07:52 am
طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل ؟

طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل ؟

07:52 am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں سینیچر کے دن ہونے والے مذاکرات اچانک منسوخ کر دئیے جس کی وجہ بتاتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ طالبان نے گزشتہ دنوں کابل کے نزدیک امریکی اور نیٹو کے فوجیوں پر حملے کئے تھے جس میں 10فوجی ہلاک ہوئے تھے اور اس میں ایک امریکی فوجی بھی تھا ۔ زخمی ہونے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی چنانچہ امریکی صدر نے طالبان کے اس روئیے کی بنیاد پر مذاکرات ملتوی کر دئیے آئندہ مذاکرات کب ہونگے ؟ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم پاکستان نے ان مذاکرات کی منسوخی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رہنے چاہئیں جبکہ جنگ اس کا نعم البدل نہیں ہے۔ پاکستان نے اپنے تئیں ان مذاکرات کو کامیاب کرانے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا جس کو امریکہ اور طالبان دونوں تسلیم کرتے ہیں اور تعریف بھی کرتے ہیں ۔ 
 
امریکی صدر کا آئندہ افغانستان سے متعلق کیا رویہ ہوگا اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی کوئی پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ امریکی صدر کا مزاج ہر لمحے بدلتا رہتا ہے پوری دنیا کو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ امریکی صدر نے محض ایک حملے کو جواز بنا کر مذاکرات کیوں منسوخ کر دئیے حالانکہ وہ خود بحیثیت صدر ان مذاکرات کو حتمی شکل دینا چاہتے تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ ساتھ افغان صدر اشرف غنی کو بھی بات چیت کرنے کے لئے کیمپ ڈیوڈ بلایا تھا تاکہ کابل میں ایک یونیٹی حکومت کا قیام عمل میںآسکے باخبر ذرائع یہ بھی تبصرہ کر رہے ہیں کہ فی الحال افغانستان کا مسئلہ جوں کا توں رہے گا کیونکہ مذاکرات تقریباً معطل ہو چکے ہیںتاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ تقریباً حل ہونے کے قریب تھا یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر نے طالبان ، اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں بلایا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ جس طرح مصر کے مرحوم صدر انور سادات اور اسرائیلی وزیر اعظم بیگن کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا اسی طرح وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فائنل رائونڈ کر کے ایک تاریخ مرتب کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نہیں ہو سکاجس کا طالبان سمیت پوری دنیا کو افسوس ہے۔امریکی صدر نے مذاکرات کی منسوخی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کب تک جنگ کرتے رہیں گے اور معصوم لوگوں کا خون بہتا رہے گا،امریکہ خلوص دل سے گزشتہ ایک سال سے طالبان سے مذاکرات محض اس لئے کر رہا تھا کہ اس کا کوئی حل نکل آئے لیکن کابل کے نزدیک طالبان کی جانب سے ہونے والے حملے سے مجھے مجبوراً مذاکرات ختم کرنا پڑے اس سے یہ ظاہر بھی ہوتا ہے کہ امریکہ فی الحال افغانستان سے نکلنا نہیں چاہتا اور وہ اس جنگ کے خاتمے سے دنیا کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ یہ معاہدہ تقریباً ہو چکا تھا صرف اعلان باقی تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک ان مذاکرات کو منسوخ کر کے افغانستان کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا اس کا مطلب یہ بھی ہواکہ گزشتہ ایک سال سے امریکی نمائندے زلمے خلیل زادے اور طالبان کے درمیان جو مذاکرات ہو رہے تھے ان کا نتیجہ ایک اور خونی جنگ کی صورت میں ظاہر ہو گاجس کے اثرات پاکستان،ایران اور اس خطے کے دیگر ملکوں پر پڑیں گے۔ پاکستان کو پوری امید تھی کہ کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ ہو جائے گا جس کیلئے پاکستان نے زبردست سفارت کاری کی تھی لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کو ان مذاکرات کی منسوخی کے بعد مزید قربانیاں دینی ہونگی ۔ 
طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی منسوخی سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت اور اشرف غنی کو ہوا ہے۔بھارت کی یہ خواہش رہی ہے کہ امریکہ کسی نہ کسی شکل میں افغانستان میں موجود رہے کیونکہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے لئے بے پناہ سماجی، فوجی اور اقتصادی مسائل پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے جو حملے ہوئے ہیں ان میں بھارت کا کردار تھا جو پاکستان کو اندر سے عدم استحکام سے دوچار کر نا چاہتا ہے جبکہ امریکہ بھارت کے اس روئیے کے ساتھ کھڑا ہوا ہے اب مذاکرات کی منسوخی کے بعد جو صورتحال پیدا ہونے والی ہے وہ پاکستان کے لئے تشویش کا باعث ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان امریکی صدر سے درخواست کر رہا ہے کہ یہ مذاکرات دوبارہ جاری ہونے چاہئیں تاکہ اٹھارہ سال سے جاری اس جنگ کو ختم کر کے امن کو ایک موقع ملنا چاہئے۔ خود امریکہ کے مشہور اخبارات بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق موجودہ پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں اور ملتمس ہے کہ ان مذاکرات کو فی الفور شروع ہونا چاہئے کیونکہ اس طرح نہ صرف امن کے امکانات روشن ہونگے بلکہ اس خطے میں ان عناصر کی حوصلہ شکنی ہو گی جو دہشت گردی کے ذریعے پیسہ کما رہے ہیں اور معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں گے؟ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی عوام سے یہ وعدہ کیاتھا کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں گے لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا وعدہ ہوا میں تحلیل ہو گیا ہے اور وہ دوبارہ اسی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں جو خود امریکہ اور اس خطے کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ افغانستان کی جنگ میں سب سے زیادہ مالی  مدد امریکہ اور نیٹو کے ممالک کر رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے نکلنا چاہتے تھے لیکن اب حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں وہ نہ تو طالبان کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی امریکہ کے لیکن امریکی صدر طالبان کو جس طرح جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہ سفارتی نقطہ نظر سے درست نہیں ہے۔طالبان گزشتہ 18سال سے امریکہ اور نیٹو کی فوج سے لڑ رہے ہیں اور اب جب کہ امن کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں جنگ کا دائرہ پھیلے گا اور معصوم لوگوں کا خون خرابہ بھی ہوگا اگر امریکہ کو افغانستان میں دوبارہ جنگ شروع کرنی تھی تو پھر ایک سال سے جاری طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کیا ضرورت تھی، لگتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے نہیں جائے گا اور وہ ہندوستان کی مدد سے چین،پاکستان اور ایران کے لئے مسائل پیدا کرتا رہے گا لیکن یہاں یہ بات بتاناضروری ہے کہ اس خطے یعنی جنوبی ایشیا ء میں جو حالات بن رہے ہیں اس میں امریکہ کا ایک واضح کر دار ہے اور یہ کردار جنگ کی صورت میں ظاہر ہوا تو نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ طالبان امریکہ کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونگے وہ لڑتے رہیں گے تئیں کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلا لیتا۔ مستقبل کی ان حالات کے پیش نظر صورت گری کیا بنے گی اس کے بارے میں کوئی پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی بہر حال پاکستان کا یہ موقف درست ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہئیں جو امن کی صورت میں اس خطے میں تعمیر و ترقی کی نئی راہیں پیدا کرے گا ۔