07:55 am
سندھو دیش، پختونستان! نہیں بلاول نہیں

سندھو دیش، پختونستان! نہیں بلاول نہیں

07:55 am

سندھ کے اقتدار کو لاحق خطرات دیکھ کر پختونستان اور سندھو دیش بننے کی پیشن گوئیاں کرنے والے پاکستان پر بوجھ کی مانند ہیں، اگر بلاول زرداری، مولانا فضل الرحمٰن کی شاگردی میں آجاتے تو شاید اس قسم کی احمقانہ باتیں کبھی نہ کرتے۔
اقتدار آنی جانی چیز ہے لیکن اقتدار کی خاطر اگر کوئی سندھو دیش بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے تو یہ قوم اسے بحیرہ عرب میں پھینک دے گی، پاکستان نہ کسی کے جہیز میں آیا ہوا ملک ہے اور نہ ہی اس ملک کو کسی نے حلوے کی پلیٹ میں رکھ کر آزادی لی۔ اس ملک کی آزادی کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں نے لاکھوں جانیں پیش کی تھیں، اگر پی ٹی آئی کا کوئی وفاقی وزیر کراچی کے حوالے سے پلان پیش کررہا ہے تو اس کا مقابلہ سیاسی انداز سے کرنا چاہیے یا پھر اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ۔ ’’پاکستان‘‘ کسی بلاول ہائوس کا نام نہیں ہے کہ جس کو سندھو دیش بنالیا جائے گا۔سندھ میں اگر کوئی غیر مسلم بچی یا بچہ اپنی مرضی، رضا و رغبت سے کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو جائے تو بلاول زرداری کی پیپلز پارٹی کو وہ تو قبول نہیں ہے لیکن موصوف ایک وفاقی وزیر کی حرکتوں سے پریشان ہوکر فرماتے ہیں’’سندھ کے خلاف سازش برداشت نہیں کریں گے، ظلم جاری رہا تو کل سندھو دیش اور پختونستان بھی بن سکتے ہیں‘‘۔
 
نہیں مسٹر بلاول نہیں، جس پر غصہ ہے اس پر نکالئے، قصور وفاقی وزیر کا ہے تو اسے رگیدیے، اگر غصہ عمران خان پر ہے اس کے خلاف بیان دیجئے، اگر غصہ کسی جرنیل پر ہے تو ہمت کرکے اس کا نام لیجئے۔
آپ وفاقی وزیر کا غصہ وطن عزیز ’’پاکستان‘‘ پر کیوں نکال رہے ہیں؟ جس پاکستان نے بلاول کے نانا کو وزیراعظم بنایا، جس پاکستان نے بلاول کی والدہ کو بار بار وزیراعظم بنانے کی عزت بخشی، جس ’’پاکستان‘‘ نے بلاول کے والد آصف زرداری کو صدر مملکت بنانے کا اعزاز بخشا، اس پاکستان میں سندھو دیش اور پختونستان بنانے کی سوچ رکھنا بھی غداری ہے، غداری ہے۔
مسٹر بلاول! آپ اپنی سندھ حکومت کی کارکردگی چیک کیجئے،ذرا کراچی کی شارع فیصل سے متصل علاقوں کی سڑکیں، گلیاں اور بازار چیک کیجئے، ناظم آباد ، نیو کراچی سے لے کر سرجانی تک، شاہ فیصل کالونی، ماڈل کالونی، ملیر، قائد آباد سے لے کر بھینس کالونی موڑ سے گلشن حدید تک بغیر کسی پروٹوکول کے ایک وزٹ کرکے دیکھئے ۔ آپ ان علاقوں کے روڈ، گلیاں اور محلے دیکھ کر اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ سینکڑوں سال پرانا موہنجوداڑو ہے یا پھر2019 ء کے جدید دور کا کراچی؟
کیا کراچی کچرے کے بدبو چھوڑتے ڈھیروں کا نام تھا؟ مارکیٹوں میں پھیلا ہوا گٹر لائنوں کا پانی، شاہراہوں پر پڑے ہوئے بڑے بڑے گڑھے،کراچی کے ہر ضلع کی شدیدٹوٹی پھوٹی سڑکیں، پینے کے پانی میں مکس سیوریج کا پانی، وبائی امراض کا شکار بن کر ہسپتالوں میں تڑپتے بچے، جگہ جگہ پڑے ہوئے گندگی کے ڈھیر، مکھیوں اور مچھروں کی یلغار، مارکیٹوں، ہوٹلوں، گلیوں، محلوں اور گھروں میں دن دیہاڑے چوہوں کی کثرت و بہتات، کیا کراچی اس کا نام ہے؟ میں حیدر آباد یا سندھ کے دیگر شہروں کی کیا بات کروں؟ بلاول کی سندھ حکومت سے دس سالوں میں کراچی ہی سنبھلنے میں نہیں آسکا۔
جس شہر میں ایک شہری مکھیوں کی یلغار کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ کرنے پر مجبور ہو جائے، اس شہر بدنصیب میں حالات کس قدر خراب ہوں گے؟ ممکن ہے کہ بلاول ہائوس میں مکھیوں اور مچھروں کا داخلہ بند ہو؟ بلاول ہائوس کے ارد گرد کلفٹن کی سڑکیں لش پش ہوں لیکن بقیہ کراچی میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کا کیا قصور ہے؟ آپ سندھ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کی بجائے سندھ کارڈ کھیلنے کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔
اگر نیب کے قیدی آصف زرداری تک اس خاکسار کا پیغام پہنچے تو میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے فرزند بلاول زرداری کو صرف چالیس دن کے لئے مولانا فضل الرحمٰن کی شاگردی میں دے دیں، یہ بات میں نہایت سنجیدگی سے لکھ رہا ہوں، اس لئے کہ یہ بات اپنے پرائے،دوست دشمن سب ہی دل سے تسلیم کررہے ہیں کہ ’’مولانا‘‘ صاف ستھری اور حب الوطنی والی سیاست کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکے ہیں’’آکسفورڈ‘‘ نے کھڑے ہوکر کھانا،قومی خزانے کو چونا لگاکر بیرون ممالک جائیدادیں بنانا اور اسٹیبلشمنٹ سے ان بن ہونے پر سندھ کارڈ کھیلنے کی سیاست تو سکھائی لیکن عوام کی خدمت کیا ہوتی ہے؟ شہروں کی تعمیر و ترقی کس کی ذمہ داری ہے؟ پہلے تولو پھر بولو والے اصول کیا ہیں؟ زبان کی حفاظت کے شرعی احکامات کیا ہیں؟ اور اسلامی پاکستان کی سیاست کے گُر کیا ہیں؟ یہ سب باتیں مولانا فضل الرحٰمن ہی بتاسکتے ہیں اور یہ بات بھی کہ سندھو دیش اور پختونستان بنانے والوں کو ہندوستان چلے جانا چاہیے، وہاں جاکر وہ دوبارہ آزادی کی تحریک چلائیں، قربانیاں دیں اور سندھو دیش یاپختونستان بنائیں؟
قائداعظم محمد علی جناح ؒ جو ملک بناکر گئے تھے اس کا نام ’’پاکستان ‘‘ ہے، جن فتنہ پروروں کو پاکستان قبول نہیں انہیں پاکستان کی جان چھوڑ دینی چاہیے اور آج کے کالم کی آخری بات کہ کراچی کچرے کا ڈھیر تو بن چکا، اندرون سندھ کی سڑکیں، گلیاں اور شاہراہیں تو موہنجوداڑو کے کھنڈرات کے مناظر تو پہلے ہی پیش کررہی ہیں ، کیا کچرے کے ڈھیروں اور کھنڈرات بنی سڑکوں کو سندھو دیش بنایا جائے گا؟ خدانخواستہ۔