07:35 am
اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتاہے؟

اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتاہے؟

07:35 am

غورکرنے والے اگرغورکرتے توانہیں ادراک ہو کر رہتاکہ کشمیرکوئی بوجھ نہیں بلکہ ایک اثاثہ ہے۔ پچھلی سات دہائیوں سے کشمیریوں نے سفاک برہمن کواپنے  سینے کی دیوارپرروک رکھاہے،کیاان کی کوئی قیمت نہیں؟
اختلافِ رائے میں کوئی حرج نہیں۔آخری پیغمبر محمد ﷺ کواپنے پیروکاروں سے مشورہ کرنے کاحکم دیاگیاجن کاتکیہ کلام ہی یہ تھا‘ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں اورقرآنِ کریم فرقانِ حمید آنجناب حضوررسولِ اکرم ﷺ کی اس روش کوان کی عظمت اوربلندی کی دلیل ٹھہراتاہے۔چینی مفکر ماؤزے  تنگ کے مصداق’’ سو پھول کھلنے دیں‘‘ میرے آقا کے فرمان ہیں۔جہاں تہاں سے ہزاروں آوازیں اٹھتی ہیں بالآخران میں ایک آہنگ ابھرتاہے مگریہ کیاقرینہ ہے کہ خودپاعتمادہی باقی نہ رہے۔ اپنامقدمہ کتناہی سچاہو،آپ ہمیشہ اپنی قوم پہ شرمندہ اورشرمسارہی رہیں۔جنابِ علیؓ ابی ابن طالب نے ایسی ہی کسی ساعت میں ارشادکیا ’’مصیبت میں گھبراہٹ  ایک دوسری مصیبت ہے‘‘۔
 
 کیا حادثات نے ہمیں تھکادیااورایک مر یضا نہ خودسپردگی بخش دی؟مذاکرات کئے جائیں اورضرور کئے جائیں،امن تلاش کیا جائے اورپورے عزم کے ساتھ کیاجائے لیکن احساسِ شکست کیسا؟اوراتنی بے مثال قربانیوں کے بعدمرعوبیت کاکیا مطلب؟ جاننے والے یہ کیوں نہیں جانتے کہ:
یہاں کوتاہی ذوقِ عمل ہے خود گرفتاری
جہاں بازو سمٹتے ہیں، وہیں صیاد ہوتا ہے
 نجانے کتنی دیراورہمیں ایسی بدنصیبی کامنہ دیکھناپڑے گاکہ مملکتِ خداداد کی تمام نعمتیں استعمال کرتے ہوئے کچھ ایسے حضرات بھی ہمارے حصے میں آئے ہیں جوکھاتے تواس ملک کاہیں لیکن حقِ نمک کسی اورکااداکرتے ہیں۔ پچھلے دنوں پاکستان میں اپنے آپ کوایک دانشورکہلانے اورلکھوانے والے نے کہا ’’کشمیر کو بھول جائیں‘‘۔کسی نے ان سے مڑکریہ سوال نہیں پوچھا ’’اتنی بیش بہاقربانیوں اوراتنے گہرے زخموں کے بعدکیسے بھلا دیاجائے؟‘‘ افراداورقبائل، اقوام اور امتوں کیلئے اچھے اوربرے وقت آتے ہیں اوریہی وقت بتاتے ہیں کہ کوئی شخص یاگروہ نیکی اور عدل پرکتناقائم ہے۔ان کیلئے کتنی قربانی دے سکتا ہے۔ صرف یہی توایک معیارہے جو افراداوراقوام کی قدروقیمت کاتعین کرتا ہے۔ایک آدمی کتنااوپر اٹھے گااورایک قوم سرفرازی کی کتنی منزلیں سرکرے گی؟
وقت بدلتاہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بدلتانہیں ہے ۔ طوفان پانیوں کوبدل نہیں دیتے اوربحران زندگی کے حقائق تبدیل نہیں کرتے۔ طلوع وغروب مہ و مہر کا سلسلہ جاوداں ہے۔ہزاروں منزلیں ہیں، ہزار منتظر ہیں،چودھویں کاچاندچمکے توطوفان اٹھتے ہیں تو کیا پھر پانی قرارنہیں پالیتا؟ کشمیرتوایک اثاثہ ہے، بیش  بہا قیمتی،جاں سے بھی زیادہ عزیز،اس نے ہمیں تاب وتوانائی بخشی اورزندہ رکھا،ورنہ ہم ایک کم کوش اوراتنے سہل طلب تھے کہ شائدتاریخ کے کسی چوراہے پرلمبی تان کے سوجاتے،پھر کبھی اس پربھی توغورکروکہ ایک قوم کے دوحصوں میں سچے اورکھرے تعلق کی یہ کیسی مثال ہے گویاجسم اورروح ہیں جویکجاہونے کوتڑپتے رہتے ہیں۔
 فیصل آبادکاایک رئیس زادہ ڈاکٹرجوماں باپ کااکلوتاچشم وچراغ تھا،جس کااوراس کے آبائواجداد کا بظاہرکشمیرکی سرزمین سے کوئی تعلق بھی نہ تھالیکن اپنے مجبورومقہورکشمیری بہن بھائیوں پربھارتی بنئے کے مظالم اوران کی فریادپراپناسب کچھ تج کرکے وہاں پہنچ جاتا ہے کیونکہ قرآن کابھی تویہی حکم ہے۔اس کی شجاعت کی داستانیں ایک افسانہ معلوم ہوتی ہیں ،اس کے ساتھی بڑے عزم اورفخرکے ساتھ ان واقعات کوسنارہے تھے جس کیلئے اس نے ان تمام دنیاوی آسائش سے منہ موڑلیا۔کس جوانمردی سے اس بوڑھے باپ نے کہا ’’ صرف مبارکبادکے پیغام کے ساتھ گلے ملیں، میرابیٹا مسیحاتھااوراس نے ہماری آخرت کی تمام بیماریوں کاپیشگی علاج کردیاہے‘‘۔ لاہورکے فیصل محمودکے بوڑھے باپ نے دروازہ کھولااوریہ کہا‘ کوئی تعزیت نہ کرے،آج صرف وہ لوگ اس گھرمیں داخل ہوں جومبارکباددینے کاحوصلہ رکھتے ہوں۔
سوپورکی نوربی بی کے ننھے سے اکلوتے بیٹے کوان ظالموں نے ندی میں لٹکایااورغوطے دیئے مگروہ اپنے جواب پرقائم رہی‘میں مجاہدین سے واقف ہوں اورنہ ان کے اسلحے سے آشنا‘ حالانکہ  اسلحہ اس کے گھر میں دفن تھا۔وہ کم نصیب اپنے معصوم اوربے گناہ بچے کی لاش بھی وصول نہ کرسکی اوروہ دریائے جہلم کی لہروں کی نذرہوتاہواپاکستان کی حدود میں پہنچ گیا۔باغ کابشارت عباسی سرینگرکے لال چوک میں پاکستان کاپرچم بن کرلہرایاحتی کہ اس کاسینہ چھلنی کردیا گیا۔ برادرم راجہ عتیق اپنے جواں سال عثمان کی شہادت کی مبارکبادیں کس عزم اورحوصلے سے وصول کررہاتھا کہ گویا کوئی بہت بڑاخزانہ ہاتھ لگ گیا ہو‘حزب المجاہدین کاسربراہ محمدصلاح الدین اپنے خاندان کے تمام افرادقربان کرچکا لیکن اب بھی ساراسال سفرمیں رہتاہے لیکن پہاڑساآدمی اس موضوع پربات ہی نہیں کرتا۔خدایا! کبھی کسی نے اپنادردیوں بھی تھاماہے،کیا کسی نے ایساایثاربھی کیاتھا۔علی گیلانی بوڑھاہوگیااور اس کے سینے پردشمنوں سے زیادہ دوستوں کے لگائے زخم ہیں لیکن وہ آج بھی سروقامت کھڑاہے۔
کسی ایک آدمی کاکیاذکر،ہرقریہ میں ایک قبرستان ہے اورہرقبرمیں ایک شہیدسورہاہے۔کسی دلہن کادولہا، بہنوں کابھائی،کسی یتیم کے ننگے سرپرشفقت بھراہاتھ، انار،انگور،آلوچے اورخوبانی کے باغ اجڑ گئے، ندیاں، جھیلیں اورسبزہ زاراپنے بانسری بجانے والے کیلئے اداس ہیں لیکن آنسوؤں کے خزانے اب بھی باقی ہیں اورعزائم اب بھی شمشیروں کی طرح تابعدار ہیں‘کئی برس پہلے مقبوضہ کشمیر کے ایک گمنام سے گاؤں سے ایک گمنام شہید کاجنازہ اٹھا۔کون اس کیلئے نغمہ لکھتا،بستی کی عورتیں اس شب ایک گھرکے دالان میں جمع ہوئیں اورمل جل کرانہوں نے مرثیہ کہا:
غم نہ کرکہ تیری کوئی بہن اورکوئی بھائی یہاں نہیں 
دیکھ، سراٹھا کر دیکھ، ہم تیرے بہن بھائی ہیں
دیکھ سب چہرے مرجھا گئے،دیکھ سب دروبام خاموش ہیں           
تابہ ابد توہمارے خوابوں میں جئے گا
انہیں گمنام شہیدوں نے کشمیرکے ہرگائوں اور شہرکواپنی یادوں اوروفاں سے معمورقبرستان آباد کر کے  یہ پیغام دیاکہ گواہ رہناکہ ہم توتمہاری حرمت پرکٹ گئے۔پچھلے72سالوں کاسچ تویہ ہے کہ صدیوں پرپھیلی داستان،لاکھوں شہید،لاکھوں سر بکف ،ہزارمشعلیں اور حدِنظرتک چراغاں،ناصحو، پندگرد، راہ گزرتودیکھو، صد یو ں  پرانی کسی گمنام،گمشدہ محبت پہ سوگوار ہوجانے والے یہ توکہیں کہ کیااس داستان کوبھلایاجاسکتاہے،کس طرح بھلایاجائے؟
بھوک کے خوف سے آد می گرتاہے اورکبھی زندگی پرجاگرتاہے۔عرصہ گہہ امتحان میں یقین اورایمان سے محروم قومیں بھی گاہے گرپڑتی ہیں تب وہ گردبن کے اڑجاتی ہیں۔وقت کاروندتاہوااورپامال کرتاہوا لشکر ایک گہراپرملال سناٹااوراگلے زمانوں میں چند آنسو ، بیمار اوربے ہمت قوموں کااس کے سوا کوئی انجام نہیں۔  پھرکیاہم انہیں بھلادیں،جنہوں نے پچھلے 72 برسوں سے ظالم اورمکاربنئے کواپنے سینے کی دیوار پر روک رکھاہے،کیا ان سے بے وفائی کی جائے اورانہیں بیچ دیاجائے،ایک لقمہ ترکے عوض انہیں بیچ دیاجائے، کیاکبھی کسی نے اپنااثاثہ یوں بھی بربادکیا ہوگا،اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتاہے؟