06:26 am
بلیوں کابندرثالث

بلیوں کابندرثالث

06:26 am

فرینک اسٹاکٹن انیسویں صدی کاایک ناکام امریکی افسانہ نویس تھا۔اس کی تمام تصانیف وقت کی گرد
فرینک اسٹاکٹن انیسویں صدی کاایک ناکام امریکی افسانہ نویس تھا۔اس کی تمام تصانیف وقت کی گرد میں کھو گئیں لیکن’’دی لیڈی آر دی ٹائیگر‘‘ اس کی ایسی تخلیق تھی جس نے فرینک اسٹاکٹن کوادب میں ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا۔یہ دنیا کی وہ کہانی ہے جس کے باعث کسی مصنف کو ادب کی تاریخ میں سب سے زیادہ خطوط موصول ہوئے۔جو کروڑوں کی تعداد میں پڑھی اور اس سے کئی گنا زیادہ سنی گئی۔فرینک اسٹاکٹن کی اس کہانی میں کچھ نہیں تھاماسوائے اختتام کے،نقاد کہتے ہیں یہ دنیاکی واحد سٹوری تھی جس کے اختتام نے اسے کلاسیک کا درجہ دیا۔
کسی ملک میں ایک بادشاہ کی حکومت تھی،بادشاہ ایک نیم متمدن،نیم وحشی اور نفسیاتی مریض تھا۔اس نے انصاف کا ایک عجیب طریقہ وضع کیا،وہ ملزم کو ایک اسٹیڈیم میں اتارتا، اسٹیڈیم کے گرد رعایا بیٹھ جاتی اور بادشاہ سامنے چبوترے پر براجمان ہوتا،ملزم کے سامنے دو دروازے ہوتے۔ایک کے پیچھے خونخوار بھوکا شیر ہوتا اور دوسرے دروازے کی اوٹ میں انتہائی حسین و جمیل دوشیزہ۔ملزم کو دونوں دروازوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا۔وہ شیر کا دروازہ کھول دیتا تو شیرباہر آتا اور اسے چیر پھاڑ کر کھا جاتا،اسٹیڈیم میں لوہے کی غمگین گھنٹیا ں بجتیں،کرائے کے نوحہ گر ماتم کرتے ،  تماش بین آرزردہ ہو کر سر جھکا لیتے اور بادشاہ کفِ افسوس ملتا۔اگر خوش قسمتی سے وہ دوسرا دروازہ کھول دیتا تو اسٹیڈیم میں ایک پادری داخل ہوتا، اس کے پیچھے ناچنے اور گانے والوں کی منڈلی ہوتی،پیتل کی گھنٹیاں بجا ئی جاتیں،ساز بجتے اور لوگ ملزم پر پھول برسانے لگتے،پادری اسی وقت ملزم اور اس لڑکی کی شادی کروادیتا۔تماشائی تالیاں پیٹتے نعرے لگاتے،بادشاہ نئے جوڑے کو ہار پہناتا اور وہ عوام کے جلو میں رخصت ہو جاتے۔
شومئی قسمت سے بادشاہ کی اکلوتی بیٹی کسی عام نوجوان پر فدا ہو جاتی ہے،یہ بیٹی بھی اپنے باپ کی طرح نیم متمدن،نیم وحشی اور نفسیاتی مریض ہے۔ بادشاہ کو اس عشق کا علم ہو جاتا ہے ، وہ نوجوان کو گرفتار کرتا ہے اور اسٹیڈیم میں لا کھڑا کرتا ہے۔سامنے دروازوں کے پیچھے سلطنت کا انتہائی خطرناک شیر اور ملک کی سب سے خوبصورت  لڑکی چھپا دی جاتی ہے ۔ اب ذرا منظر دیکھئے،اسٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے،بادشاہ چبوترے پر شہزادی کے ساتھ فروکش ہے،ملزم سامنے کھڑا ہے،اتنی خاموشی ہے کہ دھڑکنیں تک گنی جا سکتی ہیں۔ ملزم دروازہ کھولنے سے پہلے شہزادی کی طرف مڑتا ہے،شہزادی جو رات بھر کی تگ و دو کے بعد معلوم کر چکی ہے کس دروازے کے پیچھے کیا ہے،اس کے چہرے پر کشمکش کا جال بچھا ہے، ملز م حسرت سے اسے دیکھتا ہے،اسی لمحے شہزادی ایک فیصلہ کرتی ہے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنے محبوب کوایک دروازے کی نشاندہی کر دیتی ہے۔ملزم آگے بڑھتا ہے اور دروازہ کھو ل دیتا ہے،کہانی ختم ہو جاتی ہے۔
’’دی لیڈی آر دی ٹائیگر‘‘کے شائع ہونے کی دیر تھی ،پوری دنیا میں شور بپا ہو گیا ،لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے’’ملزم نے کون سا دروازہ کھولا‘‘۔سوال حقیقی تھا کیونکہ کہانی پڑھنے والے شہزادی کی فطرت سے واقف تھے۔وہ ایک نیم متمدن،نیم وحشی اور نفسیاتی مریض لڑکی تھی،اس کے سامنے دو راستے تھے،وہ لڑکی والے دروازے کی نشاندہی کرتی تو اس کا محبوب اس کی نظروں کے سامنے کسی اور کا ہو جاتا،شادیانے بجتے،لڑکیاں ناچتیں،پادری نکاح پڑھاتا اور وہ دونوں بانہوں میں بانہیں ڈال کررخصت ہو جاتے۔ شہزادی حاسد بھی تھی،وحشی بھی اور نفسیاتی  مریض بھی،لہٰذا یہ سب کچھ اسے قبول نہیں تھا۔دوسری صورت میں شیر والے دروازے کی نشاندہی کرتی اور شیر باہر نکل کر اس کے محبوب کو چیر پھاڑ کر اسے کھا جاتا  ،شہزادی کو یہ بھی گوارہ نہیں تھا۔وہ اپنے محبوب سے ٹوٹ کر محبت کرتی تھی،اس کی موت اسے بھی جیتے جی مار دیتی،شہزادی شدید کشمکش میں تھی،وقت بہت کم تھا لہٰذا عین وقت پر اس نے کوئی فیصلہ کیا اور ایک دروازے کی طرف اشارہ کر دیا۔
یہ اشارہ اس وقت بھی معمہ تھا اور آج بھی فرینک اسٹاکٹن کے ہر قاری کے دماغ میں کنکر کی طرح’’رڑکتا ‘‘ ہے۔فرینک اسٹاکٹن نے کہانی کے آخر میں لکھا’’اب میں یہ آپ پر چھوڑتا ہوں اس دروازے سے کیا نکلا،شیر یا لیڈی‘‘۔فرینک اسٹاکٹن کو لاکھوں خطوط ملے،ہزاروں لوگ اس کے دروازے پر آئے،لوگ اسے بس، مارکیٹ، ریستوران میں روک کر پوچھتے ’’دروازے کے پیچھے کیا تھا؟‘‘اور وہ ہنس کر جواب دیتا ’’مجھے معلوم ہوتاتو میں آپ کو ضرور بتاتا،میں تو خود پریشان ہوں شہزادی نے کس دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا۔‘‘لوگ یہ سوال پوری زندگی فرینک اسٹاکٹن سے پوچھتے رہے،فرینک اسٹاکٹن فوت ہو گیاتو ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں لیکن معمہ حل نہیں ہو رہا،شائد یہ کبھی حل نہیں ہوگا کیونکہ یہ محبت اورحسد کی کشمکش ہے جس کا فیصلہ کبھی نہیں ہوتا۔
خدا گواہ ہے کہ میں فرینک اسٹاکٹن نہیں ہوں ،میں محبت سے لبریز شہزادی اور’’لیڈی آر دی ٹائیگر"کا نیم متمدن،نیم وحشی اور نفسیاتی مریض بادشاہ بھی نہیں ہوں،میں ان دو دروازوں کے سامنے کھڑا ملزم بھی نہیں ہوں،میں پادری، شیر کا رنگ ماسٹر اور گھنٹیاں بجانے والا اردلی بھی نہیں ہوں،اس خونی کھیل میں میرا کوئی حصہ نہیں،لہٰذا میں حیران ہوں لوگ پھر مجھ سے یہ کیوں  پوچھتے ہیں’’کشمیرکا کیا بنے گا‘‘؟جس دن ٹرمپ نے عمران کی موجودگی میں مسئلہ کشمیرپرثالثی کی پیشکش کی تھی تومیرا ماتھا تواسی دن ٹھنکا تھاکہ اب بلیوں کے درمیان بندرثالثی کیلئے کودگیاہے،اللہ ہی اب اس خطے پررحم فرمائے تو میرے ناقدین کومیرایہ تبصرہ انتہائی ناگوار گزرالیکن اب کوئی ان سے پوچھے کہ امریکہ اورطالبان کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دورہوئے اوراس تمام عرصے میں  طالبان کے حملے جاری رہے لیکن ٹرمپ نے اب مذاکرات کو فوری طورپرمنسوخ کرنے کااعلان کیوں داغ دیاجبکہ امریکی سیکرٹری خارجہ پومپیواب بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کاعندیہ دے رہے ہیں۔ کیا افغانستان میں اپنے مستقل قیام کیلئے مسئلہ کشمیرکی ثالثی کاجھانسہ دیکرپاکستان کابازومروڑاجارہاہے جبکہ بھارتی ذرائع کے مطابق پومپیوکو فروری میں کشمیرمیں حالیہ اقدام کے متعلق آگاہ کردیاگیاتھا؟
قارئین!اب آپ ہی بتائیں کہ دروازے  کے پیچھے کیا ہے،یہاں سے شیر برآمد ہوگا  یا حسینہ عالم،کیا ہوگا؟میں پریشان ہوں،میں اپنے ان تمام کرم فرماؤں سے درخواست کرتا ہوں آپ مہربانی فرما کر یہ سوال کسی فرینک اسٹاکٹن سے پوچھا کریں،ایسے فرینک اسٹاکٹن سے جوان دروازوں،ان شیروں اور ان ملزموں کااصل مصنف ہے،جس نے یہ کہانی تخلیق کی ،ہم توفقط تماشائی ہیں ،دروازے سے شیر نکل آئے تو رو پڑتے ہیں، حسینہ جلوہ افروز ہو جائے تو تالیاں بجاتے بجاتے سانس تک پھول جاتا ہے،لیکن خالی ہاتھ رہتے ہیں،خالی ہاتھ آتے ہیں اور خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں!