07:58 am
رمیش کمارکا انٹرویو۔۔۔ تم ہی بتائو یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

رمیش کمارکا انٹرویو۔۔۔ تم ہی بتائو یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

07:58 am

لوٹا بن کر پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی بننے والے ڈاکٹر رمیش کمار کی موجودگی میں پاکستان کو کسی نئے دشمن کی ضرورت نہیں‘ پاکستان میں بسنے والی ہندو اقلیت کا احترام‘ بے حد احترام‘ لیکن ہندو اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے پاکستانیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ رمیش کمار سے پوچھیں کہ انہوں نے گزشتہ دنوں بھارتی ٹی وی کو دئیے جانے والے انٹرویو میں کس کا کھیل کھیلنے کی کوشش کی ہے؟ جس میں کہا ہے کہ ’’پاکستان میں ا قلیتو ں خصوصاً ہندوئوں پر مظالم کئے جارہے ہیں اور جبری مذہب تبدیل کروایا جارہا ہے‘ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے ملک میں بندوق کے زور پر مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔
 
رمیش کمار اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کے باعث عیسائی برادری بیرون ملک پناہ لے رہی ہے اور غیر مسلموں کو  زبردستی اسلامیات اور قرآن پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے‘ سب سے پہلے تو تحریک انصاف کو وضاحت کرنی چاہیے کہ  کیا وہ اپنے رکن اسمبلی کے ان شدید متنازعہ خیالات سے متفق ہے؟ اگر نہیں تو پھر  ابھی تک تحریک انصاف نے رمیش کمار کے خلاف کوئی کارروائی یا اس انٹرویو کے حوالے سے ان سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی؟
ایک ایسا موقع کہ جب پاکستان کشمیری مسلما نو ں پر بھارتی مظالم کا مقدمہ عالمی سطح پر اٹھا رہا ہے‘ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ کو متوجہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں‘ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر رمیش کمار کا جھوٹ اور دروغ گوئی پر مبنی یہ انٹرویو کس کی خدمت ہے؟ پاکستان یا بھارت کی؟ 
ایک معاصر اخبارکی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر رمیش کمار کے اس شدید متنازعہ انٹرویو کو مسلم لیگ (ن) کے سینٹر سلیم ضیاء‘ جمعیت علماء اسلام سندھ کے قائد راشد محمود سومرو‘ گھوٹکی سے پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے معروف گدی نشین عبدالحق المعروف میاں مٹھا‘ جمعیت علماء اسلام کے حافظ حمد اللہ‘ جماعت اسلامی کے  ایم این اے عبدالاکبر چترالی‘ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر اکبر خان نے گمراہ کن اور دروغ گوئی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقلیتی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اس گمراہ کن انٹرویو کی مذمت کرے اور حکومت فی الفور رمیش کمار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے‘ اوصاف کے قارئین اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس خاکسار نے رمیش کمار سمیت بھارتی اور امریکی پٹاری کے ہر دانش فروش کو اپنے کالموں میں  روز اول سے چیلنج کر رکھا ہے کہ وہ صرف  صوبہ سندھ نہیں‘ ملک بھر میں کوئی ایک بھی ایسی ہندو لڑکی یا لڑکے کو ثبوت کے ساتھ عدالت میں پیش کریں کہ جس کا زور زبردستی سے مذہب تبدیل کروایا گیا ہو؟ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت آئین دیتا ہے اور حیرت انگیز طور پر پاکستان میں بننے والی ہر سیاسی یا ڈکیٹر کی حکومت اقلیتوں پر نہایت مہربان رہی ہے۔
بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں نہایت امن اور شادمانی کے ساتھ وطن عزیز میں رہ رہی ہیں...الا ماشاء اللہ اگر کہیں مسلم اور غیر مسلم شدت پسندی کی ہنڈیا میں ابال بھی آیا تو حکومت اور مسلمان اکابرین نے اس جھگڑے کو فوراً نمٹانے کی کوشش کی۔پاکستان میں آباد اقلیتیں‘ وہ ہندو ہوں‘ سکھ ہوں‘ عیسائی ہوں یا دیگر فرد وہ بھی پاکستان کی عوام کی محبتوں کی اسیر ہیں‘ پاکستان میں مشکلات کا سامنا اکثریتی مسلمانوں  کو تو ہے مگر اقلیتوں پر کوئی جبر نہیںجس کا ایک جیتا جاگتا ثبوت خود رمیش کمار بھی ہیں‘ سیاسی  اصطلاح کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی حیثیت ایک ’’لوٹے‘‘ سے بڑھ کر نہیں ہے‘ اس لئے کہ سیاسی جماعتیں بھی وہ لباس کی طرح تبدیل کرنے کے عادی ہیں۔ ’’وفاداری‘‘ کس ’’رشتے‘‘ کا نام ہے ان کے فرشتے جانیں یا پھر جانے رام ؟ لیکن یہ سب جاننے کے باوجود ہر سیاسی جماعت نہ صرف یہ کہ انہیں قبول کرتی ہے  بلکہ انہیں بھرپور احترام‘ پور پروٹوکول حتیٰ کہ بھارت جیسے دشمن ملک میں سفارت کاری کا اعتماد بھی بخشتی ہے۔ رمیش کمار ہندو ہونے کے باوجود پاکستانی میڈیا کے پسندیدہ چلے آرہے ہیں‘  پاکستانی چینلز کی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر وہ مسلمان اولیاء اللہ کی درگاہوں کے خلاف کھل کر ہفوات بکتے ہیں‘ مسلمانوں کی مشہور درگاہ بھرچونڈی شریف پہ چھاپے مارنے کے مطالبے کرتے ہیں‘ کیا انہیں کبھی کسی نے روکا؟
عمران خان سے تمام تر اختلاف کے باوجود یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ تحریک انصاف مسلمانوں کی سیاسی جماعت ہے‘ کیا تحریک انصاف میں شامل کسی مسلمان نے رمیش کمار کو کبھی ہندو ہونے کی بناء پر تعصب کا نشانہ بنایا؟ اس سے پہلے وہ مسلم لیگ (ن) میں رہے‘ کیا مسلم لیگ (ن) کے انہیں اپنی پلکوں پہ نہیں بٹھائے رکھا؟ مجھے عمران خان حکومت سے تو کوئی توقع نہیں ہے ‘ لیکن میری چیف جسٹس سپریم  کورٹ اور آرمی چیف سے ضرور درخواست ہے کہ وہ  رمیش کمار کے بھارتی ٹی وی کو دئیے جانے والے متنازعہ انٹرویو کا ضرور نوٹس لیں‘ رمیش کمار پاکستان میں رہ کر قومی خزانے سے تنخواہیں وصول کرکے‘ ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے خزانے سے پروٹوکول اور مراعات حاصل کرکے پھر ’’پاکستان‘‘ کو ہی دنیا  میں بدنام کر رہے ہیں‘ کوئی راضی رہے یا ناراض ہو‘ اسلام اور پاکستان ہی ہماری ترجیح ہے‘ ہم نہ غامدی ہیں اور نہ ہی بھارتی یا امریکی دستر خوان سے ہمارا کوئی تعلق یا واسطہ ‘ اس لئے پاکستان اور پاکستانی قوم کے مفادات ہمیں عزیز ہیں۔
-1پاکستان میں ہندوئوں پر مظالم-2جبری مذہب تبدیل کروایا جارہا ہے -3پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کے باعث عیسائی برادری بیرون ملک پناہ لے رہی ہے اس قدر جھوٹ‘ توبہ‘ توبہ ...لیکن بھارت‘ ہندو شدت پسند رمیش کمار کے اس دروغ گوئی پر مبنی انٹرویو کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے‘ خیال یہ ہے کہ رمیش کمار کا مقصد بھی یہی تھا کہ نریندر مودی کو پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ہتھیار فراہم کیا جائے‘ عیسائیوں سے کہیں زیادہ بیرون ملک مسلمان نوجوان جارہے ہیں لیکن وہ کسی کے ظلم سے تنگ آکر نہیں بلکہ تلاش روزگار کے سلسلے میں رمیش کمار جیسوں کے ملک و قوم کو بدنام کرنے  والے اس قسم کے متنازعہ انٹرویو ہی پاکستان میں فسادات کی بنیاد بنتے ہیں‘ اب وقت آگیا ہے کہ پی ٹی ایم کی طرح رمیش کمار جیسوں سے بھی پوچھا جائے کہ تم کس کے ساتھ ہو؟ پاکستان کے ساتھ یا پھر بھارت کے ساتھ؟

تازہ ترین خبریں