09:24 am
بھارت بکھر رہا ہے !

بھارت بکھر رہا ہے !

09:24 am

متعدد قومیتوں، زبانوں اور مقامی قومی گروہوں کی وجہ سے ہندوستان ایک ملک کے بجائے برصغیر ہے۔ انہی زمینی حقائق کی وجہ سے بھارت کو اس حوالے سے چیلنجز کا سامنا رہا۔اس وقت کے حکمرانوں کو ان مسائل کا اندازہ ضرور تھا لیکن  رفتہ رفتہ علیحدگی پسند تحریکیں جڑ پکڑتی گئیں۔ مختلف حکومتی ادوار میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پولیس میں بہتری کی گئی، خصوصی نیم فوجی دستے ترتیب دیئے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ اراضی سے متعلق اصلاحات اور نئے قوانین کے سختی سے اطلاق کے ذریعے مقامی افراد کے تحفظات دور کرنے کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ 
 
بھارت کے ثقافتی اور  مذہبی تنوع اور رنگا رنگی کے پیش نظر برطانوی راج کے خاتمے کے بعد اس کے حکمرانوں کو اچھی  طرح اس بات کا اندازہ ہے کہ انھیں اسے ایک سیکولر ریاست بنانا ہوگا، جس میں مختلف مذہبی گروہوں کو اپنے مذہب کی تعلیمات پر نجی و عوامی زندگی میں عمل کرنے کی آزادی حاصل ہوگی اورکسی مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قوم اور قومیت سے متعلق مغربی تفہیم سے مربوط اس  تصور کو انڈین نیشنل کانگریس کی سربراہی میں اٹھنے والی نوآبادیات مخالف تحریک نے اپنا نصب العین بنایا، تاہم یورپ میں جس سیکولرازم کا تجربہ کامیاب ہوا تھا ،برصغیر میں نہ تو اس کی  ویسی تفہیم ہوسکی اور نہ یورپ کی طرح اس پر عمل درآمد کیا جاسکا۔ برصغیر میں مذہب نجی زندگی تک محدود نہیں، اسے یہاں پیدائش سے موت تک مکمل طرز حیات تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے طے شدہ مفہوم میں ہندومت یا ہندوازم بھی برطانوی تصور ہے۔ 19ویں صدی تک ہندوستان کے برہمنوں نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ان کے ہم مذہب ہیں۔ آج تک یہ بحث جاری ہے کہ ذات پات کا نظام مذہبی بنیاد رکھتا ہے یا اسے محض سماجی و اقتصادی درجہ بندی سمجھنا چاہیے۔ 
آج بھی اس خطے میں سیکولرازم کو سمجھنے والے خال خال ہیں۔ 1920 ء کی دہائی میں تشکیل پانے والا  ہندوتوا کا نظریہ جس سے بی جے پی نے جنم لیا، اس کی واضح مثال ہے۔ قومیت کا جو نظریہ نوآبادیات کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو متحد کرنے کی بنیاد بنا تھا،  وہی برطانوی ہند میں فطری طور پر رفتہ رفتہ مذہبی قوم پرستی میں تبدیل ہوگیا۔ کانگریس نے سیکولرازم کا دکھاوا تو بہت کیا لیکن ہمیشہ سے  ہندوتوا کی فکر بھارتی قوم پرستی کی بنیاد رہی۔ کانگریس کی حقیقی قیادت لالہ لاجپت رائے ، مدن موہن مالیہ اور ولبھائی پٹیل جیسے ہندوقوم پرستوں کے ہاتھوں میں رہی۔  یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ گاندھی کو ایک انتہا پسند ہندو قوم پرست نے قتل کیا! خیر، ہندوتوا کے تصور میں  ’’ہندوستانیت‘‘ کو ہندو ہونے سے مشروط کیا جاتا ہے اور تمام مذاہب کو ہندومت میں تحلیل کردینا اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیا جاتا ہے ، اسلام اور ہندوستان کی سرزمین سے تعلق نہ رکھنے والے مذاہب کو ہندتوا میں شامل نہیں کیا جاتا جب کہ سکھ مت اور بدھ مت، ہندو دھرم کا جزو تصور ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیتے ہوئے اس حقیقت سے صرف نظر کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت مقامی آبادی پر مشتمل ہے جنھوں نے اسلام قبول کیا اور یہ لوگ ایران، عرب یا وسطی ایشیاء سے یہاں نہیں آئے جن کے آبائو اجداد کا تعلق ہندوستان سے نہیں تھا وہ بھی نسل درنسل یہاں آباد ہیں اور مقامی آبادی حصہ بن چکے ہیں۔ بھارت کی موجودہ صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہائیوں ملک پر حکومت کرنے والی کانگریس بھارتیوں کی اکثریت کو سیکیولرزم کا مفہوم نہیں سمجھا سکی۔ انتخابات میں کانگریس کی شکست اور بی جے پی کی کامیابی بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی شدت پسندی میں اضافہ ہوا کیوں کہ ایک وقت تھا کہ معاہدہ لاہور جیسا بے باک قدم اٹھانے والے واجپائی اس جماعت کے وزیر اعظم تھے اور دوسری طرف 2002ء میں گجرات میں قتل عام کرنے والے مودی کی اس منصب پر دعوے داری کو تسلیم کیاگیا۔ مودی کے پہلے دور حکومت میں ہم نے روزانہ تبدیلی مذہب کے لیے تشدد کرنے والے ہندوؤں کے ہجوم کے سامنے مسلمانوں اور مسیحیوں کو رحم کی بھیک مانگتے دیکھا۔ 2014ء میں بننے والی مودی سرکار میں حکومتی اداروں نے از سر نو تاریخ لکھنا شروع کی۔ اس میں سے مسلمان حکمرانوں کا تذکرہ نکال دیا گیا اور سرکاری سطح پر کئی شہروں اور مقامات کے مسلم نام تبدیل کرکے ہندی نام رکھ دیے گئے۔ انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے بے دردی سے قتل کے واقعات میں تیزی آگئی اور ان میں ملوث افراد کو شاذ و نادر ہی کبھی سزا ہوئی۔ مودی کے دوسرے دور میں کئی مبصرین کو خدشہ ہے کہ بھارت میں رہی سہی جمہوریت بھی دَم توڑ جائے گی۔ 
آرٹیکل 370ختم کرکے ستر لاکھ کشمیری  مسلمانوں پر حملہ محض ابتدا ہے۔ آسام میں بنگلادیشی مسلمان تارکین وطن کے باعث نقص امن کو بنیاد بنا کر بی جے پی  ہندتوا کے نظریے کے مطابق ’’غیر ملکیوں‘‘ کو  ملک بدر کرنے کی مہم کا آغاز کرچکی ہے۔ حکومت کی جانب سے آسام میں  چالیس لاکھ افراد کو غیرملکی قرار دے کر  بے وطن ہونے کے خدشات لاحق ہیں کیوں کہ  بی جے پی کی حکومت انتہا پسند ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ہر حد پار کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس مہم کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ کون بھارتی ہے اور کون نہیں۔ آسام میں بھارتی شہریوں کی فہرستیں جاری کردی گئی ہیں اور جن کا نام فہرست میں شامل نہیں انھیں جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔  آسام میں ایک برس قبل شروع ہونے والا شہریوں کی رجسٹریشن کا سلسلہ 31اگست کو اختتام پذیر ہوا۔ کیا دیگر بھارتی ریاستوں میں بھی یہی مثال دہرائی جائے گی؟ 
اس کے علاوہ مودی سرکار پارلیمنٹ سے ایک ایسے قانون کی منظوری کے لیے بھی کوشش کرچکی ہے جس کے مطابق مسلمانوں کے علاوہ دیگر تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو شہریت کے لیے ریکارڈ کی فراہمی سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی آسام پر نہیں رکے گی۔ بی جے پی کے سربراہ امت شاہ اور دیگر رہنما اپنے حامیوں سے ملکی سطح پر شہریوں کی جانچ پڑتال کا وعدہ کرچکے ہیں۔ اس پالیسی کا رُخ بہت واضح ہوگا، اس کے ذریعے مسلمانوں کو ملک دشمن اور غیر ملکی قرار دیا جائے گا اور بی جے پی اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ ایسی صورت حال بھارت کی سالمیت کے لیے ایک نیا خطرہ ثابت ہوگی۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے مسلمانوں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔ 2018کے اندازوں کے مطابق بھارت میں 70لاکھ کشمیریوں سمیت 20کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔  مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر کے علاوہ مسلمانوں نے بھارت میں کہیں بڑی آبادیاں نہیں بنائیں، یہ پورے بھارت میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی کے فراہم کردہ ذرائع سے اپنی مذہبی آزادی کے لیے اور امتیازی سلوک کے خلاف مسلمانوں کی متحدہ جدوجہد کے امکانات ضرور پائے جاتے ہیں۔ ایسی کسی بھی پیش رفت کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کے اعداد وشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیاں ان کے جذبات کو لاوے میں تبدیل کررہی ہیں۔ کشمیر اور آسام تو صرف آغاز ہیں۔ (کالم نگار سیکورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں