07:58 am
پاکستان کے بارے میں بلاول کا خواب!

پاکستان کے بارے میں بلاول کا خواب!

07:58 am

٭وزیراعظم عمران خان کا مظفر آباد میں جلسہ، ’’مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا‘‘O ’’پاکستان سندھودیش، سرائیکی دیش، پشتون دیش میں تقسیم ہو گا‘‘ بلاول زرداری کا اعلانOپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر کا خطاب، بدترین ہنگامہ آرائی، ایک دن کے اجلاس پر ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ ہوئےO الیکشن کمیشن اور حکومت عدالت میں آمنے سامنے، چیئرمین کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہO عمران خان 19 ستمبر سعودی عرب، 21 ستمبر سے آٹھ دن امریکہ میں O طالبان سے مذاکرات کی ناکامی، پاکستان ذمہ دار ہے، امریکہ کا الزامO آسام! شہریت سے محروم 19 لاکھ مسلمانوں کے لئے جیلوں نما جیلیں۔
 
٭وزیراعظم عمران خان کے مظفر آباد میں بہت بڑے جلسے کی روداد سامنے آ چکی ہے۔ آج مجھے خاص طور پر پیپلزپارٹی کے نوجوان وراثتی چیئرمین بلاول زرداری (بھٹو غلط ہے) کے ایک حالیہ’ الطاف نما‘ بیان کا ذکر کرنا ہے۔ ایک پراسرار وصیت کے زور پر باپ ملک کا صدر، بیٹا پارٹی کا چیئرمین بن گیا۔ شہ زور باپ جیل چلا گیا، منہ زور بیٹے کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ کوئی سمجھانے والا نہیں۔ ملک کی قومی زبان اُردو بلکہ سندھی بھی نہ لکھ سکتا ہے، نہ پڑھ سکتا ہے۔ جو منہ میں آتا ہے، سوچے سمجھے بغیر ہانک دیتا ہے۔ والد سے بھی عمر میں زیادہ نوازشریف کو نہایت بدزبانی کے ساتھ جیل بھیجنے کا اعلان کیا، عمران خان کی عمر بھی باپ کی عمر سے زیادہ ہے۔ اس کے لئے ناقابل بیان الفاظ استعمال کئے۔ خاندانی پوزیشن یہ کہ دادا، حاکم علی زرداری، 1964ء میں ایوب خان کے بلدیاتی نظام میں ضلع نواب شاہ کی سب سے چھوٹی یونین کونسل کے وائس چیئرمین تھے (تحصیلدار چیئرمین تھا) ماہوار بجٹ صرف پانچ سو روپے تھا (سالانہ ڈسٹرکٹ گزٹ باتصویر ضلع نواب شاہ 1964)۔ دادا کے پاس معمولی زمین تھی اور…اور کراچی کے ایک چھوٹے سے سینما گھر کی ٹکٹیں بیچتے بیچتے ملک کا صدر بن جانے والے آصف زرداری کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کھربوں کے 87 اثاثے، محلات، پلازے، وسیع کاروبار، فیکٹریاں، فارم ہائوس!! برخوردار بلاول 2018ء کے انتخابات کے گوشوارے میں اپنا ذاتی اثاثہ اندرونی و بیرونی بینکوں میں پانچ کروڑ روپے نقد درج کرتا ہے۔ (یہ پیسے کہاں سے آئے؟) یہ باتیں ریکارڈ پر ہیں، بار بار چھپ چکی ہیں۔ ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپنے والے برخوردار کو صرف 19 سال میں والد کا وراثتی چیئرمین بنا دیا گیا، اعتزاز احسن، رضا ربانی، کائرہ، خورشید شاہ اور جمہوریت منہ دیکھتے رہ گئے! میں ذرا پیچھے جانا چاہتا ہوں۔ برخوردار سنو! تمہارے نانا ذوالفقار علی بھٹو 1958ء میں جنرل ایوب خاں کے مارشل لا میں وزیر توانائی، پھر وزیر خارجہ بنے (ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے) بھٹو ایوب خان کی سرکاری کنونشن لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے، مادر ملت فاطمہ جناح کے خلاف زہریلی تقریریں کیں، انہیں دھوکے سے صدارتی انتخاب ہرایا۔ پھر جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا میں وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم بنے، انتہا یہ کہ خود دنیا بھرکے پہلے سول چیف مارشل لا بن کر ملک کا اقتدار سنبھالا۔ بعدمیں وزیراعظم بنے تو چھ سال تک ملک میں بلدیاتی کے انتخابات نہ ہونے دیئے، چھ سال ایمر جنسی نافذ کئے رکھی۔ ہائی کورٹوں کو رٹ درخواستوں کی سماعت سے محروم کر دیا، ملک کے تمام تعلیمی اور صنعتی اداروں پر قبضہ کر لیا ملک کی معیشت تباہ ہو گئی۔ اور برخوردار،کیا کسی نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں وزیراعظم اور وزیرخارجہ بننے والے یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا میں اس کے ماتحت وزیر تھے؟ اعتزاز احسن بھی پیپلزپارٹی چھوڑ گئے تھے۔
یہ قصہ یہاں چھوڑ کر دوسری طرف آ رہا ہوں۔ سنو بلاول زرداری! تم نے سندھو دیش، سرائیکی اور پشتون دیش کے قیام کا خواب دیکھا ہے اور اس سلسلے میں بنگلہ دیش کے قیام کو مثال بنایا ہے۔ تاریخ پڑھو نوجوان! بنگلہ دیش کی علیحدگی میں مجیب الرحمان اور بھٹو کا یکساں کردار بیان کیا جاتا ہے۔ 1970ء کے انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت حاصل تھی۔ جنرل یحییٰ نے مجیب الرحمان کو وزیراعظم بنانے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو نے ایسا نہ ہونے دیا۔ اور جب فوج نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے خلاف آپریشن شروع کیا تو تمہارے نانا جان نے ڈھاکہ سے کراچی پہنچ کر ہوائی اڈے پر بیان دیا کہ’’ شکر ہے پاکستان بچ گیا‘‘!! اس سے پہلے جنرل یحییٰ خان نے انتخابات کے بعد ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کا اعلان کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی! ٹانگیں تو کیا ٹوٹنا تھیں، ملک ٹوٹ گیا۔ بلاول زرداری! تمہیں شائد نانا کا کردار بہت پسند ہے ورنہ ملک کے ٹکڑے کرنے کا خواب نہ دیکھتے! یہ بات اتنی آسان نہیں برخوردار! پھر لکھوں گا۔
معذرت کہ میں نے بلاول کی باتوں کو غیر ضروری اہمیت دے دی۔ ان لوگوں کے سارے مفادات ملک سے باہر ہیں۔ پاکستان میں تو یہ لوگ صرف حکمرانی اور اثاثوں میں اضافہ کے لئے آتے ہیں۔ اب دوسری مختصر باتیں۔
٭عمران خان 19 ستمبر کو سعودی عرب جائیں گے۔ ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے علاوہ بیگم صاحبہ کے ساتھ عمرہ بھی کریں گے۔ 21 ستمبر کو آٹھ روز کے لئے امریکہ چلے جائیں گے۔ 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے (26 ستمبر کو نریندر مودی خطاب کرے گا) عمران خان کی کھانے اور چائے پر صدر ٹرمپ سے دوملاقاتیں ہوں گی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم عمران خان آٹھ دن ملک سے باہر رہیں گے۔ تھڑا سیاست دان علم دین کو نادر باتیں سوجھتی ہیں۔ اس نے مولانا فضل الرحمان کو نادر مشورہ دیا ہے کہ اکتوبر کی بجائے انہی آٹھ دنوں میں آزادی مارچ کر کے اسلام آباد پر قبضہ کر لیں!
٭بھارت کے صوبہ آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کو قید کرنے کے لئے حراستی کیمپ (جیلیں) تیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ 19 لاکھ افراد 50,45 برسوں سے آسام میں پناہ گزین ہیں۔ زیادہ تعداد 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے آئی تھی۔ بھارتی حکومت نے ان لوگوں کو شہریت دینے سے انکار کر دیا اور ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے ورنہ انہیں جیلوں میں بند کر دیا جائے گا۔
٭’’آزاد کشمیر پر حملے کے لئے تیار ہیں‘‘۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت! یہ اعلان وہ پہلے بھی کئی بار کر چکا ہے۔ اس پر کیا لکھوں! حملہ کر کے تو دیکھے!
٭بھارت، بھوپال صوبہ مدھیہ پردیش۔ نائب تحصیل دار نے کسی کام کے لئے کسان سے 25 ہزار روپے رشوت مانگی نہ دینے پر سات ماہ سے معاملہ ٹال رہا تھا۔ کسان نے تنگ آ کر اس کی جیپ کے ساتھ اپنی بھینس باندھ دی اور کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، بھینس لے جائو۔
٭ملک انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ بھارت جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد کو فتح کرنے کے اعلانات آ رہے ہیں، بلاول ملک کو تقسیم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور ملک کے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کراچی کو وفاق کے کنٹرول میں لانے کا اعلان کر دیا اب آئیں بائیں شائیں کہ یوں نہیں کہا تھا، ایسے نہیں کہا تھا۔ اس پر سندھ میں نئی ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی ہے! وزیر قانون کو اچانک کراچی کے کنٹرول کی توپ چلانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟ اس کا پس منظر فی الحال پراسرار ہے، صرف اتنی بات کہ بھارتی میڈیا اسے بہت اچھال رہا ہے! شائد مقصد بھی یہی ہے!
٭پنجاب پولیس کی ایک اورشہرت:آزادکشمیر، پونا ضلع بھمبر سے طاہر محمود: ہماری گاڑیاں پاکستان میں داخل ہوتی ہیں تو پنجاب پولیس بہت بدسلوکی کرتی ہے، کاغدات اور ہر چیز درست ہونے کے باوجود چالان کر دیتی ہے کاغذات اپنے پاس دبا لیتے ہیں، واپسی کے لئے چکر لگواتے ہیں اور پھر منہ مانگے معاوضہ پر واپس کرتے ہیں۔