06:26 am
نظریہ پاکستان کا دشمن مودی مائنڈ سیٹ

نظریہ پاکستان کا دشمن مودی مائنڈ سیٹ

06:26 am

بدنام زمانہ قاتل اور دہشت گرد نریندر مودی نے نائن الیون کے اٹھارہ سال مکمل ہونے پر ایک بیان
بدنام زمانہ قاتل اور دہشت گرد نریندر مودی نے نائن الیون کے اٹھارہ سال مکمل ہونے پر ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کی اصل وجہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ ہے۔ قارئین اگر اپنے دماغ پر زور دیں تو انہیں مودی کا یہ بیانیہ کچھ سنا سنا سا لگے گا؟ کچھ یاد آیا کہ نہیں؟ چلیں ہم یاد کروا دیتے ہیں،  بدقسمتی سے پاکستان میں بھی دانش فروشوں کا ایک مخصوص گروہ عرصہ دراز سے ’’نظریہ پاکستان‘‘   کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ’’نظریہ پاکستان ‘‘ کو نشانہ بنانے والے مخصوص ا ینکرز ، ا  ینکرنیوں اور قلم فروشوں کو نہ صرف ٹی وی چینلز کی بھرپور سپورٹ حاصل رہی بلکہ دہلی کے ساتھ ساتھ پاکستانی اقتدار کی راہداریوں تک انہیں رسائی کی یکساں سہولیات بھی حاصل رہیں۔
اسلام آباد میں بیٹھ کر دہلی کے راتب خور ’’نظریہ پاکستان‘‘ کو نشانہ بناکر قائداعظم محمد علی جناحؒ اور لاکھوں شہداء پاکستان کی بے مثال قربانیوں کا مذاق اڑاتے رہے اور یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ اس مضحکہ خیز بیانئے کو مدرسہ بھگوڑے غامدی دستر خوانی قبیلے کے بعض وابستگان نعوذ باللہ قرآن و حدیث کا تڑکا لگانے کی کوششوں میں ہلکان ہو رہے ہیں، وہ جو کہا کرتے تھے کہ نظریہ پاکستان سمندر برد ہوچکا ہے، وہ دیکھ لیں اور کان رکھتے ہیں تو سماعت بھی فرمالیں کہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔
اسلام آباد میں بیٹھا ہوا این جی او مارکہ ایک ’’مولوی زادہ‘‘ تو سیکولر ازم اور لبرل ازم کو نعوذ باللہ مقدس ترین کتاب قرآن مجید کی طرف بڑی ڈھٹائی کے ساتھ منسوب کرتا ہے۔ اس سیکولر ازم کو کہ جس سیکولر ازم کا نشانہ صرف بھارت میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمان ہی نہیں بلکہ سکھ، دلت اور عیسائی بھی ہیں۔ جس سیکولر ازم کی جہنمی کوکھ سے بھارت کا شدت پسندانہ خونی چہرہ برآمد ہوا، جو سیکولر ازم مقبوضہ کشمیر کے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو نگل گیا، جس سیکولر ازم نے دس ہزار سے زائد کشمیری عفت مآب خواتین کی عصمتوں کو تار تار کیا،  جس سیکولر ازم نے بے حیائی، فحاشی اور عریانی کے سمندر میں انسانوں کو ڈبونے کی کوشش کی ، جس سیکولر ازم نے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی آنکھوں سے حیاء ختم کر دیا، جس سیکولر ازم نے بیٹی کو باپ کے مقابلے میں لاکھڑا کیا، جس  سیکولر پن نے بھارتی فوجی کو مظلوم کشمیری نوجوانوں جیپوں کے پیچھے باندھ کر انہیں زندہ گھسیٹنے پر مجبور کیا، امریکی ، غامدی دستر خوان کا راتب خور یہ مولوی زادہ اس ’’سیکولر ازم‘‘ کے حوالے سے یہ کہتا ہے کہ ’’ہم تو الحمد للہ پاکستان  میں قرآن و سنت کی روشنی میں سیکولر نظام کے حامی ہیں‘‘ روشنی قرآن و سنت کی اور نظام ’’سیکولر‘‘ روشنی قرآن و سنت کی اور ریاست ’’سیکولر‘‘، انا للہ و انا الیہ راجعون، حالانکہ  دنیا جانتی ہے کہ بھارت ایک سیکولر ریاست ہے اور الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سیکولر ریاست کے فوجی  مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو محض تفریح کی خاطر  اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں، بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور اس سیکولر ملک کی فوج نے42 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگاکر وہاں ایک کروڑ سے زائد انسانوں کو بھوکا پیاسا مارنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ غامدی ستر خوان کے راتب خوروں کے نزدیک دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ کہلانا تو فرقہ واریت ہے لیکن  ’’سیکولر‘‘ اور ’’لبرل‘‘ بننا قرآن و سنت کی روشنی کے عین مطابق ہے، وہ کسی اللہ والے نے سچ فرمایا تھا کہ جہالت کسی کی میراث نہیں ہے،کوئی کہیں پر بھی بیٹھا ہوا شخص جاہل ہوسکتا ہے۔
ہم پاکستانیوں کو اس بات پر فخر ہے کہ  ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں میں بے پناہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں  مگر سیکولر بھارتی ریاست کی طرح یہاں کوئی ’’مودی‘‘ اقتدار میں نہیں آسکتا۔
مودی مائنڈ سیٹ ہے کیا؟ مودی مائنڈ سیٹ دراصل شکل انسانی میں حیوانیت اور شیطانیت کا نام ہے، مودی مائنڈ سیٹ انسانیت دشمنی کا دوسرا نا م ہے، مودی مائنڈ سیٹ انسانیت کی رسوائی کی انتہا کا نام ہے۔ مودی مائنڈ سیٹ انسانیت کی تذلیل کا نام ہے، جو ریاست71 سال سے سیکولر ہونے کی دعویدار ہو، اگر اس ریاست کا سیکولر نظام جدید دور میں نریندر مودی جیسے بدنام، شیطان اور خونخوار وزیراعظم کو جنم دیتا ہے تو عقلمندوں کے لئے یہ ثبوت کافی ہے کہ سیکولر لادینیت دراصل ’’شیطانیت‘‘ کی ہی جدید شکل ہے۔
وزیراعظم عمران خا ن نریندر مودی کو بار بار ’’ہٹلر‘‘ کہتے ہیں یہ ہٹلر کون تھا؟ کس مدرسے کا فارغ التحصیل تھا؟ کوئی بگڑا ہوا ’’مولوی زادہ‘‘ اس پر روشنی ڈالنا چاہے تو ضرور ڈالے، نظریہ پاکستان، مودی مائنڈسیٹ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ’’پاکستان‘‘ سے پہلے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کا لفظ مودی مائنڈ سیٹ کے حاملین کے لئے سوہان روح ہے۔
پاکستان کے آئین میں موجود اسلامی شقیں مودی مائند سیٹ کے دلوں کا روگ ہے۔ قادیانیوں کو دجال اور غیر مسلم اقلیت قرار دینا مودی مائنڈ سیٹ کی موت ہے، نصاب تعلیم سے صحابہ کرامؓ کے واقعات کو نکالنا، نصاب تعلیم سے مسلمان فاتحین، حضرت محمد بن قاسمؒ ، حضرت طارق بن زیادؒ، سلطان محمود غزنویؒ ، سلطان شہاب الدین غوری ؒ کے مضامین کو نکالنے کی کوشش کرنا  مودی مائنڈ سیٹ کا حصہ ہے۔ اسلامی شعائر، شرعی  پردے، داڑھی، پگڑی ورغیرہ کا مذاق اڑانا مودی مائنڈ ہے۔
یہ کہنا کہ قیام پاکستان کا بنیادی نعرہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ تو وقتی نعرہ تھا، یہ تو قائداعظم نے صرف لوگوں  کو اکٹھا کرنے کے لئے لگایا تھا۔ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسے واہیات نعرے ہوں یا مسجدوں، مدرسوں اور پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا یہ سب مودی مائنڈسیٹ ہی کے کرشمے ہیں، مودی مائنڈ سیٹ باطل سوچ کا نام ہے، مودی مائنڈ سیٹ ضروری نہیں دہلی میں ہی پایا جائے۔ اس مائنڈ سیٹ والا اسلام آباد میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔ ہمیں نظریہ پاکستان اور اسلام کے مخالف اس مائنڈ سیٹ کا پوری جرات سے مقابلہ کرنا ہے کیوں کہ یہی وقت کی آواز ہے۔