07:55 am
ریاستی مفادات ایجنڈے میں عمران خان اور ن لیگ کا ممکنہ اتحاد؟

ریاستی مفادات ایجنڈے میں عمران خان اور ن لیگ کا ممکنہ اتحاد؟

07:55 am

دیکھنے میں امریکی صدر ٹرمپ کتنے طاقتور ہیں؟ عملاً مگر وہ تو پھنسے ہوئے ہیں بالکل وزیراعظم عمران خان کی طرح ان کی اسٹیبلشمنٹ (پینٹاگان) اور ڈیپ اسٹیس (سی آئی اے‘ وغیرہ) کا ایجنڈا ان سے دو ٹوک اکثر مختلف ہے۔ صلح پر آمادہ طالبان سے مکمل ہوتے مذاکرات اچانک معطل ہوگئے ہیں مگر اصل میں صدر ٹرمپ کے سیاسی مفادات‘ اسٹیبلشمنٹ کے مفادات اور ڈیپ اسیٹس کے مفادات کا تصادم اور تضادات نما جھلکیاں بن کر بار بار سامنے آرہی ہیں۔ مشیر قومی سلامتی جان بولٹن ڈیپ اسٹیس کے قدیمی حکمت کار تھے مگر طالبان معاملات پر بالآخر  انہیں صدر ٹرمپ نے فارغ کر دیا اور اب مشیر قومی سلامتی نیا آئے گا۔ اصل ایجنڈا ڈیپ اسٹیس ہی ہرملک کا  تیار کیا کرتی ہیں۔ وہ عشروں بلکہ صدیوں کے لئے ایجنڈے تیار کرتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ان ایجنڈوں پر عملدرآمد کروایا کرتی ہے امریکی صدر سیاسی  یعنی ہمارے ہاں کے مطابق وزیراعظم یعنی پارلیمانی سیاسی حکومتی اختیارات استعمال کیا کرتے ہیں۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ میں 1999ء میں جب ایک اخبار میں کالم لکھتا تھا اور ساتھ ہی اوصاف میں بھی تو جنرل مشرف کی نئی حکومت آئی تھی ۔  اکثر میں 12اکتوبر1999ء کے نتیجے میں جنم لیتی  جنرل مشرف حکومت کی حمایت میں کالم لکھتا تھا۔ ایک ادارے  کے اصحاب فکرنے بالآخر مجھے تلاش کیا کہ میں نے ہی جنرل مشرف کے صدر بننے کا تحریری مشورہ دیا تھاوہ اکثر مجھ  سے یہ بھی سمجھتے رہتے کہ میں کیوں  اسامہ بن لادن کے فکر جہاد کو تباہی و بربادی لکھتا ہوں؟  ’’ایجنڈے کی لڑائی‘‘ کے  حوالے سے کالم جب مسلسل لکھتا تھا‘ تب نائن الیون نہیں ہوا تھا محبت سے وہ مجھ سے پوچھتے کہ  اس سے کیا مراد ہے؟ میں کہتا یہ میرا الہامی وجدان ہے کہ مجھے شمال کی طرف یعنی افغانستان کی طرف سے بہت برے حالات اور تباہی اللہ تعالیٰ دکھا رہے ہیں۔وہ جنرل کیانی کے بعد پھر آئی ایس آئی کے ڈی جی بنے‘  ایجنڈے کی لڑائی پر لکھے ہوئے کالموں کو وہ جنرل مشرف کے کانوں میں صور اسرافیل بناتے مگر مجھے  مشرف سے بہت دور رکھا کہ ہر ڈیپ اسٹیٹس ایسا ہی کیا کرتی ہیں ۔
ایک دن مجھے جنرل راشد قریشی نے بھی بلوایا آئی ایس پی آر کے دفتر میں  اور بتایا کہ وہ میرے کالموں کے قاری رہے ہیں۔ بریگیڈئیر صولت رضا ان کے معاون تھے مجھ سے پوچھا کہ ’’خود آپ کو اپنے لئے  کیا درکار ہے؟ جواب دیا صرف افکار کی تحریر‘ اپنی ماں جیسی ریاست کی حفاظت اور مدد‘ منصب ہرگز نہیں چاہیے‘‘ ماشاء اللہ یوں ہم گھر  بیٹھے رہنے کا بندوبست کر بیٹھے اسی لئے معاشرہ مجھے ناکام ترین کردار کہتا ہے۔ جان بولٹن کے ذکر کے حوالے سے یہ یادیں آگئیں ہیں۔ اب صدر ٹرمپ پھنسے ہوئے ہیں۔ کیا وہ میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ ہرگز نہیں اب آئیے ہماری پارلیمنٹ کی  طرف‘ وزیراعظم عمران خان کی طرف‘ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی طرف‘ عملاً پارلیمنٹ قوم اور ریاست پر مکمل بوجھ بن گئی ہے کابینہ بھی بوجھ ہے کبھی کبھی کہا جاتا ہے کہ ’’چکوال‘‘ نے‘ جو کچھ قوم کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی صورت میں دیا وہ حکومت نما شکل و صورت تو ہے مگر حکومت نہیں ہے کیا یہ صورتحال جان بوجھ کر پیدا کی گئی  تھی؟ ’’چکوال بندوبست‘‘ کا الزام ن لیگ لگاتی ہے ہارون الرشید نے جنرل پاشا کے بارے میں لکھا کہ انہیں جنرل کیانی نے عمران خان  کے پاس کچھ معاملات پر بریفنگ کے لئے بھیجا مگر وہ تو عمران خان پر عاشق ہی ہوگئے اور ان کی تحریک انصاف کو نسخہ کیمیا سمجھ بیٹھے‘ یہ بات انہوں نے لکھی ہے جو سالہا سال تک  عمران خان کے واحد قلمی  مجاہد تھے جس نے کردار عمران خان کو تخلیق کیا مگر وہ  اقتدار والے عمران خان کے اردگرد موجود ہی نہیں ہیں۔ اس المیے کو بھی ذرا غور سے دیکھئے۔ جب تخلیق کار ساتھ نہ ہو تو کہانی کو بھی  ڈراما اور فلم بنایا جارہا ہو‘ فوری مطلوب تبدیلیاں کرنے کے لئے وہ افراد موجود  ہوں جومگر کہانی کے اصل تخلیق کار ہی نہ  ہوں  تو ایسے ڈرامے اورایسی  فلمیں کمرشل طور پر  کامیاب نہیں ہوتیں جیسے عمران خان کے اردگرد موجود اکثر افراد جو عمران خان نامی کردار کے تخلیق کار ہی  نہیں تھے۔  کیا وزیراعظم عمران خان دلیر بن کر صدر  ٹرمپ کی طرح اپنے ہاں موجود بہت سے جان بولٹنوں سے فوراً نجات پاسکتے ہیں؟
دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اقرار شکست کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی متوقع مذہبی مدارس اور علماء کی مدد و حمایت سے تیار ہوتی اکتوبر کی مخالفانہ تحریک کے سامنے لیٹ جائیں اور اسمبلی توڑ دیں ن لیگ سمجھتی ہے  کہ  عمران خان بھاگ جائیں گے اور اسمبلی توڑ دیں گے  یوں  فوراً نئے انتخابات منعقد ہو جائیں گے اور ن لیگ اقتدار میں آجائے گی۔ میری نظر میں  ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
5ستمبر کو جو کالم  اوصاف نے میرا شائع کیا تھا ن لیگ اور عمران خان میں ممکنہ تعاون کا اشارہ اور طریقہ لکھا تھا۔  ن لیگ تاحال نواز شریف اور مریم نواز شریف کو ہی دائمی قائد سمجھتی ہے 2020ء  کو انتخابات کا سال سمجھتی ہے جیسا کہ پرویز رشید کا بیان ہے مگر مجھے نواز شریف و مریم نواز اور ان کے ساتھیوں کو دور دور تک اقتدار ملتا نظر نہیں آتا۔ اگرچہ پروفیسر غنی جاوید نے بول ٹی وی پر گزشتہ اتوار کی شام سمیع ابراہیم کے ساتھ اپنے نجوم شو میں 2020ء میں نواز شریف کے لئے کچھ خوشخبریاں سنائی ہیں مگر میں نواز شریف کو صحت کے مسائل سے اکثر دوچار دیکھتا ہوں۔ شہبا زشریف اور اس کی اولاد کے حالات تو نواز شریف سے بھی ابتر ہیں ۔ ن لیگ والوں کو اگر اقتدار اور ملک کی سلامتی بھی‘ چاہیے تو وہ شہباز شریف اور نثار علی خان سے امیدیں وابستہ نہ کریں بلکہ کسی اور کو وقتی طور پر لیڈر بنا لیں اور عمران خان کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت حاصل کرلیں یوں ریاستی مفادات کا تحفظ  اور ن لیگ کو اقتدار مل جائے گا۔

تازہ ترین خبریں