09:23 am
  بے روح تقریر نہیں چاہیے!

  بے روح تقریر نہیں چاہیے!

09:23 am

اس ماہ اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ حسب معمول دفتر خارجہ کی جانب سے اس اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری میں اجاگر کرنے کے لیے دوڑ دھوپ جاری ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں جاری بدترین بھارتی مظالم کی بدولت غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کی جانب سے بد ترین  جارحیت اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک اہم موقع دستیاب ہو رہا ہے ۔ اس موقعے کو گنوانا نہیں چاہیے۔ حکمت و تدبر بروئے کار لایا جائے۔ ماضی کی طرح محض لفاظی پر مبنی بے روح تقریروں  کی ضرورت نہیں ۔ ہماری شعلہ بیانی اور لایعنی دعوے کشمیری عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے ۔ گو کہ وزیر اعظم جنرل اسمبلی میں خطاب فرمائیں گے لیکن جو کو تاہیاں ماضی میں ہوتی رہیں ان سے گریز لازم ہے۔ بہتر ہوگا وزیر اعظم اپنی تقریر کی تیاری کے لیے سفارتی امور کے اُن ماہرین سے مشاورت فرمائیں جو نظریاتی اعتبار سے پاکستانیت پر کامل یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ بھارتی عیاریوں کا ادراک بھی رکھتے ہیں ۔
 
 خدا کے فضل و کرم سے پاکستان میں ایسے مومنین کی کمی نہیں جو معاملات کو ایمانی فراست سے پرکھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں ۔ ماضی میں جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاسوں کے مواقع پر پاکستان نے بھارت کے خلاف جارحانہ موقف اپنانے کے بجائے ڈھیلا ڈھالا معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا ۔ گو کہ کشمیر کا ذکر ہر تقریر میں کیا جاتا رہا لیکن اس کی حیثیت رسمی تبرک جیسی تھی ۔ یہ بھی ایک حیران کن بات ہے کہ پورے پاکستان میں بھارت کے پروردہ دہشت گرد عوام اور ریاستی اہلکاروں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے لیکن سرکاری سطح پر اس دہشت گردی کا الزام بھارت پر عائد کرنے سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی ۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف بھارت ہر اہم فور م پر پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا ۔ کشمیری عوام کی جائز تحریک حریت کو دہشت گردی کی گالی دی جاتی رہی ۔ بلوچ اور پشتون قومیت کے نعرے لگا کر بیرون ملک مفرور دہشت گردوں کو پاکستان کی پشت میں چھرا گھونپنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ۔ افسوس صد افسوس کہ بھارتی دہشت گردی جیسے اہم معاملے پر  سابقہ حکمرانوں نے منہ پر قفل لگا ئے رکھے ۔ اس معنی خیز خاموشی اور سفارتی سست روی کی وجہ سے عالمی سطح پر تحریک حریت کشمیر کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور پاکستان کے قومی مفادات کو بھی زک پہنچی۔ دہشت گردی کے خلاف بھیانک جنگ میں ہزاروں قیمتی جانیں قربان کرنے والا ملک دنیا بھر میں دفاعی موقف اپنانے پر مجبور ہو گیا ۔ 
گزشتہ چند ماہ سے موجودہ حکومت نے اپنی سفارتی روش بدلنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ کارکردگی ابھی تک متوقع معیار کو نہیں پہنچ پائی لیکن سابقہ ادوار کے مقابل آج صورتحال کل سے بہتر ہے۔ موجودہ حکومت نے پہاڑ جیسی غلطیاں کی ہیں لیکن بھارتی جارحیت کے خلاف اپنایا گیا موقف ہر لحاظ سے لائق تحسین ہے۔ وزیر اعظم بذات خود بڑی صراحت سے کشمیر پر کی گئی تازہ بھارتی یلغار کے خلاف قومی موقف پیش کر رہے ہیں ۔ آرایس ایس کے نظرئیے کو نازی ازم اور فاشزم سے تشبیہ دے کر وزیر اعظم نے عالمی برادری کو مودی سرکار کے خلاف موثر انداز میں خبردار کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بھارت عالمی برادری میں منہ دکھانے کے لائق نہیں ، جو ممالک تجارتی یا معاشی مفادات کی وجہ سے بھارتی شدت پسندی کے خلاف خاموش ہیں وہ بھی یہ جان چکے ہیں کہ بھارت ایک نسل پرست مذہبی جنونی ریاست کا روپ دھار چکا ہے ۔ پاکستان کو سفارتی محاذ پر بھرپور چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمت و تدبر سے کشمیری عوام کے مصائب عالمی برادری کے سامنے رکھنے ہیں ۔ جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں رسمی تقریر نہیں کرنی بلکہ کشمیری عوام کا مقدمہ پیش کرنا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان میں برسوں سے جاری دہشت گردی میں بھارت کے ریاستی عناصر کے ملوث ہونے کا مقدمہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھنا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی صورت جیتا جاگتا ثبوت پاکستان کے پاس ہے۔ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے لیے افغانستان اور ایران کی سرزمین استعمال کی ۔
 ا س جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان کو دنیا کو یہ بتانا چاہیے کہ بھارت ایک ایسی دہشت گرد ریاست ہے جس نے خطے کے بیشتر ممالک میں دہشت گرد نیٹ ورکس قائم کر کے علاقائی امن کو دائو پر لگا رکھا ہے۔  یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک جانب پاکستان دہشت گردی کا شکار بنتے ہوئے قیمتی جانیں بھی قربان کرتا رہے اور دوسری جانب عالمی برادری کے نام نہاد چوہدریوں سے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے طعنے بھی سنے۔ قوم یہ توقع کرتی ہے کہ جنرل اسمبلی کے آنے والے سالانہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم صاحب روایتی بے روح خطاب کے بجائے پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ  موثر انداز میں  عالمی برادری کے سامنے پیش کریں گے۔