07:27 am
منافقین کا انجام

منافقین کا انجام

07:27 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی طرح نفاق سے اپنے آپ کو محفوظ و مامون وہی سمجھتا ہے جو خود منافق ہے۔ صحابہؓ کا معاملہ یہی تھا کہ وہ اپنے بارے میں ہر وقت پریشان رہتے تھے کہ کہیں نفاق کی چھوت ہمیں نہ لگ جائے۔ پہلی تین آیات کا متن اور ترجمہ: ’’(اے محمدؐ) جب منافق لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو (از راہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ  بے شک اللہ کے پیغمبر ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن اللہ ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں ۔‘‘ (المنافقون: 1)
 

’’انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو)اللہ کی راہ سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔‘‘ (المنافقون:2)
ان آیات کا ترجمہ اور مختصر تشریح پہلے ہو چکی ہے۔ یہاں صرف وہ موضوعات بیان ہوں گے جو پچھلی مرتبہ بیان ہونے سے رہ گئے تھے۔ مثلاً منافق خود بھی پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ صَدَّ یَصُدُ کے اندر دونوں مفہوم آتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جو دوسرے نکلنے والے ہیں وہ کبھی ان کو اچھے نہیں لگیں گے۔ ان کو بھی مشورے دیتے ہیں۔ دیکھو اتنی شدید گرمی میں مت نکلو، کہاں جا رہے ہو۔ مقابلہ رومن ایمپائر سے ہے۔ اس کو ذرا نفسیاتی اعتبار سے دیکھیے۔ وہ منافق خود کو قربانی سے بچا کر انتہائی کامیاب سمجھتے تھے کہ آنحضورﷺ ہمارے ایمان کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ہمارے عذر کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔ یوں ہم آرام سے گھر میں ٹھنڈی چھائوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف وہ جو تیس ہزار کا لشکر غزوۂ تبوک کے لیے نکلا ہے۔ ان پر وہ مرحلے بھی آ رہے ہیں کہ ان کے لیے چوبیس گھنٹے کا راشن دو افراد کے لیے ایک کھجور ہے‘ جبکہ ہم اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے خوب ٹھنڈی چھائوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ہر طرح کی نعمتیں اللہ نے ہمیں دے رکھی ہیں۔
 منافق اپنے آپ کو انتہائی کامیاب سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ بہت ہی بری حرکتیں ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔ درحقیقت یہ اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں۔ انہیں اندازہ نہیں ہے۔’’یہ اس لئے کہ یہ(پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہو گئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سواب یہ سمجھتے ہی نہیں۔‘‘(المنافقون:3 ) کسی کے دل پر پہلے دن مہر نہیں ہوتی۔ قرآن مجید میں انہیں بار بار سمجھایا گیا، توجہ دلائی گئی‘ لیکن جب یہ کہ کچھ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو بالآخر ان کے دل پر مہر ہو گئی ہے۔
 سورۃ النساء میں فرمایا گیا: ’’جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہو گئے، پھر کفر میں بڑھتے گئے۔‘‘ (النساء:137) عجیب انداز ہے، انہی منافقین کا ذکر ہو رہا ہے کہ ایمان تو لائے تھے لیکن پھر کفر کیا۔ یہ باطنی کفر ہے۔ باطنی کفر یہ بھی ہے کہ ایک انسان کو معلوم ہے کہ اللہ کا حکم یہ ہے لیکن میں اندر سے اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں، یا میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کے اس طرز عمل پر دنیا میں اس کے کافر ہونے کا فتویٰ نہیں لگے گا۔ جب تک وہ زبان سے کلمہ پڑھ رہا ہے وہ دنیا میں مسلمان شمار ہو گا۔ یہ اب رب کا معاملہ ہے کہ اس کو واقعی کوئی عذر لاحق تھا یا اس نے دنیا کی محبت میں قربانی سے گریز کیا ہے۔ تو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ایمان کا منطقی نتیجہ تو یہ تھا کہ اللہ او رسول کی پکار پر لبیک کہو۔ اگر وہاں بریکیں لگ رہی ہیں تو یہ ایک طرح سے باطنی ارتداد ہے۔ ایمان کے بعد پھر انکار کی طرف آ رہے ہیں یہ جو کفر ہے باطن میں ہے زبان پر نہیں ہے۔ زبان سے تو قسمیں کھا رہے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کی صف میں شامل رکھے گئے۔ اسی لیے انہیں کہا گیا کہ یہ آستین کا سانپ ہیں۔ انہیں کلمہ کا تحفظ حاصل ہے۔ 
رئیس المنافقین عبداللہ ابن اُبی کی نماز جنازہ آنحضورﷺ نے پڑھائی تھی اور یہ وہ موقع تھا کہ پھر قرآن مجید میں یہ آیت آ گئی ’’اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ ‘‘ (التوبہ:84)  اے نبیؐ! آئندہ آپؐ کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائیں گے اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر جائیں گے اور نہ اس کے لیے کوئی دعا کریں گے‘ چونکہ حضورﷺ کو معلوم تھا کہ کون کون منافق ہے‘ لہٰذا اس کے بعد آنحضورﷺ کو جب معلوم ہوتا تھا کہ فلاں شخص کا انتقال ہوا ہے۔ تو آپؐ کہتے تھے کہ اپنے بھائی کی نماز خود پڑھ لو، لیکن یہ نہیں کہتے تھے کہ وہ منافق ہے تم بھی اس کی نماز جنازہ مت پڑھو۔ بہرحال دنیا میں انہیں یہ تحفظ حاصل ہے۔ 
اب آیئے اگلی آیت کا مطالعہ کرتے ہیں’’اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ‘‘ (المنافقون:4) اس لیے کہ اکثر ان میں سے منافقین مدینہ ہی کے رہنے والے تھے۔ مکہ سے آنے والے تو قربانیاں دے کر آئے تھے وہ آزمائش کی تمام منازل طے کر کے آئے تھے‘ لیکن یہاں رئوساء اور مالدار لوگ بھی تھے۔ منافقین میں زیادہ تر وہی ہیں جو صاحب مال تھے۔ صاحب حیثیت تھے‘ چنانچہ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ان کے تن و توش مسلمانوں کو بڑے بھلے لگتے ہیں۔ لباس بھی اچھا ہے اور جو بھی مال و دولت کی فراوانی ہے، اس کا ظہور ان کے تن و توش سے بھی ہو رہا ہے۔ یہ ظاہری رنگ و روپ اپنی جگہ مرعوب کن ہوتا ہے ان کے لباس وضع قطع سے مسلمان مرعوب ہوتے تھے۔ ’’اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو۔‘‘یہ مال کی محبت ہی تو پائوں کی بیڑی بنتی ہے۔ مال کا زیادہ ملنا بہت بڑی آزمائش ہے۔ ایسے لوگ لیڈ کرنے والے ہوتے ہیں۔ جب یہ بات کرتے ہیں تو لگتا ہے بڑے معزز ہیں۔ لہٰذا آپؐ بھی ان کی بات بڑی توجہ سے سنا کرتے تھے  ’’ گویا لکڑیاں ہیںجو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ان کی اصل حقیقت کیا ہے یہ ایسے ہیں جیسے سوکھی لکڑیاں جنہیں سہارا دے کر کھڑا کیا گیا ہو۔ ان کی باطنی حیثیت خشک لکڑیوں کی سی ہے۔ چنانچہ اس کا ظہور کیا ہو رہا ہے۔ ’’(بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ ‘‘ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اب کوئی نیا تقاضا سامنے آ رہا ہے۔