06:25 am
تھکے کندھے اور عمران حکومت۔۔۱

تھکے کندھے اور عمران حکومت۔۔۱

06:25 am

جب آدمی اپنی انا کا اسیر ہو جائے تو عقل محوِ تماشائے لبِ بام کھڑی رہ جاتی ہے،اس دوران فیصلوں کی قوت بھی اپنے ک
   جب آدمی اپنی انا کا اسیر ہو جائے تو عقل محوِ تماشائے لبِ بام کھڑی رہ جاتی ہے،اس دوران فیصلوں کی قوت بھی اپنے کرتب دکھانے پر تُل جاتی ہے ،زبان لڑکھڑانے کے عمل سے دو چار ہونے لگتی ہے ،افسوسناک امر یہ کہ بین السطور بھی معذرت کی توفیق نہیں رہتی کہ قوم اسے غلطی سمجھ کر درگزر کر لے۔یوں یہ تاثر راسخ ہو جا تا ہے کہ بات بھول چوک کر نہیں جان بوجھ کر کی گئی ہے کہ اپنے وفادار ہونے کا ثبوت زنبیل میں محفوظ رہے اور وقت پر کام آئے،اسی کو سیاسی شعبدہ بازی  اور کامیاب ڈپلو میسی کہتے ہیں۔خارجہ پالیسی کا یہ تُرپ پتہ ہوتا ہے جو کامرانی کی ضمانت کا راز اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے ۔
مخدوم شاہ محمود قریشی شہرِ اولیاء کی شان ہیں۔ میں بھی ان کا قدر دان ہوں،کبھی کبھی سخن گستری میں قلم سے ایسے الفاظ نکل جائیں جو ان کی شایانِ شان نہ ہوں تو پی ٹی آئی کے ممبر پنجاب اسمبلی برادرم ندیم قریشی اور مخدوم صاحب کے مصاحبِ خاص ،دست راست خان بیگ لودھرا فوراََ تنبیہ کے پیغام بھیج دیتے ہیں ۔
جنیوا میں وزیر خارجہ کی زبان کا لڑکھڑانا گو محلِ نظر ٹھہرا ،مگر یہ عمران حکومت کی مفاہمتی پالیسی کا شاخسانہ ہے۔گو وزیر اعظم عمران خان مظلوموں کادکھ بانٹ آئے ہیں ،ان کے زخموں پر اپنی محبت کے پھاہے بھی رکھ آئے ہیں۔کاش کچھ وقت کو ان مقہوروں کے زخم سو جائیں ،ان کے درد میں افاقہ ہوا ہو ،مگر بات وہیں کھڑی ہے ،انڈیا اپنی ضد پر قائم،ٹرمپ اپنے دعوے پر کہ ثالثی کا عمل جاری ہے۔
                    کون  جیتا  ہے  تری  زلف  کے  سر  ہو  نے  تک
’’ بھارتی ریاست جموں کشمیر‘‘ انڈیا کا دیرینہ خواب تھا ،شکر ہے کہ اس کی تعبیر اس نے میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں نہیں حاصل کی جن پر ’’مودی کا جو یار ہے ،وہ قوم کا غدار ہے‘‘کی پھبتی کپتان شدومد سے کسا کرتے تھے۔کرنا خدا کا دیکھئے کہ ان کی اپنی ٹیم کے کھلاڑی نے ان کا راز طشت از بام کردیا ۔ اگر یہ تسلیم ورضا کی غلطی بھی تھی تو انڈیا بہیمیت میں  کچھ کمی لے آتا ،مگر یہ تو قرآنِ کریم کا فیصلہ ہے کہ’’ کافر کسی طور مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا‘‘ اب تو ہم عالم کفر سے کیا،عالمِ اسلام سے بھی گلہ نہیں کر سکتے کہ 
اپنے  لہو  کی  آگ  ہمیں  چاٹتی  رہی
 اپنے بدن  کا  زہر تھا ،ساغر میں کچھ نہ  تھا
عالمِ اسلام کی طرف سے جو گزری کمال گزری ہے ،بہر حال بیرونِ دنیا جو ہو رہا ہے ،وہ سب پر عیاں ہے۔اصل یہ کہ اندرون حالات پی ٹی آئی کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں ۔ یقینا اس کی وجہ عمران خان خود نہیں ،مگر ان کی طرف سے گہری اور ظالم سی خاموشی ،بلکہ بے اعتنائی ان کے سزاوار ہونے کے علامت ہے۔ ان کے تھکے ہوئے کندھے اب مزید حکومت کا بوجھ اٹھانے سے معذور لگتے ہیں۔ ،وزیر اعظم عمران خان جو نہیں کہہ سکتے ،اب فوج کے ترجمان ،وہ کہنے ہی نہیں کرنے پر بھی مصر دکھائی دیتے ہیں ۔
شہر کے بڑے بڑے چوک، چوراہوں پر ایستادہ بہت بڑے بڑے بورڈ جن پر جنرل ایوب خان،ضیاء الحق،جنرل قمر باجوہ ،جنرل  آصف غفور ،عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تصاویر نمایاں ہیں اور نیچے پی ٹی آئی کے عہدیداروں کی تصویریں یہ کس امر کی طرف اشارہ ہے!انہیں دیکھ کر اندر تو لرزتا ہی ہے ،واہمے،وسوسے اور مخمصے ،رگِ جاں میں گردش تو کرتے ہیں ،دل و دماغ میں ہول تو اٹھتے ہیں ۔اس قوم کی تقدیر ساری عمر تنکے چننا ہے ،سیاستدانوں اور اوپر والوں کاکام جمہوریت کے نشیمن کو آگ لگانا ہے!
اگر یہی کھیل ہی قوم کا مقدر ٹھہرا تو اربوں کھربوں روپے الیکشن پر کیوں لٹائے جاتے ہیں ،بادشاہت قائم کر کے یہی رقم بہبود آبادی پر خرچ کریں ،جو باقی بچے وہ اوپر والوں کے چڑھاوئوں کی نذر کریں ۔جمہور یت کا ناٹک کس لئے ،جو ناں سیاستدانوں اور ناں ہی عوام کو راس ہے۔ اوپر والے تو اول دن سے اس نظام کی بیخ کنی پر تلے رہے ہیں ،اب کپتان کی صورت پہلا جمہوریت پسند انہیں ملا ہے جو کہ ان کی مان کر چلنے والا ہے ،سول اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا بھی تارا ہے اوران  کا تو راج دلارا ہے ہی ۔وزیر اعظم عمران خان نے سچ کا کڑوہ گھونٹ جو حلق میں اتارا ہے۔ قوم کے سامنے اس کا اعتراف کرلینا چاہئے کیونکہ قوم بھی روز روز کے اس کھیل سے تنگ آچکی ہے اور جاں بخشی کی خواہاں ہے۔
میاں نواز شریف اور زرداری  کی ضرورت مٹتی جا رہی ہے ،مولانا نہ تین میں نہ تیرہ میں۔  نادارو ناتواں ممولوں کو بازوں سے لڑانے کے درپے ہیں حالانکہ یہ کام بھی اب سہل نہیں رہا۔ اس عہد کے سارے بچے اب چالاک ہو چکے ہیں۔ ،وہ مولانا کے لاڈ اٹھانے کے کئے اب چاند لانے سے رہے اور ناں ہی مولانا کی کھیلنے کی عمر رہی ہے۔پی ٹی آئی والوں نے انہیں گھر کی پچ پر آئوٹ کردیا۔ اگر موصوف اوپر والوں سے جوڑ توڑ کے زعم میں مبتلا ہیں تو سن لیں اب کوئی پرویز مشرف مسیحا بن کر آنے والا نہیں ،جو کسی صوبے ہی کی عنانِ اقتدار انہیں سونپنے پر راضی ہو۔۔!