08:00 am
عالمی سطح پر بھارت کی ایک اور شکست!

عالمی سطح پر بھارت کی ایک اور شکست!

08:00 am

٭11 ستمبر: قائداعظم کا یوم وفات، نیویارک ٹریڈ سنٹر کی تباہیO بھارت کی ایک اور شکست، انسانی حقوق کی عالمی کونسل نے پاکستان کی قرارداد منظور کر لیOوزیراعظم پاکستان عمران خان کل مظفرآباد میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ظلم و ستم کے خلاف ایک ریلی کی قیادت کریں گے۔ وفاقی وزراء آزاد کشمیر کے صدر اور دوسرے قائدین بھی ساتھ ہونگے۔O اسلام آباد پر مولانا فضل الرحمان کی چڑھائی27 اکتوبر کو ہو گیO’’پاکستان نے کنٹرول لائن پر دہشت گردی کے سات کیمپ قائم کر دیئے 275 دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں آنے والے ہیں۔‘‘ ترجمان بھارتی وزارت خارجہ O سر کریک کے علاقے سے پاکستان دہشت گرد گجرات میں داخل ہو گئے ہیں، بھارت کا پراپیگنڈاO سو پور میں بھارتی فائرنگ، ایک کشمیری شہید۔
 
٭شکر ہے کہ یوم عاشور پرامن رہا۔ 11 ستمبر بانی پاکستان قائداعظم کا یوم وفات ہے۔ ان کی شخصیت اور قیام پاکستان کے لئے ان کا انتہائی سرگرم کردار تاریخ کی لازوال مثالی داستان بن چکی ہے۔ کوئی اثاثہ نہیں بنایا۔ سب کچھ پاکستان کو دے گئے۔ ان کی شخصیت اور کردار کے بارے میں ہزاروں مضامین، درجنوں کتابیںلکھی جا چکی ہیں۔ ستم کہ جن لوگوں نے قائداعظم اور پاکستان کی شدید مخالفت کی، گالیاں دیں، وہ آج پاکستان کے والی وارث بھارتی مقاصد کے حصول میں بالواسطہ تعاون کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ قائداعظم چلے گئے مگر ان کا کردار ان کی یاد آج بھی اسی طرح روشن ہے۔
٭11 ستمبر2001ء کو اغوا کئے جانے والے تین طیاروں نے نیویارک کے دو بلاکوں پر مشتمل بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا کر انہیں تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعہ میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ایک طیارے نے وزارت دفاع کے صدر دفتر پینٹاگون کو سخت نقصان پہنچایا۔ اس واقعہ کو 18 برس ہو گئے ہیں۔ ٹریڈ سنٹر کی نئی عمارتیں بن چکی ہیں۔ امریکہ نے اس واقعہ کا بدلہ لینے کے لئے افغانستان، پاکستان،عراق اور شام میں تباہی مچا دی۔ 9/11 کے زیر عنوان اب تک بہت سے انکشافات ہو چکے ہیں۔
٭بھارت کو مسلسل چوتھی شکست! جنیوا میں ہونے والی اقوام متحدہ کی عالمی انسانی حقوق کونسل کی کانفرنس نے پاکستان کی مقبوضہ کشمیرکے بارے میں قرار داد لفظ بہ لفظ منظور کر لی اور بھارت کو واضح ہدائت کر دی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو فوری طور پر ختم کر دیاجائے، مواصلات کا سلسلہ بحال کیا جائے، گرفتار شدہ چھ ہزار افراد کو رہا کیا جائے، کشمیری عوام پر پیلٹ بندوقوں کی فائرنگ بند کی جائے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انسانی حقوق کی اس سالانہ کانفرنس میں 50 ملکوں کے سفیر اور سفارت کار ایمنسٹی انٹرنیشنل، ریڈ کراس اور انسانی حقوق کی دوسری عالمی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ 50 ممالک نے جو مشترکہ اعلامیہ منظور کیا وہ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے زوردار تقریر میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے 38 دنوں کے مسلسل کرفیو 80 لاکھ سے زیادہ عوام کی حالت زار کو تفصیل سے بیان کیا۔ بھارت کی وزارت خارجہ کی سیکرٹری وجے ٹھاکر سنگھ اور جنیوا میں بھارتی سفارت خانہ کے فرسٹ سیکرٹری وشرام نے وہی دلیل پیش کی کہ کشمیر بھارت کا حصہ اور اندرونی معاملہ ہے۔ اس کی آئینی حیثیت کو بھارت کی پارلیمنٹ نے تبدیل کیا ہے، پاکستان کو احتجاج کرنے کا کوئی حق نہیں۔ بھارتی نمائندوں کے دلائل کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے ایک عیسائی عورت آسیہ بی بی کو قید کئے جانے (وہ اس وقت کینیڈا میں ہے) اور ایک سکھ لڑکی کے قبول اسلام کا باربار ذکر کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمان بالکل محفوظ ہیں! یہ وضاحت نہ کر سکے کہ مسلما ن محفوظ ہیں تو کرفیو کیوں لگایا گیا ہے؟ یہ بات قابل دکر ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر مسلسل چوتھی بڑی شکست ہوئی ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے ذریعے پاکستان میں گرفتار اپنے جاسوس کل بھوشن کو رہا نہ کرا سکا، سلامتی کونسل اور یورپی کونسل کے اجلاسوں میں اس کی کھلی مذمت ہوئی اور اب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے بھی پاکستان کا مکمل ساتھ دیا ہے۔ یہی نہیں، امریکہ میں بھارت کے سفیر’ہرش وردھان شرنگلا‘ نے ایک بیان میں امریکی میڈیا پر سخت تنقید کی ہے کہ وہ حقائق کی بجائے پاکستان کے بھارت دشمن موقف کو ابھار رہا ہے۔ وردھان شرنگلا نے دکھ کا اظہار کیا ہے کہ امریکی میڈیا نے بلاوجہ بھارت کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کا ایک انکشاف کہ پاکستان نے آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن کے ساتھ سات مقامات پر دہشت گردی کی تربیت کے سات کیمپ قائم کر دیئے ہیں ان کے ذریعے وقفہ وقفہ سے مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد داخل کئے جائیں گے۔ انکشاف کے مطابق اس وقت ان سات کیمپوں میں 275 دہشت گرد افراد تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں افغان اور پشتون گوریلے زیادہ ہیں۔ ان کیمپوں میں مبینہ دہشت گردوں کی تعداد یہ بتائی گئی ہے۔ گوریز کیمپ60، مچھل60، کرناہ 50، کیرن 40، اوڑی20، نواگام15 اور رام پورہ 10۔
٭بھارت کی آخری خبر: بھارتی سائنس دان پوری کوشش کے باوجود چاند پر ملبہ کا ڈھیر بنے وکرم سیارے کے ساتھ مواصلاتی رابطے بحال نہیں کر سکے۔ وکرم کو جب چاند پر اترنے کے بعد 14 دن تک اس مقام پر سورج کی روشنی رہنی تھی اس کے بعد لمبی طویل سخت سرد سیاہ رات چھا جائے گی اور یہ سیارہ مستقل طور پر گم ہوجائے گا۔ اس گم شدگی کو صرف آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ زمین کا ایک دن چاند کے 14 دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ اسے صرف ایک دن کے لئے ہی بھیجا گیا تھا۔ دریں اثنا زمین اور چاند کے درمیان مدار میں وکرم کو لے جانے والا راکٹ سات برس تک گھومتا رہے گا مگر اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
٭بھارت کی ایک اور بات: الزام لگایا ہے کہ ’سرکریک‘ کے بحری علاقے میں پاکستان کے کچھ دہشت گرد کشتیوں میں سوار ہو کر آئے اور کشتیاں وہیں چھوڑ کر بھارتی علاقہ گجرات میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ کشتیاں بھارت نے قبضہ میں لے لی ہیں۔ یہ الزام اس لئے مضحکہ خیز ہے کہ جاسوس لوگ اس طرح کشتیوں میں نہیں جایا کرتے۔ ’سر کریک‘ کی پاکستانی انتظامیہ کے مطابق یہ پاکستانی ماہی گیر تھے۔ جنہیں مچھلیاں پکڑتے ہوئے بھارتی بحریہ نے گرفتار کر لیا ہے۔ ’سرکریک‘ رن کچھ کے علاقے کے ساتھ ساتھ تقریباً چھ سات سو مربع کلو میٹر کا خشک اور سمندری علاقہ ہے۔ اس کے ایک دریا کے وسط میں پاکستان اور بھارت کی سرحد گزرتی ہے۔ آج تک اس سرحد کا تصفیہ نہیں ہو سکا۔ یہ تنازع 1914ء میں ’’کچھ‘‘ ریاست کے ہندو مہاراجہ کے دورمیںاس میں اور انگریز حکومت کے درمیان شروع ہوا تھا، اب تک چلا آ رہا ہے۔
٭مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد پر حملہ کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس میں رکاوٹ ڈالی گئی تو پورے ملک کا ’لاک ڈائون‘‘ کر دیا جائے گا (تمام شہروں کو بند کر دیا جائے گا)۔ اسلام آباد پر لشکر کشی کے لئے 27 اکتوبر کی تاریخ زیر غور ہے۔ مولانا کے ایک ترجمان نے خبر دار کیا ہے کہ لشکر کشی کو روکا گیا تو ملک بھر میں جو کچھ ہو گا۔(خون ریزی، توڑ پھوڑ!؟) اس کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔  
٭ایک اپیل: اخبار کی کنٹین چلانے والا پرویز غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔3 ہفتے قبل وہ چائے بناتا ہوا اچانک گر کر بے ہوش ہو گیا۔ اسے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ تین ہفتے سے نیم بے ہوش پڑا ہے وہ بول نہیں سکتا۔ اس کے سر میں رسولی کا پتہ چلا ہے۔ اس کا آپریشن کرنا پڑے گا۔ یہ خاصا مہنگا علاج ہے۔ دردمند مخیر حضرات سے اس کی مالی امداد کی اپیل کی گئی ہے۔  میں اس کے حالات کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ میرے فون نمبر 0333-4148962 کے ذریعے اس کا پتہ اور حالات معلوم کئے جا سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں