07:29 am
طاقت اوربددعائوں کی جنگ

طاقت اوربددعائوں کی جنگ

07:29 am

ہلاکو خان جب بغدادپہنچاتواس کے سپاہیوں نے قتل وغارت گری شروع کر دی،سنگ دل منگولوں کوجہاں کوئی سرسلامت دکھا ئی دیا،انہوں نے کاٹ دیا،جہاں کوئی عمارت نظرآئی ،جلاکرخاکسترکردی، جہاں کوئی کتب خانہ،لائبریری یاکوئی درسگاہ ملی اس کوراکھ کردیا۔تاریخ کہتی ہے کہ خون کے دھبے اور راکھ کے داغ دھوتے دھوتے دجلہ کاپانی سوکھ گیالیکن منگولوں کی وحشت کے آثارنہ مٹے۔اسی قتل وغارت گری کے دوران عراقی صوفیوں کاایک گروہ منگول سپاہیوں کے ہتھے آچڑھا،سپاہی زہدکے بوجھ تلے دبے ان بزرگوں کولیکر ہلاکو خان کے دربارمیں حاضر ہوگئے۔سپاہیوں کاکہناتھاکہ یہ صاحبانِ دعاہیں، عراقیوں کے بقول ان کی دعابارگاہِ رب العزت میں قبولیت کی سندرکھتی ہے۔
 

ہلاکوخان نے نخوت سے پوچھا ’’پھرکیا‘‘ سپاہیوں نے جواب دیاحضور!یہ لوگ آپ کوبددعائیں دے رہے تھے ہلاکوخان صوفیاء کے اس گروہ کی طرف مڑااورجلالی لہجے میں اس الزام کی تصدیق چاہی۔ صوفیائے کرام میں سے ایک نسبتاًبزرگ نے اقرارمیں گردن ہلاکرجواب دیااے بادشاہ!تم خلقِ خداکے قاتل ہو،تم نے ہزاروں بے گناہوں کالہو بہایا ، تم نے اللہ کی مقدس کتابوں کی توہین کی،تمہارے سپاہیوں کے گھوڑوں نے مسجدوں کاتقدس پامال کیا،لہنداتم اب اللہ کے انتقام سے بچ نہیں پا گے،تمہیں اس زمین پرحساب دینا ہو گا۔
ہلاکوخان اوراس کے حواری اس کہنہ بزرگ کی جرات پرحیران ہوگئے۔سپاہیوں نے تلواریں سونت لیں،لیکن اس سے قبل کہ تلواریں اپناکام دکھاتیں، ہلاکو خان نے اشارہ کیا،ایک بلند وبانگ قہقہہ لگایااور صوفیا ئے کرام کے اس گروہ سے مخاطب ہوکر بولااے شکست خوردہ بزدل قوم کے مظلوم بزرگو!بغداد کی تباہی کے بعدہلاکو خان کاحساب ہوابھی توکیاہوا، اب اگر تمہاری بددعائیں قبول بھی ہوجائیں،ہلاکوخان کوسوبار جنم دیکر سوبارقتل بھی کردیاجائے،توبھی بغدادآبادنہ ہوگا، گردن سے اترے سر دوبارہ شانوں پرنہیں لگیں گے، خاک ہوئی عمارتیں اورراکھ ہوئے کتب خانے دوبارہ آبادنہیں ہونگے،اب دنیاکاکوئی انتقام دجلہ کے کناروں پرگھاس نہیں اُگاسکتا۔ ہلاکوخان اٹھا،صوفیا کے گروہ کے قریب پہنچااوران پرنظریں گاڑکربولاجائو میں تمہیں اس قبرستان میں زندہ رہنے کی سزادیتا ہوں ۔ 
ہلاکوخان بغدادسے واپس چلاگیا۔اب تو معلوم نہیں قدرت نے واقعی ہلاکوخان سے انتقام لیایا پھر آسمانی طاقتیں اس سے رعایت برت گئیں لیکن جہاں تک بغدادکی تباہی کامعاملہ ہے آج بھی تاریخ جب اس موڑپرپہنچتی ہے تواپنے بال کھول دیتی ہے اور اس کے منہ سے دردناک بین کی آوازیں آنے لگتیں ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ قتل کے بعدقاتل پھانسی چڑھے یاعمرقیدکی سزا بھگتے،مقتول کواس کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔پانچ ہزارقاتلوں کی پھانسی بھی ایک مقتول،ایک مظلوم کودوبارہ زندہ نہیں کر سکتی لیکن کیاکیجئے خوش فہمی بھی بڑی چیز ہے ۔دنیاکے تمام کمزور،بزدل اورمظلوم لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں سمیٹتے ہوئے،مظلوموں اور مقتولوں کوآخری غسل دیتے ہوئے یہ سوچ سوچ کر خوش ہوتے رہتے ہیں کہ آخرکسی نہ کسی روزقاتل نے بھی مرجاناہے۔
لمحہ موجودمیں ساراعالمِ اسلام اسی خوش فہمی کاشکارہے،پوری مسلم امہ کے دانشورامریکہ کی تباہی، امریکہ کی بربادی کی پشین گوئیاں کررہے ہیں۔کوئی کہتاہے کہ یورپ امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑاہوگا،کسی کاکہناہے کہ عراق کی راکھ سے ہزاروں لاکھوں اسامہ پیداہونگے،افغانستان کے سیاہ پہاڑوں سے لاکھوں ملاعمرکے لشکر نکلیں گے ،اب امریکہ اوربھارت کوکوئی شہری چین کی نیندنہیں سوسکے گا،کوئی اعلان فرماتاہے کہ ڈی ڈے شروع ہوچکاہے لیکن کوئی ان سے پوچھے بغداد کی تباہی اورموت کے بعد ڈی ڈے شروع ہوا،مودی اور امریکیوں کی نیندیں حرام ہوئیں، ہزاروں بن لادن پیدا ہوئے، لاکھوں ملاعمر میدان میں اترے یایورپ امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑاہواتو کیا فائدہ؟کیا بغداد، کشمیر اورافغانستان کے بے گناہ لوٹ آئیں گے؟
میرے ایک دوست اسی قسم کی مذہبی خوش فہمی کاشکارہیں۔وہ کل میرے پاس تشریف لائے اور آتے ہی فرمانے لگے۔مظلوم عراقیوں،بے بس افغانیوں، کشمیریوں اوربے گناہ پاکستانیوں کی نعشیں کہہ رہی ہیں امریکہ اوراس کے تمام ساتھیوں کا بدترین انجام قریب ہے،تم اپنے پاس لکھ کررکھ لوامریکہ اور اس کے موجودہ اتحادی عنقریب تباہ وبربادہوجائیں گے ۔میں نے قہقہہ لگایا،اس کاکالرجھاڑااوربڑے پیارسے کہابرادرم!غصے اورانتقام کی تلخی اس طرح تودورنہیں ہوگی،امریکہ اوراس کے اتحادی بے شک دس ہزارمرتبہ تباہ ہوں لیکن ہمارے اوپرگرکرتوتباہ نہ ہوں۔میرے دوست کومیری بات ناگوار گزری اورناراض ہوکرمنہ بسورکر بیٹھ گیا۔مجھے معلوم ہے کہ ایک خوش فہم شخص اسی ردعمل کا اظہار کر سکتاہے۔
ہو سکتاہے کہ میرے دوست کی خوش فہمی درست ثابت ہو،واقعی کل کا سورج طلوع ہو تودنیاکے نقشے پراٹلانٹک اوشن کے پارچندبدبو دارجوہڑوں اورجلی سڑی چٹانوں کے سواکچھ نہ ہولیکن یہ ابھی محض ’’ہوسکتا‘‘ ہے،امکان،گمان یاخیال ہے۔آج کی حقیقت تویہ ہے کہ عراق کی سرزمیں نعشوں سے اٹ چکی،افغانستان میں لاشیں بچھ چکیں،کشمیرکے لاکھوں باشندے موت کوگلے لگاچکے،امریکی ڈرون کابھی پاکستانیوں کے پرخچے اڑاکر سانس پھول چکا، بش، ٹونی بلیئر،جنرل مشرف، زرداری، نواز،مودی،امیت شاہ اوراب ٹرمپ رہیں یاختم ہوجائیں،امریکہ، بھارت،اسرائیل اور یورپ باقی بچے یاتباہ ہو جائیں، ان نعشوں،ان جلی سڑی عمارتوں کواس سے کوئی غرض نہیں۔زمینی حقائق تویہ ہیں کہ خادمین حرمین اپنے ہاتھوں سے پہلے ٹرمپ کواور بعدازاں نہ صرف مودی کوملک کاسب سے بڑاسول اعزازپہناچکے ہیں بلکہ ملک کاسب سے بڑا ادارہ ’’آرامکو‘‘عملی طوربھارتی افراد کے سپردہوچکااور مہاراشٹرکی ریفائنری سمیت دیگراداروں میں 75بلین ڈالرزکی سرمایہ کاری بھی ۔ امریکی خبررساں ادارے ’’اے پی‘‘کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 100 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری،اہم اقتصادی شراکت داری اورتجارتی مفادات کے باعث خلیجی ممالک مقبوضہ کشمیرمیں آرٹیکل 370ختم کرنے کے بھارتی اقدام پرچپ سادھے ہیں بلکہ یواے ای نے مودی کوملک کاسب سے براسول اعزازدیکرپاکستان کوباقاعدہ پیغام بھی دے دیا ہے۔
ہلاکوخان نے بغدادہی کی سرزمین پرکھڑے ہوکرکہاتھاکہ’’طاقت اوربددعائوں کی جنگ میں طاقت ہمیشہ پہلی فاتح ہوتی ہے‘‘۔