07:08 am
جن پر شہادت کو ہے ناز…حضرت امام حسینؓ!

جن پر شہادت کو ہے ناز…حضرت امام حسینؓ!

07:08 am

کر بلا کا درس یزیدی افکار کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے جو قومیں درسِ کربلا  بھلا دیتی ہیں وہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں
کر بلا کا درس یزیدی افکار کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے جو قومیں درسِ کربلا  بھلا دیتی ہیں وہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی رہتی ہیں اور خجالت و رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ حسینؓ ایک شخصیت ہی کا نام نہیں ،امام حسینؓ ایک آفاقی پیغام ،ابدی پیغام، کائناتی پیغام ،جو ہر دور کے مظلوم اور مجبور انسانوں کو درسِ عمل اور ولولہ شوق عطا کرتا رہے گا۔ حسین رضی اللہ تعالی عنہ ایک مذہب ہے جو ہمیشہ طاغوتی طاقتوں سے ٹکرانا سکھاتا رہے گا ۔ حسین ؓایک سیاست کا نام ہے جس کے نزدیک کسی قیمت پر بھی اصولوں پر سودے بازی نہیں ہو سکتی ،حسین ؓایک ملت ہے جس کی ابتدا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی اور کربلا کے میدان میں اپنے نکتہ عروج کو پہنچی، حسینؓ صدائے انقلاب ہے جو ہر دور میں بلند ہوتی رہے گی ،حسینؓ ایک تہذیب کا نام ہے اور حسینؓ شرافت کا ایک معیار ہے ۔
دس محرم الحرام اسلامی تاریخ کا ایک مستقل اور انتہائی دردناک باب ہے ،امام حسین رضی اللہ عنہ ہمارے عظیم محسن و پیشوا اور دین و ملت کے محافظ و پاسبان اور جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں ، انہوں نے دین کے لیے اپنی جان اور خاندان کو قربان کر دیا ۔ہماری مذہبی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی دین پرور زندگی اور کردار و عمل کو مشعل راہ بنائیں ،  ان سے سیکھیں، ان کی قربانی کا جو مقصد تھا اسے اجاگر کیا جائے۔ عوام کو خاص کر نئی نسل کو ان کی زندگی اور دین اسلام کے لیے قربانی، ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا،اصولوں پر سودے بازی نہ کرنا ،ظالم کے آگے ڈر یا موت کے خوف سے سر نہ جھکانا ۔اور بے سروسامانی کے باوجود ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا جیسے پہلوئوں سے روشناس کرائیں۔آپ کی زندگی سے یہ درس ملتا ہے کہ۔
جب بھی ضمیر کے سودے کی بات ہو
ڈٹ جائو حسینؓ کے انکار کی طرح
مسلمانوں کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی میں جو درس ہے اسے ہم مسلمانوں کی اکثریت بھول چکی ہے جس میں امام حسینؓ نے اپنے خاندان کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کبھی باطل کے سامنے سر نگوں نہیں ہو سکتا ، ایک مسلمان پر توحید و رسالت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ احکام الٰہی اور فرامین رسول ﷺ کا نفاذ بھی ایمانی ذمہ داری ہے ۔اور یہ ذمہ داری اپنے گھرسے لے کر کوچہ وبازار تک ، مسجد سے لے کر سیاست و حکومت کے ایوانوں تک ہے آج امام عالی مقام کی سیرت سے ملنے والے اس درس کو پھیلانے کی اشد ضرورت ہے ،اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ،اپنے ذاتی مفادات سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے ۔مسلمان مصائب کے طوفان کا دھارا موڑ دینے کا دعوی دار نہیں یہ بھی ضروری نہیں کہ کامیابی ہی ملے اسلام میں کلمہ حق کہنا ہی کامیابی ہے ۔ اسلام مصائب میں جینا سکھا دیتا ہے ۔
امام حسینؓ نے اپنی عمر کے چھ سال، چھ مہینے اور چوبیس دن اپنے پیارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زیر سایہ گزارے ۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت امام حسینؓ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے جس کا انھوں نے متعدد مواقع پر برملا اظہار بھی کیا۔ اس کی ایک مثال یہ حدیث شریف ہے(حسین ؓمجھ سے ہیں اور میں حسین ؓسے ہوں)۔ پیغمبراسلام حضورﷺ کی حدیث حسنؓ اورحسینؓ جنت میںنوجوانوںکے سردارہیں۔کوفے کے لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں امام حسینؓ کوخط لکھے تھے اور آپ سے درخواست کی تھی کہ وہ وہاں آ کر ان لوگوں کی ہدایت فرمائیں۔
مکہ اور مدینہ کے حالات دیکھنے کے بعد حضرت سید الشہدا اپنے اہل خانہ اور اصحاب و انصار کے ساتھ کوفے جانے کا فیصلہ کیا تاہم وہ ابھی کوفے پہنچے بھی نہیں تھے کہ کچھ منزلیں پہلے ہی یزیدی لشکر نے انہیں روک دیا اور یزید کی بیعت کرنے کا مطالبہ کیا تاہم آپ نے کہا کہ وہ ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔چنانچہ اس چھوٹے سے لشکر نے کربلا کے چٹیل میدان میں قیام کر لیا ۔دس محرم سنہ61ہجری میں امام حسینؓ نے کربلا میں 56سال 5 ماہ اور 6 دن کی عمر میں جام شہادت نوش کیا اور اسی مقام پر دفن ہوئے ۔
اسلام میں شہداحق کاسلسلہ طویل اور دراز تر ہے۔ لیکن معرکہ حق وباطل اور دنیا ئے شہدامیں حضرت امام حسینؓ کامرتبہ و مقام کئی اعتبار سے ممتاز اور نمایاں ترین ہے۔ امام عالی مقام نے اپنی سپاہ کابیشتر حصہ میدان کربلا  میں راہ حق میں شہید کروانے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے بیشتر مرد وزن اپنی آنکھوں کے سامنے دین کی سربلندی کی خاطر قربان کردیئے اور خود دشمن کی صفوں کو تن تنہا چیرتے ہوئے ان پر ٹوٹ پڑے،امام جو اں مردی اور بہادری سے لڑتے ہوئے دین اسلام اور شعائر اسلام کی سربلندی کے لیے بڑے عزم و استقلال سے جام شہادت نوش کر گئے۔ شہید ان حق اور فدائیان اسلام ہمیشہ معرکہ حق وباطل میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ اسلام کی سربلندی نگاہ حق پرست میں جان سے عزیز اور اہم تر ہوتی ہے۔ امام عالی مقام کی شہادت ایک ایساالمناک او ردردانگیزواقعہ تھا کہ امت صدیوں سے آنسو بہانے کے باوجود ان کی شہادت پر آج بھی افسردہ اور غم ناک ہے۔ سینکڑوں برس گزرجانے کے باوجود یہ زخم، غم اور واقعہ تازہ ہے۔ 
نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشہ بتول سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں جانثاری کی ایک نئی تاریخ رقم کر کے قربانی کی ایک لازوال مثال قائم کر دی اور رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ باطل کے خلاف حق کی سربلندی کے لئے اگر سر تن سے جدا بھی ہوتا ہے تو پرواہ نہ کی جائے اور قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔آپؓ کی شہادت سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ انسان پرجتنی مصیبتیں آجائیں صبرسے کام لے اورظالم، جابرکے سامنے نہ جھکیں۔ہروقت اللہ کی عبادت کریں ۔آج جہاں ہم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ سیرتِ حسین رضی اللہ عنہ پر عمل پیرا ہوں۔ اپنے ظاہر و باطن کو ان کی سیرت میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ باہمی رنجشوں اور فرقہ واریت کو چھوڑ کر محبت و عمل کا نشان، دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علمبردار اور اسلام کی خاطر مر مٹنے والے بن جائیں تاکہ روز حشر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے سامنے سرخرو ہو سکیں اور کہہ سکیں کہ اے حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیاں دین کی سربلندی کی خاطر قربان کی ہیں۔اللہ پاک نواسہ رسول ﷺکے صدقے ہماری بخشش و مغفرت فرمائے اور سرکاردوعالم ﷺکی بروز قیامت  شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین
 

تازہ ترین خبریں