07:32 am
چین اور بھارت کی فوجوں میں شدید جھڑپ!

چین اور بھارت کی فوجوں میں شدید جھڑپ!

07:32 am

٭مظفرآباد: آج وزیراعظم عمران خان جلسہ عام سے خطاب کریںگےO لداخ: چینی اور بھارتی فوجوں میں شدید جھڑپ، اگلے ماہ باقاعدہ جنگ ہو گی، بھارتی ذرائعO 50 دہشت گرد کنٹرول لائن پار کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئے ہیں، بھارتی انٹیلی جنسO پیپلزپارٹی فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شریک نہیں ہو گی، بلاولO ٹرمپ: پھر ثالثی کی پیش کشO کراچی پر وفاقی کنٹرول ضروری ہو گیا ہے، وزیر قانونO فضل الرحمن کو کنٹینر فراہم کریں گے، وفاقی وزیر داخلہO چینی فوج سلیمانی لباس پہن کر بھارت میں آئے گی، دکھائی نہیں دے گی، بھارتی میڈیاO وفاقی دارالحکومت واپس کراچی لایا جائے پیر پگاڑا۔
 
٭بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز لداخ کے علاقہ میں جھیل پانگ گانگ کے شمالی کنارے پر بھارتی اور چینی فوجوں میں سخت جھڑپ ہو گئی جو تادم تحریر جاری تھی۔ میڈیا نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تفصیل نہیں بتائی، صرف یہ بتایا ہے کہ جھڑپ کی اطلاع پر بھارتی فوج کی بھاری کمک بھیج دی گئی ہے۔ پانگ گانگ جھیل 134 کلو میٹر لمبی ہے۔ اس کا دو تہائی حصہ چین کے قبضہ میں ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس مقام پر 15 اگست 2017ء کو بھی دونوں فوجوں میں سخت جھڑپ ہوئی تھی اس میں ایک دوسرے پر پتھر پھینکے گئے اورڈنڈے برسائے گئے، اس سے بہت سے افراد زخمی ہو گئے تھے۔اس بار حالات بہت مختلف اوربہت کشیدہ ہیں۔ بھارت کے ایک فوجی ترجمان کے مطابق گزشتہ روز بھارت کا ایک فوجی دستہ جھیل کے کنارے پر پٹرولنگ کر رہا تھا، اسے چین کے فوجی افسروں نے روکا کہ وہ چین کے علاقے میں کیوں آیا ہے؟ اس پر جھڑپ شروع ہو گئی جو اتنی تیز ہو گئی کہ مزید فوج منگوانی پڑی۔ اس ترجمان کے مطابق بھارت اور چین میں کشیدگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اگلے ماہ تبت کی سرحد پر باقاعدہ جنگ شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہےجس کے لئے دونوں طرف تیاریاں شروع ہیں۔
٭مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اوور بھارتی مظالم پر دنیا بھر میں جس طرح بھارت کی مذمت کی جا رہی ہے اس پر بدحواس ہو کر بھارتی فوجی ذرائع اور میڈیا نے مضحکہ خیز اعلانات شروع کر دیئے ہیں۔ بھارتی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ 40 سے 50 تک دہشت گرد گوریلے مقبوضہ کشمیر میں گھس گئے ہیں، مزید 200 گوریلے تیاری کر رہے ہیں۔ ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ گوریلے علاقہ میں سخت افراتفری پھیلا سکتے ہیں، اسی خدشہ کے باعث وہاں کرفیو ختم نہیں کیا جا رہا۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا کی بدحواسی کا عالم یہ ہے کہ ٹیلی ویژنوں کے سینئراینکر پرسنوں نے شور مچا رکھا ہے کہ چین نے ایسا طلسمی کپڑا تیار کر لیا ہے جسے پہن کر انسان نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔ یہ اینکر پرسن ’’باوثوق‘‘ طور پر بتا رہے ہیں کہ چینی فوج کے بڑے حصے کو اس کپڑے کی وردیاں فراہم کی جا چکی ہیں۔
٭اب گھر کی باتیں۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سندھ کی صورتحال اتنی خراب ہو گئی ہے کہ اس پر وفاقی حکومت کا کنٹرول ضروری ہو گیا ہے۔ وزیر قانون نے اس بارے میں آئین کی دفعہ 140 ار 149 کا حوالہ دیا ہے ان دفعات کے تحت وفاقی حکومت کومختلف ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ ان پر عمل نہ کیا جائے تو وفاقی حکومت خود صوبائی حکومت کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان دونوں دفعات میں گورنر راج کا ذکر نہیں ہے، تاہم وفاقی حکومت گورنر کے ذریعے ہی صوبے کا انتظام چلائے گی۔ وزیر قانون کے جواب میں سندھ کے وزیراطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ہی سندھ کو تباہ کیا ہے، اس نے سندھ کو 162 ارب روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا تھا مگر صرف تین ارب دیئے ہیں۔
٭سندھ میں مسلم لیگ (ف) کے رہنما اور وفاقی حکومت کے اتحادی پیر پگاڑا نے وفاقی وزیر قانون کی ان باتوں کو غیر محتاط اور ناقابل قبول قرار دیا ہے اور الٹا مطالبہ کر دیا ہے کہ اسلام آباد منتقل کیا جانے والا دارالحکومت کراچی واپس لایا جائے۔ پیر پگاڑا نے وضاحت نہیں کی کہ کچرے سے بھرے کراچی کے کس مقام پر ایوان صدر، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہائوس اور تینوں مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر بن سکتے ہیں؟ صرف کچرے کی پہاڑیوں والی جگہیں خالی ہیں!
٭مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد پر دھاوے کی تیاریاں جاری ہیں۔ مختلف کمیٹیوں کو ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔ مولانا کو گرفتار کئے جانے پر دوسری قیادت کا بھی فیصلہ ہو چکا ہے۔ ایک خبر کے مطابق مولانا نے حملہ آوروں کی تعداد 15 لاکھ بتائی ہے کہا گیا ہے کہ یہ 15 لاکھ افراد خالی ہاتھ ہوں گے اور خالی ہاتھوں سے ہی اسلام آباد کا گھیرائو کریں گے۔ مولانا نے لاک ڈائون کا نام اب آزادی مارچ رکھ دیا ہے۔ اس کا مقصد اسلام آباد کو عمران خان کی حکومت سے آزاد کرنا ہے۔ یہ دھمکی بھی موجود ہے کہ اسلام آباد، آزاد نہ ہوا تو پورے ملک کا لاک ڈائون یعنی گھیرائوکر لیا جائے گا، اسے روکا گیا تو نتائج کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔ یہ ساری باتیں بار بار آ رہی ہیں مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ عمران خان کی حکومت کے بعد کون حکومت بنائے گا؟ نئے انتخابات کرائے گئے تو 25 ارب روپے کے اخراجات کہاں سے آئیں گے؟ اور یہ کہ کیا نئے انتخابات کے نتائج مولانا کے حق میں آئیں گے؟ پھر یہی نتائج آ گئے تو کیا پھر نئے انتخابات کرائے جائیں گے!
٭پیپلزپارٹی کے وراثتی چیئرمین بلاول زرداری نے عین موقع پر مولانا فضل الرحمان کو جواب دے دیا ہے کہ ان کی پارٹی مولانا کی لشکرکشی اور دھرنے میں شریک نہیں ہو گی۔ بلاول نے کہا ہے کہ ہم اخلاقی اور سیاسی طور پر مولانا کی پوری حمائت کریں گے، شرکت نہیں کریں گے مگر میں ملک میں جگہ جگہ حکومت کے خلاف مہم چلائوں گا۔
 ایک نوجوان کا قصہ یاد آ گیا ہے۔ اس کی محبوبہ نے روز روز کے وعدوں سے تنگ آ کر مطالبہ کیا کہ آج شادی کی تاریخ مقرر کرو۔ نوجوان نے کہا کہ دیکھو…میں تم سے واقعی بے حد محبت کرتا ہوں، محبت تو مجھے…سے بھی رہی ہے، …بھی بہت پسند ہے۔ مگر دیکھو! پیار محبت اپنی جگہ مگر شادی وہاں کروں گا جہاں میری ماں کہے گی!
٭ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مریم نواز کسی مصلحت کی بنا پر چپ ہے۔ اس پر مرزا غالب کی غزل کا شعر یاد آ گیا کہ ’’کوئی ایسی بات ہے جو میں چُپ ہوں، ورنہ کیا بات کر نہیں آتی۔‘‘ اس غزل کی دلچسپ پیروڈی کی گئی کہ ’’کوئی امید بَر نہیں آتی، کوئی چُھٹی نظر نہیں آتی‘‘ اور یہ کہ ’’پہلے آتی تھی اک اشارے پر…اب کسی بات پر نہیں آتی!‘‘
ایک خبر: بدین میں گدھوں (اصلی گدھوں) کا سالانہ میلہ لگا ہے۔ قسم قسم کے گدھے لائے گئے ہیں۔ ایک گدھے کی قیمت دس لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ دوبارہ وضاحت کہ یہ نمائش چار ٹانگوں والے گدھوں کی ہے۔گدھا انتہائی غریب جانور ہے، سب سے زیادہ محنت کرتا ہے، کھانا بھی بہت غریبانہ ملتا ہے، مار کھاتا رہتا اور خاموش رہتا ہے، البتہ کبھی غصے میں آئے تو اس کی سخت قسم کی دولتی بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ ایک بچے نے زیبرا دیکھ کر کہا کہ ابّو! دیکھیں گدھے نے سویٹرپہنی ہوئی ہے۔ میں دہراتا ہوں کہ میں چار ٹانگوں  والے گدھوں کی بات کر رہا ہوں۔
٭وزیرداخلہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو دھرنے کے لئے ہم کنٹینر فراہم کریں گے۔ یہ نہیں بتایا کہ کنٹینر کیسا ہو گا؟ وہی تحریک انصاف کا ناچ گانے والا یا کوئی دوسرا؟ وزیرداخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ 15 لاکھ افراد کو کیا کھانا بھی حکومت فراہم کرے گی؟ تحریک انصاف کے دھرنے میں روزانہ چودھری برادران بریانی اور قورمے کی دیگیں بھیجا کرتے تھے۔ اس دُور اندیشانہ سرمایہ کاری کے عوض میں وفاقی اور صوبائی سطح پر وزارتیں مل گئیں! بہر حال 15 لاکھ افراد نے کھانا تو کھانا ہو گا!