06:24 am
سورئہ جمعہ کی آیات کا مطالعہ

سورئہ جمعہ کی آیات کا مطالعہ

06:24 am

ان کا اتفاق کبھی نہیں ہو سکا جو کچھ سوچ بچار کر کے لکھتے ہیں تو اس میں بھی کہتے ہیں کہ ہمارا گمان
(گزشتہ سے پیوستہ)
ان کا اتفاق کبھی نہیں ہو سکا جو کچھ سوچ بچار کر کے لکھتے ہیں تو اس میں بھی کہتے ہیں کہ ہمارا گمان یہ ہے کہ ایسا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا ہے۔ کوئی کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ اصل بات ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔کسی نہ کسی اندازسے ہر فلسفی کو آنے والے فلسفی نے رد کیا ہے۔ اگرچہ ابدی حقائق کا اجمالی علم ہماری فطرت کے اندر رکھا گیا ہے لیکن ہم اپنے حواس اور عقل کی بنیاد پر وہاں تک پہنچ نہیں سکتے۔ 
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے!
ابدی حقائق کا علم کہاں سے آئے گا؟ بنی وہ حقائق کا علم لے کر آتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ ایک اللہ ہے،اسی کا حکم چل رہا ہے۔ کُل اختیار کا مالک وہ ہے۔ تمام اچھے نام اس کے ہیں۔کائنات میں جو خیر و خوبی، بھلائی ہے، حسن ہے سب کا سر چشمہ وہی ایک ذات ہے۔ مشکل کشا وہی ہے، حاجت روا وہی ہے، وہی اس کائنات، دنیا اور اس عالم کا بھی مالک ہے اور جو عالم آخرت ہے اس کا مالک بھی وہی ہو گا۔اس نے انسان کو اس دنیا میں ایک خاص مقصد کے تحت بھیجا ہے۔ یہ دنیا تمہارے لئے ہمیشہ کی منزل نہیں ہے۔ دنیا تو ایک عارضی مستقر ہے۔ بہت ہی عارضی سی مہلت عمر ہے جو اس دنیا میں گزارنی ہے۔ ’’ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے‘‘ لیکن موت پر حیات کا خاتمہ نہیں ہو جائے گا وہ تو ایک صورت سے دوسرے جہان میں منتقلی کا نام ہے۔ اب عالم برزخ میں شفٹ ہو گئے ہو پھر اٹھا کھڑے کر دیے جائو گے، وہ اصل زندگی ہے ’’اور (ہمیشہ کی) زندگی(کا مقام) تو آخرت کا گھرہے‘‘۔ یہ ہیں کائنات کے ابدی حقائق جس کو ہم ایمان کہتے ہیں۔
  قرآن واقعتاً حقائق کو بیان کرتا ہے کہ دنیا میں تمہاری حیثیت کیا ہے، تمہاری منزل کون سی ہے اور اس منزل کے حوالے سے صحیح راستہ کون سا ہے۔ اگر اس صحیح راستے کو اختیار نہ کیا تو پھر جو بھیانک انجام ہے وہ ابھی سے سن لو۔ دنیا میں اللہ نے چھوٹ دے دی ہے۔ ’’(اب وہ) خواہ وہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا۔‘‘دنیادار الامتحان ہے، اللہ کسی پر جبر نہیں کرتا۔ ایک راستہ وہ ہے جو نبی اور رسول دکھا رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس جو راستے ہیں وہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ اب تم طے کر لو کہ کس راستے پر چلنا ہے۔ اللہ اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا، تمہیں موقع دے گا لیکن سن لو شیطان کی پیروی کا انجام کیا ہونا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح تم روزانہ سو جاتے ہو اسی طرح ایک روز موت کی نیند سو جائو گے اور جیسے روزانہ صبح اُٹھتے ہو اسی طرح ایک دن میدان حشر میں تمہاری آنکھ کھلے گی، یہ ہو کر رہے گا لیکن اس کے بارے میں کوئی سوچنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ اس سے ہمارے عیش و آرام میں خلل واقع ہو گا ’’مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خودسری کرتا جائے‘‘۔ انسان چاہتا ہے کہ گناہوں میں آگے بڑھتا رہے۔ لہٰذا آخرت کا انکار کرنا بہتر سمجھتا ہے ورنہ پھر قدم قدم پر دیکھنا پڑے گا کہ یہ چیز اللہ کو پسند ہے کہ نہیں۔ یہ جو میں کام کر رہا ہوں یہ جہنم میں لے جانے والا ہے یا اللہ کو راضی کرنے والا راستہ ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آخرت کو بھول جائو    بہر حال تربیت کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اندر کی دنیا میں انقلاب برپا کرنا ہے اور اس کا ذریعہ آیات قرآنی ہیں۔ سوچ کی درستگی، قبلہ کی درستگی آیات کے ذریعے ہی ہو گی۔ 
  جب قرآن  اندر سرایت کر جاتا ہے تو یہ کیفیت لازماً پیدا ہو جاتی ہے۔ آنحضور ﷺ نے یہ کام آیات قرآنی کے ذریعے کیا۔ آپؐ کے مواعظ بہت کم ملتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے کوئی لمبی تقریر کی ہو کوئی خطبہ دیا ہو، اگر ہیں بھی تو بہت مختصر۔ جہاں بھی آپؐ ایمان کی دعوت دیتے تھے آیات قرآنی ہی پیش کرتے تھے۔ اس سے زیادہ موثر اور کیا ہو سکتا ہے ۔
اس کے بعد نبی اکرمﷺ نے اپنی جماعت کا تزکیہ فرمایا۔ پہلے تلاوت آیات سے سوچ بدلی، پھر ان کا تزکیہ فرمایا۔ تزکیہ کیا ہے؟ دراصل انسان کے اندر ایک طرف حیوانی خواہشات رکھ دی گئی ہیں اور دوسری طرف اس کے اندر ایک ملکوتی عنصر ہے۔ اسی انسان کے اندر لالچ، طمع، حُب دنیا، حُب مال بھی ہے۔ انتقام اور غصہ بھی ہے۔ یہ ساری چیزیں نفس کی کمزوریاں ہیں۔ اگر ان کمزوریوں پر قابو نہ پایا جائے تو ہدایت اگر آ بھی گئی تو انسان کے لئے صراط مستقیم پر چلنا بڑا مشکل ہے۔ یہ کمزوریاں قدم قدم پر پائوں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ تزکیہ اس لئے ضروری ہے تاکہ اندر سے باطن ان کمزوریوں سے پاک ہو جائے’’اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا‘‘۔ انسان کی خلقت میں کچھ کمزوریاں بھی ہیں۔ یہ بشر ہے،اس کے اندر حدود کو پھلانگنے کا معاملہ ہے۔ دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کا معاملہ ہے۔ یہ انسان کی طبیعت کا حصہ ہے’’وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے‘‘ لہٰذا تزکیہ کرنا پڑے گا۔ باطن کو ان خرابیوں سے پاک کرنا پڑے گا۔ آنحضور ﷺ کا دوسرا کام یہ تھا کہ تزکیہ کے ذریعے باطن کی صفائی فرماتے تھے۔ زکوٰۃ کیا ہے؟ ہمارے اندر جو کمزوریاں ہیں ان میں ایک کمزوری مال کی محبت ہے۔ زیادہ سے زیادہ مال مل جائے۔ لفظ زکوٰۃ کا مفہوم پاکیزگی ہے۔ پاک کس کو کرنا ہے۔ اندر جو مال کی محبت رچی بسی ہوئی ہے، اس کو پاک کرنے کا ذریعہ یہ زکوٰۃ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو، اپنے مال میں سے ایک حصہ نکالو تاکہ مال کی محبت جو رچی بسی ہوئی ہے یہ اندر سے اکھڑنا شروع ہو۔ اگر نفاق کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے یعنی اسلام تو لے آئے ہیں نہ نماز میں دل لگتا ہے نہ دل کرتا ہے کہ دین کے کام کریں۔ دنیا کی محبت بڑھتی جا رہی ہے تو علاج بھی یہی بتایا گیا کہ انفاق کرو۔ زیادہ سے زیادہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اس سے باطن کی صفائی ہو گی۔ نفاق بھی اس سے دور ہو گا۔ اسی طرح قرآن مجید کی آیات بھی انسان کا تزکیہ کرتی ہیں۔ ان میں وہ تاثیر ہے فرمایا ’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس وہ چیز جو تمہارے رب کی جانب سے تمہارے لئے موعظت و نصیحت ہے اور یہ جو کتاب اللہ نے اتاری ہے اس کی آیات سینوں کے امراض کی دوا بھی ہے‘‘۔ تزکیہ کیوں ضروری ہے؟ انقلابی جماعت اگر اس کے بغیر ہو گی تو جیسا کہ سورہ محمد کی ایک آیت کا مفہوم ہے’’ اے مسلمانو، ابھی اللہ نے تمہیں فتح اس لئے بھی نہیں دی کہ تمہارے اندر کچے پکے لوگ بھی ہیں۔ اگر ان کو اقتدار مل جاتا تو وہ زمین میں اور فساد مچاتے‘‘ ۔ جن کا تزکیہ نہ ہوا ہو، اگر ان کو اقتدار مل جائے تو وہ دین کے نام پر بھی فساد کریں گے۔ اس لئے تزکیہ کی بڑی اہمیت ہے۔