07:34 am
پردے کے پیچھے کیاہونے جارہاہے؟

پردے کے پیچھے کیاہونے جارہاہے؟

07:34 am

میرے ہاتھ میں اسٹیٹ بنک سے جاری کردہ ایک سکہ ہے جس پر حکومت پاکستان لکھاہے اس سے قبل کے سکوں پرتو اسلامی جمہوریہ پاکستان کندہ ہواکرتاتھا اب پاکستان کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سکے پرسے اسلامی جمہوریہ کوہٹادیاگیاہے کیااس سے یہ سمجھاجائے کہ نیا پاکستان بنانے والوں  نے پاکستان کو غیر اسلامی غیر جمہوری یعنی سیکولر پاکستان بنارہے ہیں جس خاموشی اور ہوشیاری سے کرنسی تبدیل کی جارہی ہے وہ اس امر کی نشان دہی کررہی ہے کہ ملک اپنے نئے حکمرانوں کے ہاتھوں نئی کروٹ بدل رہاہے کرتارپور راہداری جوبظاہر سکھ قوم کیلئے بنائی جارہی ہے لیکن حقیقت اس کی بھی کچھ اور ہے سکھ زائرین کا تو حیلہ استعمال کیاگیاہے لیکن یہ ساری کارروائی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرجوانہوںنے قادیانی اسرائیلی قیادت کی فرمائش کی ہے ابھی توابتداء ہے آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔
 
 نئی حکومت کوآئے ابھی سال بھرہی ہواہے اور ملک کی شناخت تبدیل کی جارہی ہے۔ پاکستان اب اسلامی مملکت نہیں رہے گا۔ پاکستان کوسیکولر سوشلسٹ ملک کے طور چلایاجائے گا یوں کلیسا اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوجائے گا اور قادیانی اس کی آڑ میں پاکستان میں بطور مسلم اپناحق راے دہی بحال کرانے میں کامیاب ہوجائے گے جب مملکت خداداد پاکستان اسلامی جمہوریہ سے صرف حکومت پاکستان رہ جائے گا تو پھر غیر اسلامی پاکستان کو اسرائیل کوقبول کرنے میں اس کا سفارت خانہ کھلنے میں کونسی چیز رکاوٹ بنے گی ۔گھر کوآگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے۔ وہ دن دور نہیں جب آئین پاکستان میں ترمیم بھی کرلی جائے ۔
 پاکستان نے جب جب نظریاتی بنے کی کوشش کی تب تب امریکہ اور اس کے حواریوں نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے پابندیوں کی دھمکیاں دے کر حکمرانوں کواپنی راہ لگالیا کیونکہ  کلیساکبھی نہیں چاہتا کہ کوئی مسلم ملک اپنی اسلامی شناخت پرقائم رکھے اوراپنے پیروں پرکھڑا ہو۔ا فغانستان میں طالبان نے ضیاء الحق کی مدد اورتعاون کے ذریعے ملاعمر کی قیادت میں ایک اسلامی حکومت قائم کی جسے ختم کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے حواریوں نے اپنی پوری قوت صرف کردی یہ اور بات کہ افغانستان کے حدوداربع اور محل وقوع پر ا مر یکیو ں کابس نہیں چل رہا امریکہ افغانستان میں سانپ کے منہ میںچھچھو ندر کی مانند پھنس کررہ گیاہے، نانکلتے بن رہی ہے نارہتے بن رہی ہے۔ افغانستان کے مقابلے میں پاکستان نرم چارہ ہے لیکن افواج پاکستان کاخوف اور رعب ایساہے کہ کسی کوکھل کر سامنے آنے کی جرات نہیں ہورہی اس باعث ہی مختلف سازشوں کے ذریعے وہ لوگ اپنے مقاصد پورے کررہے ہیں۔ قادیانی قیادت مسلسل اس کوشش میں لگی ہوئی کہ کسی بھی طرح پاکستان میں اپنے آپ کو کفر کے دائرے سے نکال کر مسلم قرار دلوالیں قادیان جو پاکستان کی سرحد کے قریب بھارت میں واقع ہے‘ سے براہ راست  رابط ممکن بنالیاجائے وہ اپنی اس مذموم کوشش میں کامیاب ہوگے۔ حکومت وقت نے سکھ یاتریوں کی آڑ لے کر دراصل قادیانیوں کابڑااہم مسئلہ حل کردیاہے رہی سکھ برادری تووہ پہلے بھی واہگہ سے آرہی رہے تھی‘ ہاں قادیانیوں کیلئے آنامشکل تھا چونکہ اب آسان بنادیا گیا ہے کچھ ہی دن جاتے ہیں کہ پاکستان میں ان کی خفیہ سرگرمیاں کھل کر سامنے آنے لگیں گی۔ کرتار پور سے سکھ آئیں ناآئیں‘ قادیانی ضرور آئیں گے۔ ممکن ہے اس راہداری کیلئے اسرائیل نے امریکہ توسط سے عسکری قیادت پر کسی طرح کادبائو ڈالاہو ۔
 راہداری کے کام کواتنی تیزاور پھرتی سے مکمل کیاگیا ہے‘ ایسا اس سے پہلے کسی بھی زیرغور منصوبے پرنہیں ہوا شاید ایسا اس لئے بھی ہواہو کیونکہ قادیانیوں کا سالانہ اجتماع جوقادیان میں ہرسا ل ہوتاہے نزدیک ہو۔حکومت پاکستان کاشاید یہ پہلا منصوبہ جس پر بھارت سے مذاکرات بھی ابھی مکمل نہیں ہوپائے ہیں جبکہ ہماری طرف سے منصوبہ ہرطرح سے مکمل کردیاگیاہے ۔ جتنے منہ اتنی زبانیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ  قادیانی ووٹ بھی اب بحال ہوجائیں گے۔ ان کی مسلم حیثیت بھی بحا ل کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے بہت سے اہم عہدوں پر قادیانیوں کوتعینات کردیاہے ۔حکمران وقت کے قریبی دوست ساتھی اپنی پوری توانائی اسی کام میں صرف کررہے ہیں کہنے والے تویہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک میں  سیاسی مخالفین کیخلاف تمام کارروائیاں اس لئے کی جارہی ہیں کے حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے اپنے زخم چاٹتی رہ جائیں حکمرانوں جوکرناہے وہ کرلیں اور ملک میں کوئی شور شرابہ ناہو ۔حکومت نے تبدیلی کی ابتداء کرنسی میں اسلامی جمہوریہ کے الفاظ حذف کرنے سے کی ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی کرنسی اس کی شناخت ہوتی ہی یقینا منصویہ سازوں نے بہت سوچ سمجھ کرہی قدم اٹھایا ہوگا۔
 اب دیکھنا یہ ہے کے آگے آگے دیکھے ہوتاہے کیا سیاسی میدان میں شاید مولانا فضل الرحمن نے اس اصل تبدیلی کوکسی حدتک پہچان لیاہے لیکن شاید زبان پرلانے کی ہمت انہیں بھی نہیں ہورہی۔ وہ موجودہ حکمران سے نجات چاہ رہے ہیں لیکن وہ جواز کچھ اور پیش کررہے ہیں اگر حکمران کسی بھی طرح اپنی سوچ میں کامیاب ہوجاتے ہیں توان کا یہ قدم ختم نبوتؐ کے قطعی خلاف ہوگا شاید وہ بھول رہے ہیں کہ ختم نبوتؐ پر کتنی جانیں نثار ہوچکی ہیں ختم نبوت ؐکیخلاف اور قادینت کی حمایت کتنے بڑے فتنے کوجنم دے سکتاہے۔ حکومت وقت کو بہت سنبھل کر بہت احتیاط سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھاناہو گا کہیں ایسا ناہو کے ساری کے چکر میں آدھی ادھوری سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے۔ یہ بہت نازک وقت آ لگا ہے۔ تلوار کی تیز دھار پرچلنے جیسا ہے۔ اللہ تمام اہل سیاست کوعقل سلیم عطاکرے اورحب الوطنی کوفروغ دے ہمارے وطن عزیز کی حفاظت کرے (آمین   )

 

تازہ ترین خبریں