07:06 am
مودی، ہٹلر کے نقش قدم پر 

مودی، ہٹلر کے نقش قدم پر 

07:06 am

بھارت میں شہریت سے متعلق تبدیل شدہ ’’نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز‘‘ میں 19لاکھ آسامی باشندوں کو غیر ملکی
بھارت میں شہریت سے متعلق تبدیل شدہ ’’نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز‘‘ میں 19لاکھ آسامی باشندوں کو غیر ملکی قرار دے دیا گیا اور اب انہیں بھارت سے بے دخل کردیا جائے گا۔
شمال مشرقی بھارتی ریاست آسام مشرقی ہمالیہ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کی سرحد شمال میں بھوٹان اور اروناچل پردیش، مشرق میں ناگا لینڈ اور منی پور، جنوب میں میگھالیہ، تریپورہ ، مزورام‘ بنگلہ دیش اور مغرب میں مغربی بنگال سے متصل ہے۔ اس ریاست کو بھارت سے  جوڑنے والا واحد  زمینی راستہ 22کلومیٹر طویل سلیگوری راہداری  ہے۔ 
آسام کی کل آبادی 3کروڑ پچپن لاکھ سے زائد ہے، جس میں 34فی صد مسلمان، 62 فی صد ہندو اور 4 فی صد مسیحی اقلیت شامل ہے۔ بیسویں صدی کے وسط سے اس کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 1941ء میں اس کی آبادی 67لاکھ تھی جو 1971ء میں 1کروڑ 46 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور 1991ء میں یہ 2کروڑ بیس لاکھ سے زاید ہوگئی۔ 
آسام کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے لیکن مغربی اور جنوبی اضلاع کی آبادی میںبنگلہ دیش  سے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کے نتیجے میں آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا، جس کے باعث زرعی اراضی پر دباؤ بھی بڑھ گیا۔ زراعت کے علاوہ آسام تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، یہ بھارت کی تیل کی ضروریات کا 25 فی صد فراہم کرتا ہے، لیکن یہ ریاست بھارت کی مجموعی ترقی کی رفتار کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکی۔ 1970ء کی دہائی میں یہ خلا مزید بڑھ گیا۔ یہ خطہ چاروں جانب خشکی میں گھرا ہوا ہے اور اسے جو واحد راہداری باقی بھارت سے ملاتی ہے اس پر نقل و حمل کے ذرایع بہت کمزور ہیں ، اس کے علاوہ یہ راستہ سیلاب اور طوفانوں کی زد میں رہتا ہے۔ ریاست کی ترقی میں میانمار، چین ، بنگلہ دیش اور تیزی سے پھیلتی ہوئی جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کے  جغرافیائی اور سیاسی اثرات ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔  انہی اسباب کی بنا پر آسام میں مہاجرین اور بالخصوص تقسیم کے وقت مشرقی پاکستان اور بعد ازاں سقوط ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش سے نقل مکانی کرنے والوں کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا۔ ان تارکین وطن کی بڑی تعداد نے آسام اور مغربی بنگال کا رخ کیا تھا۔ مقامی آسامی آبادی اور بنگالیوں کے درمیان کشیدگی اور تصادم کا آغاز 1950ء کی دہائی میں ہوا لیکن بنگالی مخالف جذبات کی جڑیں نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں۔ آسام میں قبائلی طرز کی معاشرت ہے اور یہ صدیوں سے چلی آتی روایات پر عمل پیرا ہے۔ برطانوی دور میں چائے کی کاشت کے لیے جب بنگال کے اطراف سے افرادی قوت نے یہاں کا رخ کیا تو تبدیلی کا آغاز ہوا۔ نووارد یہاں اپنے ساتھ مختلف ثقافت اور روایات بھی لے کر آئے۔ 
ان حالات سے ’’بونگال کھیدا‘‘ یعنی ’’بنگالیوں کو نکالو‘‘ تحریک نے جنم لیا ، جس کے تحت 1940ء کی دہائی میں برھما پترا وادی سے مہم کا آغاز ہوا اور فسادات پھوٹ پڑے  اور گاہے بہ گاہے یہ سلسلہ 1960ء کی دہائی تک جاری رہا۔ اس دوران بنگالیوں کے مکانات کی لوٹ مار، بستیوں کو آگ لگانے اور بنگالی خاندانوں کو آبادیوں سے نکالنے جیسے واقعات ہوتے رہے۔ 1960ء میں یہ دنگے عروج پر پہنچ گئے اور 50ہزار بنگالیوں کو آسام سے بے دخل کردیا گیا اور بے گھر ہونے والوں نے مغربی بنگال میں پناہ لی۔ 1972ء میں آسام میں اس وقت  بڑے پیمانے پر  نسلی فسادات ہوئے، جب آسامی تنظیموں نے گوہاٹی یونیورسٹی میں آسامی زبان کو واحد ذریعہ تعلیم بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان فسادات کا سبب یہ تھا کہ بنگالی آسامی زبان کو تعلیمی و سرکاری زبان کے طور پر ختم کرنا چاہتے تھے۔ 1979ء میں بنگالی مخالف احتجاج کی نئی لہر اٹھی، اس کی قیادت آسامی اسٹوڈنٹ یونین نے کی اور یہ احتجاج چھ برس تک جاری رہے جس کے بعد 1985ء میں بھارتی حکومت اور آسام تحریک کے نمائندگان کے مابین ’’معاہدۂ آسام‘‘ طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق 24دسمبر 1971ء کے بعد آسام منتقل ہونے  والوں کو غیر قانونی تارک وطن قرار دیا گیا اور انہیں ریاست سے بے دخل کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا۔ ایسے افراد جو جنوری1966ء اور دسمبر  1971ء کے مابین بھارت میں داخل ہوئے انھیں دس سال سکونت اختیار کرنے کی شرط پر شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 1966ء سے پہلے، 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد ،نقل مکانی کرنے والوں کو از خود شہریت ملنے کا حق تسلیم کرلیا گیا۔ 
2014 ء میں برسر اقتدار آنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ این آر سی وہ دستاویز ہے جس میں حقیقی بھارتی شہریوں کا اندراج کیا جاتا ہے، 1955ء میں پہلی مرتبہ اسے تیار کیا گیا۔ نیا اور تبدیل شدہ این آر سی 31اگست 2019ء کو جاری کیا گیا جس میں  آسام کے رہایشی  19لاکھ افراد کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ایسے افراد کی تعداد کا اندازہ 50لاکھ لگایا گیا تھا تاہم اب بھی یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ متعدد خاندان تقسیم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فہرست میں شامل نہ ہونے والے افراد 120دن تک خصوصی فارنر ٹریبیونل میں اپیل کرسکتے ہیں، ان ٹریبیونلز کی تعداد میں مزید دو سو کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ ٹریبیونل کے ارکان کی ناقص کارکردگی اور اندراج سے لے کر اپیل کی سماعت تک اس پورے عمل میں کئی سقم اور غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ دوسری جانب  بنگالی بولنے والے ہندوؤں کی بڑی تعداد کی حتمی فہرست میں عدم شمولیت کی وجہ سے بی جے پی کے اندر بھی اس عمل کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ این آر سی کے موجودہ طریقہ کار سے ناامید ہوکر بی جے پی کے مقامی وزیر ہمانتا بسوا سرما نے کہا ہے کہ ان کی جماعت پہلے ہی غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹننے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق اس وقت حراستی کیمپوں میں 1135افراد رکھے گئے ہیں۔ فہرست میں شامل نہ ہونے والے افراد کی اپیلیں ٹریبونل سے مسترد ہونے اور ان کے لیے تمام قانونی راہیں مسدود ہونے کے بعد انھیں قانونی اعتبار سے غیر ملکی تصور کیا جائے گا اور ممکنہ بے دخلی کے پیش نظر انھیں حکومت کے قائم کردہ حراستی کیمپوں میں رکھا جائے گا۔ 
یہ پالیسی ہٹلر کے جرمنی کی یادگار ہے جہاں جرمنی میں پیدا ہونے اور نسل در نسل وہاں رہنے والے یہودیوں کو ’’غیر جرمن‘‘ قرار دے کر حراستی کیمپوں میں دھکیل دیا گیا تھا، جہاں بڑی تعداد میں بنیادی زندگی کی ضروریات سے محرومی کے باعث ان کی اموات ہوئیں یا انھیں قتل کردیا گیا۔ کیا بھارت بھی یہی کرنا چاہتا ہے؟ بے دخل کیے گئے افراد کو صرف بنگلادیش بھجوایا جاسکتا ہے اور بنگلادیش سے معاہدے اور تعاون کے بغیر  ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ 
 

تازہ ترین خبریں