07:56 am
 نظام کی لاش 

 نظام کی لاش 

07:56 am

 خدا دشمن کو بھی تھانے ، کچہری اور ہسپتال سے دور رکھے! یہ جملہ بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں  البتہ اس کا مفہوم اب زیادہ قوت سے آشکار ہو رہا ہے۔ ظالم سے بچنے کے لیے پولیس کی پناہ طلب کرنے تھانے جانے کی ہمت کون کرے گا ؟  ملک بھر میں پولیس امان نہیں ظلم کی علامت بن چکی ہے اور بلاشبہ پنجاب پولیس سفاکیت میں دیگر صوبوں پر برتری لیے ہوئے ہے۔ ساہیوال میں معصوم بچوں کے سامنے ماں باپ اور بہن کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ! ماڈل ٹائون لاہور میں سڑک سے بیرئیر اٹھاتے اٹھاتے چودہ بے گناہوں کو گولیوں سے بھون ڈالا ! سو سے زیادہ گھائل ہوئے ! اُن میں سے کتنے عمر بھر کے لیے معذور ہوئے یہ کسی کو پتا نہیں ! تازہ خبر اے ٹی ایم مشین توڑ تے ہوئے منہ چڑانے والے صلاح الدین نامی شخص کی پولیس حراست میں ہلاکت کی ہے۔ یہ خبر سوشل میڈیا کی مہربانی سے پھیلتی چلی گئی کیونکہ انسانی جان کی حرمت سے زیادہ اس خبر کا مرچ مصالحہ  سوشل میڈیائی بقراطوں کو مرغوب ہے۔ درج بالا تین واقعات پنجاب پولیس کی دیگ کے چند دانے ہیں ۔ میڈیا کی بدولت یہ واقعات تو چھپ نہ سکے لیکن پولیس کے ان گنت بھیانک  مظالم پر عموماً پردہ پڑا رہتا ہے۔ کچہری  میں  انصاف کی  فراہمی کا حال یہ ہے کہ آج مقدمہ چلے تو فیصلہ ہونے تک مدعی قبر کا مکین ہوچکا ہوتا ہے ۔ سماعت کی تاریخ مقرر ہونے سے لے کر  پیشی کے مرحلے تک ہر چھوٹے بڑے کام کا نرخ مقرر ہے۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کا قانون انصاف کی غلام گردشوں میں رائج ہے۔ 
 
سوشل میڈیا پر گردش کرتا یہ جملہ طبقاتی تقسیم کی درست عکاسی کر گیا کہ اگر آپ چھوٹی موٹی چوری کر رہے ہیں تو احتیاط برتیں کیونکہ اس میں آپ کی جان بھی جا سکتی ہے، البتہ اگر آپ نے اربوں کھربوں روپے کا لمبا ہاتھ مارا ہے تو پھر آپ کو ضمانت سمیت علاج معالجے کی تمام سہولیات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے۔ سرکاری شفا خانوں کے نام پر جو عقوبت خانے ریاست نے عوام کو مہیا کیے ہیں ان میں علاج کے نام پر مریض اور لواحقین کے لیے ذہنی اور جسمانی اذیت کا بھر پور بندوبست کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر امن پسند شہری تھانے ، کچہری اور ہسپتال کے نام سے تھر تھر کانپتا ہے ۔ علاقے کا بدمعاش یا قبضہ مافیا کا سرغنہ جب شریف آدمی کو مقدمہ درج کروانے کی دھمکی دے تو  مظلوم دونوں ہاتھ جوڑ کے ظالم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ظالم جب چاہے قیمت ادا کر کے نظام کو موم کی ناک کی طرح اپنی مرضی سے مروڑ کے رکھ دے ! صلاح الدین چور تھا ؟ یا ذہنی معذور تھا ؟ اُس کے پیچھے کوئی منظم گینگ تھا یا چھوٹے موٹے ہاتھ مارنے والے عادی مجرم مل جل کر لوٹ مار کر رہے تھے ؟ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا ریاستی ادارے پولیس کا کام تھا ؟ پولیس نے ان سب سوالوں کا ایک جواب صلاح الدین کی تشدد زدہ لاش کی صورت میں پیش کر دیا ہے۔ لفاظی کرنا چاہیں تو ہم اس لاش کو ریاستی نظام کی لاش سمجھ لیں ! سوشل میڈیا کی بدولت معاملے کی اعلیٰ سطحی تفتیش جاری ہے۔
 وزیر اعلیٰ پنجاب نے صلاح الدین کے اہل خانہ کو تعزیت کے لیے طلب فرمایا ! تصویر اخباروں میں شائع ہو چکی ہے! جان لیوا تفتیش کے بعد اب سرکاری تعزیت کا نیا انداز سامنے آیا ہے کہ جس میں ریاستی ادارے کے ہاتھوں تشدد سے مرنے والے کا باپ صوبے کے حکمران کی خدمت میں حاضر ہو کر تعزیت کا شرف حاصل کر رہا ہے۔ تعزیت کا یہ انداز نہ تو ہمارے مذہب نے سکھایا اور نہ ہی سماجی اقدار میں ایسی متکبرانہ روش کی کوئی گنجائش ہے۔ رہی بات واقعے کے زمہ داروں کو سزا دینے کی تو کون نہیں جانتا کہ جو نظام  ماڈل ٹائون اور ساہیوال جیسے دلخراش سانحات کے مجرمان کو آج تک سزا نہیں دے سکا وہ صلاح الدین کے باوردی قاتلوں کا کیا بگاڑ لے گا ۔ تفتیش کا حکم جاری ہو گا ! زیادہ شور مچا تو  جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی جائے گی ۔ سوشل میڈیا کے بقراطوں نے شور شرابہ مچایا تو خصوصی کمیٹی بٹھا دی جائے گی ۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسی کمیٹیاں معاملہ حل کرنے کے بجائے معاملے کے اوپر بیٹھ جاتی ہیں ۔
 نظام کی خرابی ہر گذرتے دن کے ساتھ پوری شدت سے آشکار ہورہی ہے۔ محض پولیس ، عدلیہ اور ہسپتالوں کا معاملہ نہیں ہر سرکاری ادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ایک سال گذرنے کے بعد ستائیس وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کر کے ناقص کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر کے وزیراعظم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ناکام تو ہونا ہی تھا ! ناکام سیاسی جماعتوں کے سیاسی بھگوڑوں کے بل پر کامیابی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ ابھی بھی چار سال باقی ہیں ۔ مایوسی کے بجائے نئی راہیں اور موثر حل تلاش کیے جائیں ! مخلص نظریاتی افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جائے تو ریاستی نظام کی دھکا سٹارٹ گاڑی ترقی کی شاہراہ پر پوری رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ وزیر اعظم صاحب ! مایوس ہونے کے بجائے  اصلاح پر توجہ دیں ۔ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں ! یاد رکھیے کہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا نے کے بعد ناسور زدہ نظام کی اصلاح کرنا  اب آپ کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے۔

تازہ ترین خبریں