ نہ ہوا ۔
میرا حسینؓ دشمنوں کے جم غفیر میں تنہا رہ گیا ، مگر اسکے صبرو قار  کا دامن پیکر بے داغ رہا وہ دشمنوں کی صفوںپر ٹوٹ پڑا  اور بے مثال استقامت سے لڑتے ہوئے شہادت کا جام نوش کر گیا،  واہ حسینؓ تو نے حق کیلئے جینے اور حق کیلئے مرنے کی عظیم تاریخ رقم کی ایسی بے مثال تاریخ  کہ رہتی دنیا تک آپ کا نام مجاہدین حق کیلئے استقامت کا استعارہ اور دشمنان اسلام کیلئے موت کا پیغام بنا رہے گا،کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ میں کس قدر خوش نصیب ہوں کہ میرا تعلق اس امت مسلمہ سے ہے کہ  جنکے دامن میں سید نا فاروق اعظمؓ  اور سید نا امام حسینؓ جیسے پاکیزہ کردار جگمگاتے ہیں....  سید نا ابوبکر صدیقؓ، سید نا عمر فاروقؓ، سید نا عثمان غنی ؓ ، سید نا علی المرتضیٰؓ، سید نا امیر معاویہؓ، سید نا حسین ؓ ، سید نا حسن ؓ، سید نا طلحہؓ، سید نا زبیرؓ،  غرضیکہ سارے صحابہؓ اور سارے اہل بیت یہ گلشن محمدیؐ کے وہ خوبصورت پھول ہیں کہ جنکے حسن و رعنائی نے پورے عالم کو آج تک مدہوش کر رکھا ہے۔
  13 سو اکتہر برس گزر گئے واقعہ کربلا کو برپا ہوئے مگر انسانی دماغ ابھی تک فرزندان حسینؓ، 18  سالہ سید نا علی اکبرؓ، اور 6 ماہ کے معصوم حضرت عبداللہ المعروف علی اصغرؓ کی لازوال قربانیوں پر تحیر میں ڈوبے ہوئے  ہیں،کربلا کے ریگزاروں کو اپنے مقدس لہو سے  سرخ کرنے والے حیدر کرارؓ، کے باصفا فرزندان حضرت ابوبکر بن علی المرتضیٰؓ، حضرت  محمد بن علی المرتضیٰؓ، حضرت عبداللہ بن علی ا لمرتضیٰؓ، حضرت عثمان بن  علی  المرتضیٰؓ، حضرت جعفر بن علی المرتضیٰؓ ، حضرت عباس بن علی المرتضیٰؓ، سید نا حضرت امام حسنؓ، کے  سربلند بیٹے  حضرت قاسمؓ اور حضرت ابوبکرؓ  سمیت حضرت عون بن  عبداللہؓ، حضرت محمد بن عبداللہؓ، حضرت جعفر بن عقیل ؓ، حضرت عبدالرحمن بن عقیلؓ، حضرت عبدالرحمان بن مسعود التمیمیؓ، حضرت محمد بن سعیدؓ، حضرت عامر بن سلیمؓ، حضرت عمران بن کعبؓ، حضرت سید ناحر، غرضیکہ امام عالی مقامؓ کے سارے ساتھی کٹ تو گئے مگر سپاہ  یزید کے سامنے سر جھکانا گوارا نہ کیا۔
مجھے سید نا حسین ابن علیؓ کے سارے جانثاروں سے والہانہ پیار ہے، مجھے رحمت عالمﷺ کے سارے صحابہؓ سے بے پناہ محبت ہے  مجھے خالق کائنات کے محبوب پیغمبرﷺ سے عشق کی حد تک  محبت ہے،  اس لئے میں اکثر لکھتا رہتا ہوں کہ یہود و  ہنود و نصاریٰ اور ان کی پٹاری کے مچھندر  جتنی مرضی  سازشیں کر لیں،  جتنا چاہے مرضی اسلحہ استعمال کر لیں لیکن وہ مسلمان مجاہدین کو کبھی بھی شکست سے دوچار نہیں کر سکتے کیونکہ  سچے اور مخلص  مجاہدین اسلام کا دامن شہدائے کربلا سے وابستہ ہے،  امریکہ سے برسر پیکار  مجاہدین کی وراثت میں سید ناامام حسینؓ کا  تابناک کردار چمک رہا ہے  اور یہود و نصاریٰ کے پلڑے میں کوئی ، حسینؓ  نہیں ہیں، کوئی شہزادہ علی اکبرؓ اور علی اصغر ؓ نہیں ہے،  میں مرتے دم تک شہدائے کربلا کی سیرت و کردار کو  مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ’’ قلم‘‘ کو کبھی ’’ طاغوتی طاقتوں‘‘ کے سامنے سرنگوں نہیں کرونگا۔ ان شاء اللہ
 

تازہ ترین خبریں