07:57 am
دفاع کے لیے وسائل اہمیت ، چند تجاویز 

دفاع کے لیے وسائل اہمیت ، چند تجاویز 

07:57 am

جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تو پاکستان ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پستی کے اس سفر کا آغاز زرداری اور پیپلز پارٹی  کی کرپٹ ترین حکومت کی 2008 میں آمد سے ہوا اور 2013 میں نواز شریف برسر اقتدار آنے کے بعد بھی جوں کا توں جاری رہا۔ اس بات میں تو کسی شک یا قیاس آرائی کی گنجائش نہیں کہ یہ لوگ بدعنوان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عدلیہ اس حوالے سے اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے الفاظ کے ساتھ کھیل رہی ہے جبکہ چالاک وکلاء، جنہیں اچھی ادائیگیاں کی جاتی ہیں، قانون کی روح کو مجروح کررہے ہیں؟ کیا ہمارے جوانوں نے بے کار اپنے ملک کے لئے جانیں گنوا دیں؟ معاشی نظامکی ابتری ملکی سلامتی کی ضروریات کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔ معیشت اور سلامتی باہمی طور پر وابستہ تصور کرنے کے منفرد تصور سے ہی اس صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، پاکستان کو روایتی سانچوں اور جمود کو ختم  کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگرچہ محصولات میں اضافہ لازمی ہے، لیکن ہمیں بچت اور تبدیلیوں کو موثر بنانے کے ہر طریقے پر غور کرنا چاہیے۔
 
دفاع سے متعلق اخراجات غیر معمولی طور پر بڑھے ہیں۔ اس کی وجہ پنشن اور اس کی منتقلی ہیں۔ آج یہ 250 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ شماریاتی مقاصد کے لئے، یہ رقم کس کھاتے میں ڈالی جاتی ہے، اسے وصول خزانے سے ہی کرنا پڑتا ہے۔ ان اخراجات کی مسلسل اضافے سے آنے والی دہائی میں سیکیورٹی کے اخراجات بہت کم ہوں جائیں گے، آئندہ ہم اس کو کس طرح برقرار رکھ سکیں گے؟ ہر سال قومی بجٹ کا ایک اہم حصہ ریٹائر ہونے والے اہلکاروں کی  ’’پنشن کمیوٹیشن‘‘   پر صرف ہوتا ہے۔ پنشن فنڈ کو خودکار طور پر برقرار رکھنے کے لیے اس منصوبے کے حوالے سے علیحدہ اور تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ مسلح افواج کے اہل کار اپنے سویلین ہم منصبوں سے بہت پہلے ریٹائر ہوجاتے ہیں مگر وہ قومی خزانے پر بوجھ بنے بغیر بھی قومی زندگی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلح افواج کے اہلکاروں کی ابتدائی ریٹائرمنٹ کے 'نتائج' مکمل طور پر متضاد ہیں۔ (1) دوسری ’نوکری‘، جو انہیں ’ریٹامنٹ کی حقیقی عمر ‘ تک لے جائے، کی تلاش میں انہیں سڑکوں پر بھیج دینا مجرمانہ فعل ہے۔ 2) صرف ایک سرسری سروے سے ظاہر ہوجائے گا کہ ان میں سے بہت سارے افراد ’کمیوٹیڈ پینشن‘ کو شادیوں کے انتظامات، نمود و نمائش کی اشیاء کی خریداری اور بے روزگار افراد کی صفوں میں شامل ہونے میں ضائع کردیتے ہیں۔ 3) المیہ یہ ہے کہ ریاست کو ان لوگوں کو ’پنشن کمیوٹیشن‘ ادا کرنا پڑتی ہے جو اب بھی پیداواری کام کرنے کے اہل ہیں، اس سے بجٹ میں سے بہت زیادہ حصہ نکل جاتا ہے۔ 4) ریاست  ایک بڑی تربیت یافتہ اور منظم افرادی قوت  سے محرومی حماقت ہے۔
دفاعی خدمات کی تربیت رکھنے والی افرادی قوت کا استعمال ریاست کے لئے انتہائی ضروری ہے جس میں جوان اور افسر دونوں شامل ہیں جو بالترتیب 35-45 سال کے درمیان ریٹائر ہوتے ہیں۔ 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے اور 12 سال کی کمیوٹیشن کے بعد ان کے سویلین ہم منصب 72 سال کی عمر میں مکمل پنشن ملنے کے اہل ہوتے ہے۔ پنشن اور تبدیلی کا موجودہ نظام سرکاری خزانے اور  کم عمری میں ریٹائر ہونے والے دفاعی اہلکاروں، دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ قومی بجٹ میں تقریبا 35-40 سالوں تک ان کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ بہت کم عمر میں اچھی تربیت یافتہ افرادی قوت کے ساتھ ایسی ملازمتوں کی تلاش کرتے ہوئے جن کے لئے وہ تربیت یافتہ نہیں ہیں، وہ اپنی زندگی کے ایک اہم مرحلے پر  کئی مالی پریشانیوں سے گزرتے ہیں۔ چوںکہ اس عمر میں صرف محدود تعداد میں ملازمتیں دستیاب ہوتی ہیں، لہٰذا یہ انسان کے لئے مایوس کن مشق ہوسکتی ہے۔
کسی بھی بندوبست کو لازمی طور پر ان چیزوں کو ملحوظ رکھنا ہو ، ریاست کی‘کمیوٹڈ پنشن ’پر خرچ کی گئی رقم کی بچت ، اہلکاروں کی پیداوری صلاحیت کا بھرپور استعمال، جن کی تربیت پر اس وسائل صرف کیے ہیں ، تربیت کے اخراجات کی بچت۔ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور کمیوٹیشن کے اخراجات کو بچانے کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ،35-45 سال کی عمر میں مزید ترقی کا موقع نہ ہونے کے سبب ملازمت کو مکمل کرنے والے افسران اور جوان 60 سال کی عمر تک سول آرمڈ فورسز (سی اے ایف)، پولیس، مجسٹریسی، وزارت قانون و تعلیم (خاص طور پر مشکل علاقوں میں) شامل ہوں۔  سول سروس کے قواعد کے مطابق 60 سال تک کی عمر کے تمام افسران اور دیگر ریکنس (جو اس آپشن کو منتخب کرتے ہیں) کو ملازمت کی ضمانت فراہم ہوجاتی ہے۔ کیا آپ معیار میں بہتری کا تصور کرسکتے ہیں جب وہ ، پاکستان رینجرز ،پاکستان کوسٹ گارڈز، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے پی کے، فرنٹیئر کور کے پی کے ،  فرنٹیئر کور بلوچستان،  ائیرپورٹ سیکورٹی فورس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور   پولیس میں شامل ہیں جہاں تمام براہ راست بھرتیوں کو روکنا ہوگا، انہیں نچلی عدالتوں کے مجسٹریٹ اور جج کے طور پر بھی  شامل کیا جاسکتا ہے۔ ان ریٹائرڈ اہلکاروں کو انتظامیہ، فوجی قانون، سیکورٹی، تربیت وغیرہ کا پہلے سے ہی کافی علم ہے۔ فوج میں شامل اہلکاروں کو شامل کرنے سے قبل انہیں متعلقہ شعبے میں خصوصی شارٹ کورس ، تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو افسر یا جوان اس آپشن کے لئے جانا چاہتے ہیں، انہیں 60 سال کی عمر کے بعد مکمل پنشن دی جانی چاہئے۔ کچھ افسروں کے گریڈز سمیت کئی بھرتیوں کا انتخاب براہ راست ان اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ کسی بھی سی اے ایف برانچ ، فورس میں ابتدائی بھرتی نہیں ہونی چاہئے۔ ضرورت سے زیادہ تربیتی اسکولوں اور اداروں کو سی اے ایف کے ایک ایک سنٹرل اسکول سے بدل کر بند کردینا چاہیے جس کی شاخیں ہر صوبے میں ہوں۔ اس کے نتیجے میں بہت زیادہ بچت ہوگی۔
سی اے ایف کی خدمت کی مدت آرمی کی طرز پر ہے جبکہ تنخواہ، پنشن آرمی سے کم ہے۔ سی اے ایف کی قیادت بڑی حد تک فوج فراہم کرتی ہے جسے اب اپنے آپریشنل فرائض سے الگ رکھا جاتا ہے۔ سی اے ایف اور جی ایچ کیو کے تمام شعبوں کے مابین بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب ہوگا کہ سی اے ایف کے لئے سٹریٹجک فورس گروپ کے تحت ملازمت کے لیے ایک علیحدہ ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے جبکہ دوسری صورت میں وزارت داخلہ کے ماتحت رہے۔ سی اے ایف وغیرہ میں جوان خون کی مقامی شمولیت کی تلافی کے لیے، ان علاقوں کو فوج میں شمولیت کے لیے اضافی کوٹہ دیا جائے۔
پولیس کا حکومت کے ذریعہ سیاسی بنیادوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے پولیس اہلکاروں کے لیے ممکن ہوگا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کریں۔ بے حسی اور مکروہ سلوک کو دیکھیں، کوئی بھی عزت نفس رکھنے والا شخص تھانے نہیں جانا چاہتا ہے۔ کسی خاتون کو شکایت درج کروانے کے لئے کسی تھانے میں جانے کے لیے بھیجنا پریشانی کو دعوت دینا ہے۔  پولیس کا رویہ اور کارکردگی عوام کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ تھانہ شہریوں کے  کے لیے جائے امان کے بجائے عقوبت خانے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس طرح کے اہلکار یقینی طور پر تھانہ کلچر کو بدل دیں گے۔ احاطے میں 24 گھنٹے عدالتی مجسٹریٹ رہنا ضروری ہے۔ ایسے سنجیدہ ذہن اور بھرپور صلاحیت رکھنے والے مجسٹریٹس کہاں پہنچتے ہیں؟ پولیس میں جانے والے فوج کے افسروں کو تبادلے کے لئے پہلے ہی اسلام آباد میں موجودہ پولیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے تحت کم سے کم 06 ماہ کی تربیت حاصل کرنی ہوگی۔ فوج کے جوانوں کو پولیس ٹریننگ مراکز میں یا آرمی کے تحت منظم ہونے والے ایک دو  ماہ کی تبدیلی کی تربیت فراہم کرنا ہوگی۔

تازہ ترین خبریں