07:51 am
سعودی ولی عہد کےلئے ممکنہ سیکورٹی خطرات

سعودی ولی عہد کےلئے ممکنہ سیکورٹی خطرات

07:51 am

میری نظر میں ہمیشہ سے ہی ایران و امریکہ میں مفاہمت و مشترکہ حکمت عملی موجود رہی ہے۔عربوں کے مستقل اتحادی امریکہ کو جس طرح ایرانی تدبر و فراست نے شکار کیا اور امریکہ جس طرح ایرانی انقلابی مقاصد رکھتی حکمت عملی میں استعمال ہوچکا ہے وہ سب میرے موقف کے مئوید ہیں۔ صدر اوبامہ عہد کا وائٹ ہائوس، امریکی ڈیپ اسٹیٹس میں مفاہمت کا نام تھا۔اس مفاہمت کا مقصد عرب بادشاہتوں کا انہدام تھا اور ایران سے مفاہمت بھی تو عرب بادشاہتوں کے انہدام کے مقصد کے حصول کا ہی اہم ذریعہ تھا۔اس معاملے میں امریکہ ایرانی مقاصد کے حصول میں عسکری طور پر بھی بھرپور طور پر استعمال ہوچکا ہے۔نہ چاہتے ہوئے بھی یہاں مجھے اس عمل میں ایرانی حکمت و دانائی کی برتری کی تحسین کرنا ہوگی کہ انقلاب ایران کے بظاہر دشمن امریکہ نے ہی تو عرب بادشاہتوں کے حوالے سے مقاصد انقلاب ایران کی بھرپور مدد کی ہے۔اس سارے امریکی طویل ترین عمل کو میں’’ڈیپ اسٹیس‘‘ کی عرب مخالف عشروں کے لئے محیط حکمت عملی کا نام دے سکتا ہوں۔ شاہ فیصل شہید کے اپنے ہی بھتیجے کے ہاتھوں قتل کو نہایت غور سے جب بھی میں دیکھتا ہوں تو امریکی و مغربی ڈیپ اسٹیس کی طویل مدتی حکمت سمجھ آتی ہے۔ شاہ فیصل القدس کے معاملے پر بے لچک تھے۔ تیل کے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کا نادر فکر صرف انہی کے پاس تھا۔ یوں اسرائیل کے حوالے سے اور القدس کے حوالے سے شاہ فیصل ناقابل برداشت ہوگئے تھے، پوری یورپی و امریکی اقوام کی حکمت عملی تیار کرتی مشینری میں بالآخر شاہ فیصل کا قتل ہی وہ واحد آپشن تھا جو راستے کا پتھر بنے شاہ کو مغربی و امریکی حکمت عملی کو کرانا پڑا تھا، شاہ فیصل کے قتل سے سادہ لوح شاہ خالد سامنے آئے اور ولی عہد کے طور پر شہزادہ ہ فہد۔ اس تبدیل شدہ صورتحال سے اصل میں سعودی ریاستی تبدیلی ہوگئی تھی کہ مسئلہ فلسطین پر دو ٹوک وہی سوچ شہزادہ فہد کی ہرگز نہ تھی جو شاہ فیصل عہد کی تھی۔
محمد بن سلمان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے جمال خاشقجی کا قتل عام سا قتل نہیں ہے بلکہ اس قتل میں امریکی ڈیپ اسٹیس اسی طرح بالواسطہ وابستہ ہیں جس طرح شاہ فیصل قتل میں بالواسطہ وابستہ تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس قتل میں عام سے کچھ سعودی افراداستعمال ہوئے استنبول میں جبکہ شاہ فیصل کا قتل اپنے ہی محل میں اپنے بھتیجے کے ہاتھوں ہوا۔ شہزادہ محمد بن سلمان، شاہ سلمان عہد میں وہی ذاتی حیثیت رکھتے ہیں خود کبھی ولی عہد فیصل کی جو تھی یا شاہ خالد عہد میں ولی عہد فہد کی تھی۔ محمد بن سلمان نہایت تیز دماغ، شاطر بلکہ بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنے کی نادر فطری صلاحیت رکھتے ہیں میں چونکہ شخصیات کا پیدائشی مطالعہ بھی کرتا ہوں لہٰذا مجھے محمد بن سلمان میں وہ سب اوصاف اور خوبیاں نظر آتی ہیں جو ماضی بعید کے برصغیر کے عسکری امور میں مہارت رکھتے شیر شاہ سوری میں موجود تھیں جس کے سبب وہ بالآخر برصغیر کے مطلق العنان حکمران بن کر شاہ ہمایوں کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنے تھے یوں مغل عہد اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
شہزادہ محمد بن سلمان میں وہ فطری اور پیدائشی اوصاف بھی موجود ہیں جن کے سبب انہدام عرب کے عشروں سے موجود ڈیپ اسٹیس منصوبوں کو بھی وہ نیست و نابود کرسکتے ہیں۔ ماضی میں ولی عہد پر جو حملہ ہوا تھا وہ میری نظر میں تو غیرمسلم ملکی ڈیپ اسٹیس کا ہی منظم کردہ تھا کہ وہ مستقبل میں شاہ بن کر سعودی جغرافیے کو غیر ملکی مداخلت اور عسکری جارحیت سے محفوظ رکھنے کی تدابیر بھی ایجاد کرسکتے ہیں حتیٰ کہ ان طویل مدتی مقاصد کے سدباب کی بھی جو خیبر تک کے سعودی علاقے کو کسی یہودی ریاست کا حصہ بنانے کے مذہبی خواب عشروں سے دیکھتے ہیں کچھ اسباب کے سبب میں ذاتی طور پر ولی عہد کے ریاض سے سخت ناخوش ہوں بلکہ ناراض ہوں۔ ریاض اور عربوں کی بار بار کی کم ظرفی نے مجھے عربوںکے حوالے سے اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔اس ذاتی تلخی کے باوجود بھی یہ تحریر میں صرف پاک سعودی تعلقات کے سنہری ماضی کے سبب لکھ رہا ہوں کہ میں ہی وہ دانشور ہوں جس کے 2003 ء سے دئیے ہوئے فکر و تصور پر جنرل راحیل شریف کی زیر قیادت محمد بن سلمان نے اسلامی عسکری اتحاد برائے انسداد دہشت گردی بنایا ہوا ہے۔ شہزادے کی عمر چونتیس سال ہے اور میں پینتیس سال سے سعودی حمایت میں کالم لکھ رہا ہوں۔ یوں ان کی طبعی عمر اور میرا سعودی حمایت کا فکری تجربہ یکسا ں عمر رکھتاہے۔

تازہ ترین خبریں