07:38 am
عمران خان جنرل اسمبلی میں کنٹرول لائن توڑنے کا اعلان کریں گے!

عمران خان جنرل اسمبلی میں کنٹرول لائن توڑنے کا اعلان کریں گے!

07:38 am

٭وزیراعظم عمران خان جنرل اسمبلی میں کشمیر کی کنٹرول لائن توڑنے کا اعلان کریں گے: ذرائعO ’’جنرل اسمبلی سے واپسی پر کنٹرول لائن توڑنے کی تاریخ دوں گا‘‘ مظفرآباد میں تقریرO خالصتان کا پاسپورٹ، کرنسی جاری O بھارت: معیشت کی بدحالی، جی ڈی پی (قومی پیداوار)7.5 فیصد سے گر کر 5 فیصد، آئی ایم ایف کا نوٹسO بھارتی ایئرفورس پاکستان کی سرحدوں پر نئی میزائل بردار فورس، 54 ارب روپے کے اخراجاتO ’’نیا بنگلہ دیش بن سکتا ہے‘‘ سعید غنی وزیراطلاعات سندھO اسلام پر فضل الرحمان کی لشکر کشی،20 کروڑ خرچ ہونگے، ہر رکن کے ذمے 100 روپے…O سندھ میں کوئی مداخلت نہیں ہو گی، شاہ محمود قریشی… مقبوضہ کشمیر کرفیو: سعودی عرب سے واپس آنے والے 10800 حاجی ایئرپورٹ پر پھنس گئے، شدید ردعمل۔
 
٭وزیراعظم عمران خان نے مظفر آباد کے بڑے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں نوجوانوں سے کہا ہے کہ ابھی کنٹرول لائن کو توڑنے کے لئے نہیں جانا، میں اقوام متحدہ سے واپس آ کر کنٹرول لائن توڑنے کی تاریخ دوں گا۔ آج تک پاکستان کے کسی حکمران نے اتنے دبنگ لہجے میں بھارت کو چیلنج نہیں کیا۔ عمران خان نے جس طرح دو ٹوک واضح الفاظ میں بھارتی وزیراعظم کو کھری کھری سنائیں اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،اس سے بھارتی حلقوں میںکھلبلی مچی ہوئی ہے۔ ایک سرکاری ذریعے کے مطابق وزیراعظم پاکستان 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دوسری باتوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے نظر بند لاکھوں عوام کو کرفیو سے آزاد کرانے کے لئے کنٹرول لائن توڑنے کا بھی اعلان کریں گے۔ ایسا اعلان بھارت کے لئے بم کا دھماکہ ہو گا۔ اُسے کبھی اس طرح نہیں للکارا گیا۔ عمران خان 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے وہ سات دن پہلے 21 ستمبر کو امریکہ جا رہے ہیں، جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے دو ملاقاتیں ہوں گی۔ وہ مختلف امریکی رہنمائوں کے علاوہ پاکستانی باشندوںکے اجتماعات سے بھی خطاب کریں گے۔ 28 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم کی تقریر ہو گی۔ ظاہر ہے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا جائے گا۔
٭مظفر آباد میں وزیراعظم عمران خان کے جلسے کی کچھ باتیں: جلسے سے عمران خان نے صرف10 منٹ خطاب کیا۔ تفصیل دوسرے صفحات میں موجود ہے۔ ان کے علاوہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، وزیر امور کشمیر گنڈا پور اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کیا۔ شیخ رشید نے سٹیج پر تین بار اٹھ کر حاضرین سے اپنے حق میں نعرے لگوائے۔ وہ بار بار مائیک کی طرف دیکھتے رہے کہ انہیں بھی تقریر کے لئے بلایا جائے مگر شائد اس لئے نہیں بلایا گیا کہ یہ بہت سنجیدہ تقریب تھی! فردوس عاشق اعوان بھی تقریر کے لئے منتظر دیکھتی رہ گئیں! شاہ محمود قریشی اور فاروق حیدر کی تقریریں بہت پرجوش تھیں۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ بھارتی میڈیا نے اس جلسے پر خاص توجہ نہیں دی۔
٭آئی ایم ایف نے بھارت کو انتباہ کیا ہے کہ اس کی معیشت بری طرح حد تک زوال پذیر ہے۔ اس کا جی ڈی پی 7.5 فیصد سے گر کر 5 فیصد کی خطرناک سطح تک آ گیا ہے۔ بھارت میں کاریں بنانے کی فیکٹریوں نے پیداوار 50 فیصد تک کم کر دی ان کے گوداموں میں ہزاروں تیارشدہ گاڑیاں پڑی ہیں مگر قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ خریدار نہیں مل رہے۔ گاڑیوں کی پیداوار رک جانے سے ہزاروں شو روم بند ہو گئے اور ان کے اور ورکشاپوں کے لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی ہزاروں فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ خود بھارتی ذرائع کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 50لاکھ مزید افراد بے روزگار ہو گئے ہیں جب کہ کروڑوں بے روزگار افراد پہلے ہی بے روزگار بیٹھے ہیں۔
٭خبر: ڈاکٹرطاہر القادری نے سیاست سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اپنی سیاسی پارٹی ’’عوامی تحریک‘‘ سے بھی ریٹائرہو گئے۔ پارٹی بدستور قائم رہے گی، اس کی قیادت سپریم کونسل سنبھالے گی ڈاکٹر صاحب کے بڑے بیٹے اس کے چیئرمین ہیں۔ یوں پارٹی بدستور گھر میں ہی رہے گی۔ ڈاکٹر صاحب جیّد عالم دین ہیں۔ مختلف موضوعات پر 1200 سے زیادہ اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔ اہم علمی و دینی موضوعات پر بہت عالمانہ گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے قائم کردہ ادارہ منہاج القرآن کے زیرانتظام ملک بھر میں ایک یونیورسٹی اور متعدد کالج و سکول چل رہے ہیں۔ اس ادارے کے تحت دنیا بھر میں ان کے علمی، دینی و فلاحی ادارے موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ماضی میں عوامی تحریک کے زیر اہتمام قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے مگر وہاں کا غیرسنجیدہ، غیر علمی اور غیر فلاحی ماحول پسند نہ آیا جلد ہی مستعفی ہو گئے اور آئندہ کے لئے انتخابی سیاست کو مسترد کر دیا۔ مجھے ان کی سیاست کے انداز سے اختلاف رہا ہے مگر ان کی علمی و دینی بصیرت اور خدمات کا ہمیشہ اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے سیاست سے ریٹائر ہونے کی وجہ بتائی ہے کہ وہ صحت کے مسائل کے علاوہ خود کو ہمہ وقت علمی مصروفیات کے لئے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ میں ان کی مکمل صحت اور ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کی کامیابی کے لئے دُعا گو ہوں۔
٭مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باعث سعودی عرب سے واپس آنے والے 10800 حاجیوں کی واپسی ریاستی حکومت کے لئے مسئلہ بن گئی ہے۔ یہ لوگ جولائی کی ابتدا میں حج کے لئے گئے تھے، اس وقت کرفیو کی پابندی نہیں تھی۔ اب حکومت کے لئے انہیں ہوائی اڈے سے گھروں تک پہنچانا گمبھیر مسئلہ بن گیا ہے۔ سرکاری طور پر کچھ بسیں فراہم کی گئی ہیں مگر مسئلہ حل نہیں ہوا۔ یہ لوگ کرفیو وغیرہ کے بارے میں بھارتی حکومت کے خلاف بہت سخت باتیں کر رہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ لوگ بھارت کے خلاف ابل رہے تھے!
٭وزیراعلیٰ پنجاب اکثر صبح ناشتہ کے ساتھ افسر شاہی میں بے تحاشا اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہیں۔ اس دفعہ انہوں نے یہ کام شام کی چائے کے ساتھ کیا ہے۔ پہلے اپنی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل اور مشیر عون چودھری کو فارغ کیا پھر افسر شاہی کی اِدھر کی فوج اُدھر، اُدھر کی اِدھر کا مشغلہ شروع ہو گیا۔ 5 سیکرٹری اور راولپنڈی اور فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر تبدیل کر دیئے۔ انگریزوں نے ڈپٹی کمشنروں اور پولیس حکام کے لئے کم از کم تین سال ایک جگہ کام کرنے کا نظام قائم کیا تھا، تا کہ یہ افسر لوگ اطمینان کے ساتھ جَم کر کام کر سکیں اور افسر شاہی پر ان کا اور حکومت کا رعب داب قائم رہے مگر موجودہ حکومت نے مسلسل تبادلوں کو تماشا بنا دیا ہے۔ آٹھ ماہ کے اندر سیکرٹری اطلاعات کے عہدہ پر چار افسر تبدیل کئے گئے۔ یہی حال آئی جی پولیس کے عہدہ کا ہے۔ خبر ہے کہ چوتھا آئی جی بھی تبدیل ہونے والا ہے۔ اہم بات کہ صوبائی ترجمان شہباز گل اور عون چودھری دونوں وزیراعظم کے بہت قریبی چہیتے ہیں۔ ان کے لئے وفاق میں بڑے عہدے نہ مل سکے تو پنجاب میںبھیج دیئے گئے۔ دونوں نے وزیراعلیٰ کے اختیارات خود سنبھال لئے۔ افسروںکے تبادلے، تھانوں پر چھاپوں وغیرہ کی ہدایات دینے لگے۔ وزیراعلیٰ کچھ عرصہ تو خاموش رہے پھر وزیراعظم سے شکائت کر دی۔ اور ان دونوں کو اسلام آباد جانا پڑا۔ وزیراعلیٰ کا افسروں کو تبدیل کرنے کا شوق تو پورا ہو جاتا ہے مگر ایک سال میں اعلیٰ عہدوں پر چار چار بار تبدیلیوں سے ریاستی نظام جس طرح منجمد ہو جاتا ہے اس کی ایک مثال خود وفاقی نظام میں بھی موجود ہے جہاں 17 وزارتوں اور محکموں میں اعلیٰ عہدیدار موجود نہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں بہت سے سینئر و جونیئر افسروں کی ترقیاں کئی ماہ سے رُکی پڑی ہیں۔ جو کچھ پنجاب میں ہو رہا ہے وہی وفاق میں بھی! جس افسر کو اپنے عہدہ کی مضبوطی کا یقین نہ ہو وہ کیا کام کرے گا! اب تک سینکڑوں بڑے عہدیداروں کے دوردراز علاقوں میں تبادلوں پر کروڑوں روپے ضائع ہو چکے ہیں، مگر تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے! کیا تبصرہ کیا جائے؟
٭ایک خبر: مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کراچی سے شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مارچ کے لئے 20 کروڑ روپے کے اخراجات کا اندازہ لگایا گیا، اس کے لئے جے یو آئی کے ہر رکن پر سے 100 روپے فیس وصول کی جائے گی۔