07:30 am
ڈونلڈ ٹرمپ کے تیر اور طالبان کا جگر

ڈونلڈ ٹرمپ کے تیر اور طالبان کا جگر

07:30 am

ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے ہمنوا ٹولے کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ملا محمد عمر مجاہد کے طالبان کو میدانوں کے بعد مذاکرات کی میز پر بھی شکست دینا ناممکن ہے‘ افغانستان کے جس ’’ملا‘‘ کو شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے اپنے  کلام میں یوں خراج تحسین پیش کیا تھاکہ
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
علامہ اقبالؒ کا وہ ’’ملا‘‘ آج دنیا پر ثابت کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ  جنگ کرو گے تو جنگ کریں گے‘ قتل کرو گے تو قتل کریں گے‘ ڈرون حملے کرو گے تو فدائی حملے کریں گے‘ امن دو گے تو امن دیں گے‘ مذاکرات کرو گے تو مذاکرات کریں گے‘ افہام و تفہیم اور خیر سگالی کے جذبات دکھائو گے تو افہام و تفہیم اور خیر سگالی سے جواب ملے گا‘ ہم بھی ہیں تمہاری طرح کے انساں جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے۔
امریکہ عیاری و مکاری کے ذریعے میدانوں میں ہاری ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر جیتنا چاہتا تھا مگر مومن کی فراست رکھنے والے افغان طالبان نے جب امریکی گیم اس پر پلٹی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی میز ہی لپیٹ دی‘ ڈونلڈ ٹرمپ  کہتا ہے کہ طالبان نے کابل میں ہمارے ایک ’’عظیم‘‘ سپاہی سمیت گیارہ افراد ہلاک کر ڈالے‘ افغان طالبان نے اپنے جاری کردہ اعلامیے میں کہا ہے کہ ’’معاہدے پر دستخطوں سے قبل ایک حملے کے ردعمل میں مذاکرات منسوخ کرنا یہ بات ثابت کر رہی ہے کہ امریکہ حوصلہ اور ہمت ہار چکا ہے جبکہ مذکورہ حملے سے قبل امریکی افواج اپنے کٹھ پتلیوں کے ساتھ مل کر سینکڑوں افغان شہریوں کو شہید کر چکی تھی۔
 

گھنی ڈاڑھیوں اور بھاری پگڑیوں والے طالبان مذاکرات کی میز پر امریکہ کو رسوا کرنے کے بعد ایک دفعہ پھر میدانوں کو مضبوط بنانے میں مصروف ہو جائیں گے‘ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف دھمکیوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوچکا ہے۔
نائن الیون حملوں کے 18سال پورے ہونے پر موصوف پینٹاگون میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’طالبان کو ایسے بدترین طریقے سے نشانہ بنائیں گے جو پہلے کبھی نہیں بنایا‘ وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے ہم وہاں پہنچ جائیں گے‘ ایسی طاقت استعمال کریں گے جو امریکہ نے پہلے کبھی استعمال نہیں کی ہوگی۔‘‘
انجوائے کریں انجوائے‘ ٹرمپ کی تقریر کا ایک ایک لفظ نفرت‘ تعصب اور شکست کی شرمندگی میں ڈوبا ہوا لگ رہا ہے‘18سال میں وہ کون سا ہنر ہے جو طالبان کے خلاف نہ آزمایا گیا ہو؟ وہ کون سا اسلحہ ہے جو افغانستان میں استعمال نہ کیا گیا ہو؟ وہ کون سا ظلم ہے کہ جو افغانوں پر نہ ڈھایا گیا ہو؟ مگر اس سب کے باوجود مذاکرات کی بھیک امریکہ کو ہی طالبان سے مانگنا پڑی تھی‘ امریکہ 18سال جن طالبان کو دہشت گرد قرار دیکر ان سے لڑتا رہا۔ پھر انہیں طالبان رہنمائوں کے نام دہشت گردوں کی لسٹ سے نکال کر ان میں سے اگر کوئی گرفتار تھا تو اسے رہا کروا کر‘ کبھی بھوربن‘ کبھی دوحہ‘ کبھی ماسکو میں مذاکرات کرنے پر مجبور ہوا‘ طالبان تو نائن الیون سے پہلے والے موقف پر ہی ڈٹے ہوئے تھے‘ وہ امریکہ ہی تھا کہ جیسے اپنا موقف تبدیل کرکے کل کے دہشت گرد طالبان کو امن پسند قرار دیکر اور انہیں رہا کروانے کے بعد ان کے نازنخرے اٹھا رہا تھا‘ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ افغانستان میں ایٹم بم گرا کر ایک کروڑ افغانوں کو مار کر شاید افغان جنگ جیت سکتا ہے؟ امریکہ کے منہ کو انسانی لہو کا چسکا لگ چکا ہے‘ وہ خوفناک اسلحے کے زور پر بے گناہ انسانوں کا لہو تو بہا سکتا ہے مگر افغانستان میں ہاری ہوئی جنگ نہیں جیت سکتا۔
کیوں؟ اس لئے کہ ملا محمد عمر کے طالبان ابھی تک جہاد سے تھکے نہیں‘ انسانوں کے سر بوئے جائیں تو زمین پر امن نہیں  آتا بلکہ زمین خون اگلنے پر مجبور ہو جایا کرتی ہے‘ مذاکرات کی اڑتی دھول کو دیکھ کر بعض اہل دل یہ سوال اٹھایا کرتے تھے کہ  طالبان نے افغانستان میں امریکہ کو شکست تو دے ڈالی‘ مگر امریکہ کے سر سے ابھی تک سپرپاور ہونے کا بھوت نہیں نکل سکا‘ اگر امریکہ افغانستان سے بچ کر نکل بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تو مزید خونخوار ہو جائے گا‘ ایسے ہی ایک دل والے نے جب میرے سامنے دل کی بات رکھی‘ تو میں نے ہولے سے کہا کہ صبر  کے ساتھ تیل اور تیل کی دھار دیکھتے جائیے۔
شاید امریکی تدبیروں پر رب کی تقدیر غالب آچکی ہے‘ وہ جو ’’سپرپاور‘‘ کہلانے کا بھوت سوار ہے  اب اس بھوت کو گوروں کے دماغوں سے نکالنے کا ٹائم  شروع ہوا چاہتا ہے‘ طالبان کے پاس گنوانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے‘ انہوں نے اپنی جانوں کا سودا  جنت کے بدلے اپنے پروردگار سے کر رکھا ہے‘ میں  نہیں جانتا ٹرمپ اور  پومیو کی دھمکیوں کو‘ ٹرمپ کا اسلحہ طالبان کی جانیں تو لے سکتا ہے مگر ان کے دلوں سے ایمان کی دولت نہیں چھین سکتا‘ کابل کے صدارتی محل کے قیدی کٹھ پتلی اشرف غنی سے لے کر دہلی کے نریندر مودی اور پاکستان میں موجود امریکی دستر خوان کے راتب خوروں تک‘ مذاکرات کی منسوخی پر خوشیوں کے شادیانے بجا رہے ہیں‘ امریکہ کے یہ سارے راتب خور پاگل ہیں پاگل‘ آسمانوں پہ جن کی فتح کے فیصلے ہوچکے ہوں ان طالبان جہادیوں کو ساری دنیا الٹی لٹک جائے تب بھی شکست نہیں دے سکتی۔
18سال بعد بھی امریکہ وہیں پہ کھڑا ہے جہاں 18سال پہلے کھڑا تھا‘18سال پہلے پینٹاگون میں اسی طرح کی کسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جارج ڈبلیو بش نے کروسیڈی صلیبی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے طالبان کو مٹا ڈالنے کی دھمکیاں دی تھیں‘ آج 18سال بعد ایک دفعہ پھر پینٹاگون سے ڈونلڈ ٹرمپ افغان طالبان کو برے طریقے سے نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے کر اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہے کہ وہ ایک ہارا ہوا شکست خوردہ انسان ہے‘ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک کروڑ انسانوں کو مارنے کا اعلان ہے اور دوسری طرف میرے پروردگار کی تقدیر آسمانوں پر مسکرا رہی ہے۔
ادھر آ پیارے ہنر  آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں