07:30 am
 خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں

 خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں

07:30 am

خوش فہمی اور غلط فہمی کہنے کو تو مختلف ہیں مگر اصل میں دونوں ایک ہی ہیں کیوں شروع میں خوش فہمی ہی ہوتی ہے کہ یہ تبدیلی ضرور آئے گی اور بہتری کے لئے آئیگی مگر جب تبدیلی آجاتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ تو غلط فہمی تھی سب کچھ تو ویسے کا ویسا ہی ہے بلکہ کچھ حد تک پہلے سے بھی خراب ہو گیا ہے۔ ہر الیکشن سے پہلے ہر سیاسی جماعت سنہرے سپنے مارکیٹ میں لاتی ہے اور جتنا اچھا ساحر ہوتا ہے اتنا ہی وہ بہتر انداز میں لوگوں کو سحر میں مبتلا کر لیتا ہے اور اس عمل کے لئے سیاسی بڑوں نے لابنگ ٹیمیں رکھی ہوتی ہیں جس طرح کسی عامل بابے نے اپنے پروموٹرز رکھے ہوتے ہیں جو اس کے عمل اور کرامات کا چرچا کرتے ہیں اس کے لئے ان کے ساتھ عملی مثالیں بھی ہوتی ہیں جنہیں پیش کر کے وہ صاحب کرامات کی دھاک بٹھاتے ہیں اسی طرح سیاسی رہنمائوں نے بھی ’’فدائین‘‘ کا گروہ رکھا ہوتا ہے جو اپنے رہنما کو ’’دیوتا‘‘ بنا کر پیش کرتا ہے اور ہمارے لوگ خود خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے لئے آمادہ و تیار ہوتے ہیں اس لئے ان ’’فدائین‘‘ اور پروموٹرز کو کبھی ناکامی نہیں ہوئی۔ بعض اوقات تو ہمارے سیاسی رہنمائوں کے بارے ایسے ایسے روحانی خواب اور روحانی ہدایات مارکیٹ کی جاتی ہیں کہ انسان ان پر عمل پیرا نہ ہو کر گنہگار ہونے کا تصور  بھی نہیں کر سکتا۔ پھر اس میں کمال ہمارے بعض دینی اور مذہبی رہنمائوں کا ہے کہ وہ بھی اپنے کلائنٹ کو صاحب کمالات اور برگزیدہ انسان اور مقبول حکمران کے طور پر مارکیٹ کرنے میں ممد و معاون ہوتے ہیں۔ ہمارے قریباً سبھی سیاسی رہنما یہ کریڈٹ لیتے ہیں کہ ان کے لئے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ کوئی خانہ کعبہ کی چھت پر جانے کا بھی دعویدار ہے۔ کوئی خانہ کعبہ میں رو رو کر نوافل ادا کرنے سے اپنے آپ کو برگزیدہ قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں لیکن اس بات کے باوجود ملک کے اندر کوئی بہتری نہ لا سکا۔ ہر کوئی خانہ کعبہ اور روضہ رسول ؐ پر رو رو کر ملک و قوم کے لئے دعائیں بھی کرتا رہا مگر ملک کے اندر محرومیاں بڑھتی رہیں۔ لوگ انصاف کو ترستے رہے جبکہ قاضی القضاء انصاف کے ترانے گاتے رہے۔
 
ایک عرصہ ہوا کہا گیا پولیس کلچر تھانہ کلچر تبدیل ہوگا۔ آج سے چالیس سال پہلے بھی ٹی وی ریڈیو پر اعلان ہوتے رہے پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی۔ چیف منسٹر کے بجائے خادم اعلیٰ کہا گیا مگر سڑک پر بچوں کے سامنے ماں باپ اور بچے کو سی ٹی ڈی گولیوں کا نشانہ بنادیتی ہے اور بعد میں اسی مقتول کو دہشت گرد ثابت کر دیا جاتا ہے۔ ابھی محض چند دنوں میں پنجاب پولیس نے تحویل میں رکھے گئے ملزمان کو پولیس مقابلے میں مار ڈالا۔ لاہور میں ہی ایک جج کو وکیل نے تھپڑ مارے، گالیاں دیں۔ کچھ نہ ہوا ۔ لیڈی کانسٹیبل کو وکیل صاحب تھپڑ اور ٹھڈے ماریں کہ غلط پارکنگ سے منع کیوں کیا اور اگلے روز وکیل صاحب عدالت سے بری۔
ابھی چند ماہ پہلے ہی ایک چیف جسٹس ہر چھوٹے بڑے ایشو پر سوموٹو ایکشن لیا کرتے اور عوام خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ اب انصاف کا بول بالا ہوگا مگر پھر معلوم ہوا یہ بھی غلط فہمی تھی وہ بھی سلیکٹڈ انصاف ہوا کرتا تھا۔
اسی طرح گزشتہ سال بھی تبدیلی کی خوش فہمی نے لوگوں کو امید کے آسمان پر لا کھڑا کیا کہ بس اب محض چند ماہ کی بات ہے لوٹی ہوئی دولت کے سینکڑوں ارب ڈالر واپس قومی خزانے میں آجائیں گے  اور ہم آئی ایم ایف کو قرضہ واپس کر کے ملک خوشحال کر لیں گے مگر پھر پتہ چلا کہ وہ بھی غلط فہمی تھی ایسے سینکڑوں ارب ڈالر تو ہیں ہی نہیں کہ واپس لائے جاسکیں۔ بجلی، گیس سستی ہوگی، پولیس کلچر یکسر بدل جائے گا مگر یہ سب خوش فہمیاں تو بہت جلد پتہ چلا کہ غلط فہمیاں تھیں۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔
نوجوانوں کو خوش فہمی تھی کہ ان کے لئے روزگار کے وافر مواقع ہونگے۔ دانشوروں کو خوش فہمی تھی کہ ہیومن ریسورس میں سرمایہ کاری ہونے سے ایک بہتر قوم کی بنیاد رکھی جائے گی۔ کسانوں کو خوش فہمی تھی کہ اب صرف تاجروں کی ہی نہیں ان کی بھی سنی جائے گی۔ بیورو کریسی بھی اس خوش فہمی کا شکار تھی کہ اب میرٹ کا بول بالا ہوگا انصاف سربلند ہوگا۔ کارٹلز اور مفاد پرست ٹولے ختم ہونگے۔ مگر یہ سب خوش فہمیاں پالنے والے طبقے بھول گئے کہ کارٹلز اور اجارہ داریاں رکھنے والے شطرنج کے بہترین کھلاڑی ہوتے ہیں وہ ہرط رف نظر رکھتے ہیں اور ہر چال سوچ سمجھ کر کھیلتے ہیں پھر وہی ہوا وہی کارٹلز اور اجارہ داریاں چھا گئیں اور وہی لوگ جو خوش فہمی میں مبتلا تھے محسوس کرنے لگے کہ یہ بھی شاید غلط فہمی تھی کہ تبدیلی ایسے بھی آسکتی ہے۔ وہی وفاق میں درجنوں وزراء، معاونین، درجنوں ٹاسک فورسز کے سینکڑوں ممبران دن رات عوام کی فلاح و بہبود اور سسٹم کے استحکام کے لئے مصروف کار ہیں۔
کراچی کی مقامی حکومت اور صوبائی حکومت کچرا صفائی پر دست و گریبان ہیں۔ پنجاب میں پولیس دن رات عوام کو انداز شہریت سے آشنا کرانے میں مصروف ہے۔ مریم نواز نے جج کی ویڈیو وائرل کی۔ ناصر جنجوعہ اور دیگر کے بارے  بتایا گیا کہ انہوں نے بنائی ہے جج اور ملزمان کے درمیان بروکر کا کام کرتے رہے مگر تحقیقاتی ادارے نے پوری تحقیق سے ثابت کر دیا کہ ایسا کچھ نہیں  ہوا  عدالت نے بری کر دیا۔ آئے دن بتایا جاتا ہے نوازشریف اور فیملی اور زرداری فیملی اربوں ڈالر دے کر واپس جانا چاہتے ہیں مگر وہ اربوں ڈالر نہیں آرہے بلکہ وہ سب تو عوام کے پیسوں پر جیل میں تمام سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ احد چیمہ اور فواد کو نیب کسٹڈی میں سال ہو گیا۔ خوش فہمی تو یہی تھی کہ ان دونوں سے بھی اربوں روپے محض چند ماہ میں برآمد ہونگے پھر پتہ چلا یہ بھی غلط فہمی تھی۔ شاید ایسا کچھ نہیں۔ آج بھی جیلوں میں بے مایہ اور بے آسرا محض چند ہزار روپے جرمانہ نہ ادا کر سکنے کی بنا پر سزا کاٹ رہے ہیں اور یہی بے آسرا انہی وی آئی پی قیدیوں کے خدمت گار اور خدمت گزار کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کی خوش فہمی میں مبتلا لیڈی کانسٹیبل کو وکیل کے تھپڑ اور ٹھڈے کھا کر اور پھر عدالت سے باعزت بری ہوجانے پر واضح ہو چکا ہوگا کہ 
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور