06:27 am
جگت کی سیاست

جگت کی سیاست

06:27 am

شاید کپتان کو سمجھ آ گئی ہے کہ جگت، جہل اور جذبات سے کام نہیں چل سکتا، کام تو بہرحال کرنا ہی پڑے گا۔
شاید کپتان کو سمجھ آ گئی ہے کہ جگت، جہل اور جذبات سے کام نہیں چل سکتا، کام تو بہرحال کرنا ہی پڑے گا۔ ایک سال سے زائد ہو رہا ہے، اگر سیکھنے کا عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو چار سال نہایت قلیل وقت ہے۔ ویسے بھی وزرا و مشیران میں آدھے سے زیادہ آزاد پنچھی جانے کب ہوا کا رخ پہچان کر پھر سے اڑ جائیں۔ خیر سے لگتا تو یہی ہے کہ تحریک انصاف رفتہ رفتہ دھرنا سیاست سے باہر نکل رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ مہربانوں کا صبر و حوصلہ کب تک ساتھ دیتا ہے۔
ابھی چند روز پہلے شہباز گل فرما رہے تھے کہ جس کو عثمان بزدار کا چہرہ پسند نہیں تحریک انصاف چھوڑ دے، دو روز بھی نہ گزرے تھے کہ شہباز گل کا پتہ صاف ہو گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہباز گل بھرپور طور پر پوری وفاداری کیساتھ حکومت پنجاب کا دفاع کرتے رہے، مگر پھر بھی نہ چل سکے۔ آپس کی بات ہے کہ ایک سال میں وسیم اکرم پلس کی ایک بال بھی پچ پر نہیں پڑی یقین جانیئے بعض اوقات تو اصلی وسیم اکرم پر بڑا ترس آتا ہے۔ بہرطور شیخ رشید کا  فرمان ہے کہ کپتان عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں، شاید ٹھیک ہی کہتے ہونگے مگر کپتان تو اسد عمر کیساتھ بھی کھڑے تھے، اسد عمر آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد لوٹے تو بیٹھ چکے تھے اور امپائر مسکرا رہا تھا۔ اب دیکھیئے عثمان بزدار کیلئے بال تبدیل ہوتی ہے یا پچ، یا پھر بیٹھنا پڑیگا۔ ویسے تو شیخ رشید بڑے سیاستدان اور جگت استاد ہیں مگر اب آخری اننگز کھیل رہے ہیں، ہر دوسرے روز پریس کانفرنس میں تیکھے جملے انکی شناخت ہیں، خبروں میں رہنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ شیخ صاحب ماشاء اللہ تحریک انصاف کی سرپرستی بھی فرماتے ہیں اور بلا ضرورت کپتان سے قربت کا تذکرہ بھی گاہے بگاہے فرماتے رہتے ہیں۔ کشمیر ہو یا اپوزیشن تحریک سب کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں مگر صورتحال یہ ہے کہ ریلوے کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے جو کہ انکی اولین ذمہ داری ہے۔ خیر ریلوے اولین ذمہ داری تو ہے مگر اولین پسند نہ تھی نہ اب ہے، شنید ہے نگاہیں داخلی امومحاذ پر ہیں، خدا خیر کرے۔
فواد چوہدری کو بھلا کون بھول سکتا ہے اور انکی جگتیں تو ان سے بھی زیادہ شاندار، تحریک انصاف کیلئے ان کی لسانی خدمات کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ بیرسٹر ہوتے ہوئے بھی کوئی ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ وزیر اطلاعات تھے تو پی ٹی وی  سے لیکر بنی گالہ میں نعیم الحق سے بھڑتے رہے۔ قومی اسمبلی پہنچتے تھے تو ہر روز شہ سرخیوں میں جگہ پاتے تھے۔ حریف تو کجا ،حلیف بھی دامن بچاتے تھے، ہر چینل پر تحریک انصاف کے سب سے بڑے وکیل مگر اسکے باوجود بیک جنبش قلم اطلاعات جیسی وزارت سے فراغت کے بعد او ایس ڈی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی تعینات ہوئے۔ یہ بات بہرحال تسلیم کرنا پڑیگی کی فواد چوہدری کو بھی میرا کی طرح خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے۔ ٹوئٹ سے لیکر ٹوٹکوں تک، جگتوں سے لیکر جلسوں تک، سوشل میڈیا پر جو مقام وزیر موصوف کا حاصل ہے وہ بھلا کسی اور کے نصیب میں کہاں، اب کچھ نہ ملا تو بھارتی خلائی مشن چندریان کی ناکامی پر پھلجڑیاں چھوڑ بیٹھے۔ یہاں ہم دو دو عیدیں مناتے نہیں تھکتے، چاند بیچارہ نظریں چھپاتا پھرتا ہے مگر دوسروں کی جزوی ناکامی پر جشن منانا وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا منصبی فریضہ جو ٹھہرا۔ ایک اور صاحب بھی ہوا کرتے تھے، پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، میڈیا کی جان، تحریک انصاف کی شان، جگتوں کے شہنشاہ مگر زبان کے ہاتھوں مجبور رہے اور خاصا عرصہ عتاب جھیلا، اب جا کر کسی بے نام وزارت میں جگہ ملی ہے۔ ویسے تو فیصل واوڈا، خاصے معقول انسان ہیں مگر کبھی کبھار جانے کیا ہو جاتا ہے، کبھی کمانڈو بن جاتے ہیں تو کبھی ہفتہ بھر میں ہزاروں لاکھوں نوکریاں بانٹنے نظر آتے ہیں۔ گمان ہے کہ ف کا حرف کپتان کو راس نہیں، دیکھیں کا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک …بھئی آپ کو بھی یاد ہو گا، ایک زمانہ تھا خیبر پختونخوا میں ترقی کی داستانیں سنتے سناتے نہ تھکتے تھے، بلکہ حکومت بنتے ہی یہ اعلان بھی سنا کہ جلد پنجاب بھی کے پی جیسی ترقی کا شاہکار نظر آئیگا۔ اب کوئی بھولے سے بھی خیبر پختونخوا اور ترقی کا نام نہیں لیتا، ایک بی آر ٹی منصوبہ جان کو آ گیا ہے، تکمیل کا وقت اور ہولناک لاگت بڑھتی چلی جاتی ہے، شاید اسی طرح کی کرپشن میں اپوزیشن کے کئی سیاستدان جیل کاٹ رہے ہیں۔ پہلے دبی زباں سے اپوزیشن پر نیب کی تلوار کا ذکر ہوتا تھا اب کھلم کھلا اظہار کیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا تو کجا پنجاب کی یہ صورتحال ہے ہر ہفتے دو، چار افراد پولیس گردی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے، صوبائی وزیران و مشیران کی فوج جگتوں سے گڈ گورننس کا وعدہ پوری کر رہی ہے۔ حضور اپوزیشن جس انواع و اقسام کے الزامات کے تحت جیل کی ہوا کھا رہی ہے، ایسا بہت کچھ اب بھی ہو رہا ہے، فرق یہ ہے کہ ابھی تحریک انصاف کا امتحان شروع ہوا ہے، نتیجہ حسب معمول حکومت پوری ہونے پر آیا کرتا ہے۔
تحریک انصاف کی خوش قسمتی میں تو کوئی شک نہیں، حکمراں جماعت کو برائے نام اپوزیشن کا سامنا ہے، کمزور، بے بس اور منتشر حزب اختلاف، مگر کمال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس کمی کو محسوس نہیں ہونے دیتی۔ جب کچھ نہیں ہوتا تب بھی کچھ نہ کچھ کر ہی ڈالتے ہیں، فروغ نسیم  کراچی کو وفاق کے زیر انتظام لانے شوشا چھوڑ بیٹھے، ویسے تو خاصے سنجیدہ شخص ہے مگر جگتوں کے اثرات ان پر بھی پڑے ہیں۔ مراد سعید ہوں یا علی محمد، علی زیدی ہوں یا فیصل واوڈا، تحریک انصاف کا ہر وزیر و مشیر، مسلسل دھرنے سے دوچار ہے، شعلہ بیانی کا شاہکار، دعوئوں کی بھرمار، نومسلموں جیسا جوش و خروش اور عقل کل، نتیجہ یہ کہ بیوروکریسی نے ہاتھ اٹھا لیا، تمام محکمے بربادی سے دوچار ہیں۔ تھوڑی بہت جو کسر رہ گئی تھی وہ نیب نے پوری کر دی ہے، ایسی ایسی پگڑیاں اچھلیں کہ کرپٹ عناصر تو الگ رہے ایماندار افسران بھی عزت بچانے کیلئے پیچھے ہٹ گئے، اب باری باری حکومت اور نیب بیوروکریسی کی منتیں ترلے، یقین دہانیاں کرتے ہیں مگر کوئی فائدہ اب تک تو نظر نہیں آیا ہے۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا، نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ خیر سے دھرنے کے روح رواں اور سیاسی کزن ڈاکٹر طاہرالقادری اس حد تک مایوس ہو گئے کہ سیاست سے علیحدگی کا اعلان کر ڈالا۔   
کیا اب عوام میں ہمت ہے کہ یاد کر سکیں، ایک کروڑ نوکریاں ملنی تھیں، پچاس لاکھ گھر بننے تھے، کروڑوں درخت لگنے تھے، قرضوں سے نجات ملنی تھی، انصاف، صحت، تعلیم، صاف پانی بھی فراہم ہونا تھا۔ برطانوی جمہوریت کی طرح حکومت عوام کو جوابدہ اور وزیر و مشیر سادگی کا پیکر بننے تھے۔ سیاستداں خواب بیچتے ہیں اور حکومتیں تعبیر دیا کرتی ہیں، پہلے والے ناکارہ تھے، اب دیکھیں تحریک انصاف سیاست سے حکومت کا سفر کتنے سالوں میں پورا کرتی ہے، خیر چھوڑیں چلیں کچھ تازہ جگتیں سنتے ہیں۔