07:32 am
  امن  مذاکرات  اور  پاکستان  کا  استحکام 

  امن  مذاکرات  اور  پاکستان  کا  استحکام 

07:32 am

افغانستان کے مستقبل کے متعلق پیش گوئی کرنا کوئی آسان کام نہیں ! امریکہ بہادر اور افغان طالبان کے درمیان دھوم دھام سے ہونے والے مذاکرات سے امن کے بجائے مزید بے یقینی اور ابہام پیدا ہوچکا ہے۔ صدر امریکہ نے مذاکرات روکنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ کوئی بعید نہیں کہ مستقبل قر یب میں یہ حکم واپس لیتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ بحال کر دیا جائے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ افغانستان کی بد ا منی سے افغانیوں کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اُٹھایا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغا نستا ن میں امن بحال نہ ہوا تو پاکستان کے مسائل بھی ختم نہ ہو پائیں گے۔ افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی در اندازیاں اور ریاست دشمن سرگرمیاں پاکستان کے لیے مستقل درد سر بنی رہی ہیں ۔ دشوار گذار پہاڑی علاقوں اور کھلی سرحد جیسی کمز و ر یوں کو بھارت جیسے سازشی دشمن نے بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے راستے پاکستان کے ریاستی وجود پر کاری وار کئے ۔ شیطان کی آنت کی طرح پھیلے دہشت گردی کے جال کو تار تار کرنے کے لیے پاکستان کے تمام ریاستی اداروں نے بے مثال عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔
 
 بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف جاری پیچیدہ جنگ میں عسکری اداروں نے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے ریاست کو دہشت گردوں پر واضح بر تری دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ سوات اور قبائلی علاقوں میں ریاست کی ختم ہو جانے والی گرفت بحال نہ ہو پاتی تو شائد آج پورا پاکستان غیر ملکی سرمائے پر پلنے والے شدت پسند گروہوں کے رحم و کرم پر ہوتا ۔ اس خوفناک منظر نامے کا تصور ہی دل دہلا دیتا ہے۔ افغانستان سے متصل قبائلی علاقوں اور سوات میں عملاً بھانت بھانت کے دہشت گرد گروہوں کا راج تھا ۔ عام شہریوں کو ذبح کیا گیا ۔ تھانے اور اسکول جلا کر یہ پیغام دیا گیا کہ ریاستی اداروں کی کوئی وقعت نہیں بلکہ اصل راج اُن گروہوں کا ہے جو ایک ہاتھ میں بندوق اور دوسرے ہاتھ میں خنجر تھامے کھڑے ہیں ۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی پر لسانی دہشت گردی کے عفریت نے پنجے گاڑ رکھے تھے۔ شہر عملی طور پر لسانی بنیادوں پر تقسیم تھا ۔ کراچی شہر کے ایک بڑے حصے پر اُس لسانی گروہ کا قبضہ تھا جس کا سرغنہ لندن میں پناہ گزیں ہے۔ دوسرے حصے پر سندھ کی حکمران جماعت کے اُس گروہ کا حصہ تھا جو صوبائی سطح پر ایک سکہ بند لسانی گروہ کی طرح سندھی بولنے والے طبقے کے نمائندگی کا دعویدار تھا ۔ شہر کے تیسرے حصے پر پشتونوں کے نام نہاد قائدین کا راج تھا ۔ ان عناصر میں ایک قدر مشترک یہ رہی کہ انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جس طبقے کی نمائندگی کرنے کا یہ دعویٰ کرتے رہے اُسی طبقے کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے رہے۔ 
کراچی شہر میں پولیس‘ عدلیہ سمیت دیگر ریاستی ادارے بھیگی بلی بنے رہے۔ لسانی گروہوں کی متوازی حکومت قائم تھی ۔ لوگ تھانے کچہری کے بجائے لسانی تنظیموں کے مقامی دفاتر میں پیشیاں بھگتاتے اور اپنے مسائل حل کرواتے تھے جس شہر میں ریاستی ادارے معمولی سا ٹیکس وصول نہیں کر پاتے اُسی شہر میں لسانی گروہ اور سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے پلنے والے جرائم پیشہ عناصر ایک دن میں کسی ایک مارکیٹ سے کروڑوں کا بھتہ وصول کرلیتے تھے ۔ یہ راز بھی طشت از بام ہوچکا کہ لسانی گروہوں کی بھگوڑی قیادت بھارتی خفیہ اداروں کے اشاروں پر کراچی کو برباد کرتے ر ہے ۔ بلوچستان کا معاملہ ابھی تک پوری طرح سلجھا نہیں ۔ سی پیک منصوبے کی وجہ سے دشمن بلوچستان کے در پے ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندی کی آڑ میں پاکستان کی سالمیت پر حملے آج بھی جاری ہیں ۔ کل بھوشن کی صورت بھارتی ریاستی عناصر کی دہشت گردی کی سرپرستی کا ناقابل تردید ثبوت بھی دستیاب ہوچکا ہے ۔ یہ بات طے ہے کہ بھارت علاقے کے ممالک کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ 
کل بھوشن جھادیو ایرانی شہر چاہ بہار میں حسین مبارک پٹیل کا روپ دھار کر پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرتا رہا ۔پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے اکثر واقعات کا سرا ا فغا نستان تک جا پہنچتا ہے ۔ یہ امر کوئی راز نہیں کہ بھارت نے افغانستان کے ریاستی اداروں میں پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔ قبائلی علاقوں میں عام پاکستانیوں کے سر قلم کرنے والے اور اسکول کے معصوم بچوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ریاست دشمن دہشت گرد آج بھی افغانستان میں بھارتی چھتری تلے پناہ لیے بیٹھے ہیں ۔
 اس پس منظر کو ذہن میں رکھا جائے تو امریکہ اور افغان طالبان مذاکرات کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتے ہی بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی ۔ یہ تاثر عام ہے کہ افغان طالبان بھارت کو کبھی بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ مذاکرات کا آغاز اور مستقبل میں ممکنہ کامیابی درحقیقت بھارت کے افغانستان میں قائم ناجائز ا ثر و ر سو خ کے خاتمے کا اعلان ہے۔ افغانستان میں گذشتہ دنوں ہونے والے پے در پے حملوں میں بھارت کا ممکنہ کرد ار ادا کرنا اتنا آسان نہیں ۔ یہ بات شک و شبے سے بالا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے استحکام کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ یہ امر بھی بالکل واضح ہے کہ پاکستان کو مستحکم کرنے والے ہر اقدام کی مخالفت میں بھارت پیش پیش ہوگا۔