09:25 am
آزادی کشمیر علماء ریلی

آزادی کشمیر علماء ریلی

09:25 am

وزیراعظم عمران خان نے مظفر آباد کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’کنٹرول لائن کب جانا ہے میں بتائوں گا‘‘ اب یہ بات وہ کب بتائیں گے ، قوم کو اس کا انتظار رہے گا؟ ویسے وزیراعظم کا کوئی ترجمان اگر یہ بات قوم کو سمجھاسکے تو ضرور سمجھائے کہ وہ عوام کو خالی ہاتھ کنٹرول لائن پر لے جاکر کیا کشمیر فتح کرلیں گے؟۔بادشاہو… کشمیر صرف نعروں اور مذمت سے نہیں بلکہ ہندو فوجیوں کی مرمت سے آزاد ہوگا، میں جب ’’مرمت‘‘ کی بات لکھتا ہوں تو اس کا مطلب ’’جہاد‘‘ ہوتا ہے۔ جیسے ہی میرے کالم میں لفظ جہاد چھپتا ہے تو غامدی کے راتب خور مولوی زادوں کے وضو ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن خیر اب ماشاء اللہ کشمیر کی آزادی کے لئے ’’جہاد‘‘ کی صدائیں پوری شدت سے بلند ہونا شروع ہوچکی ہیں۔
 
اتوار کے دن آزادی کشمیر علماء ریلی میں نیشنل پریس کلب سے لے کر ڈی چوک تک لگنے والے نعروں میں مقبول ترین نعرہ سبیلنا، سبیلنا، الجہاد، الجہاد، طریقنا، طریقنا، القتال، القتال کا تھا، دیوبند مکتبہ فکر کے دینی مدارس کے تعلیمی بورڈ وفاق المدارت العربیہ پاکستان کے زیراہتمام اس ریلی میں علماء، مساجد کے  ائمہ و خطباء ، مشائخ اور طلباء نے ہزاروں کی تعداد میںجس والہانہ انداز میں شرکت کی وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ جس دن ریاست پاکستان نے کشمیر کی آزادی کے لئے بھارت کے خلاف اعلان جہاد کیا اس دن پاکستان کے علماء، خطباء، دینی مدارس کے شیوخ الحدیث و مشائخ اور لاکھوں طلباء جہادی میدانوں میں نریندر مودی کے ہندو دہشت گردوں کو لوہے کی لگامیں چڑھائیں گے ۔(ان شاء اللہ)
جب کشمیر کی آزادی کے لئے لاکھوں علماء کرام  اور مشائخ عظام  اپنی جانیں نچھاور کرنے کے عزم بالجزم کا اظہار کررہے ہیں تو یہی علماء اپنی مشائخ ریاستی اعلان جہاد کے بعد پاکستانی قوم میں جہاد و قتال کی روح پھونک کر پوری قوم کو بھارت کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیں گے۔نائن الیون کے بعد گوکہ عالمی صیہونی طاقتوں نے امریکہ کی زیرسرپرستی ’’جہاد‘‘ والی مقدس عبادت کے خلاف سازشوں کے جال پھیلانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے کچھ  پیٹ، شہرت اور سٹیٹس کے بھوکوں کو ڈالروں کے عوض خرید کر کشمیری مجاہدین پر تبراء بازی پر لگا دیا گیا۔ مجاہدین پر تبراء کرتے کرتے ان کا لسانی مرض اتنا بڑھا کہ وہ جہاد و قتال والی عظیم عبادت کا ہی انکار کر بیٹھے، حالانکہ شریعت مطہرہ کا ہی متفقہ مسئلہ ہے کہ جس طرح نماز کا منکر، روزے کا منکر کافر ہے ، بالکل اسی طرح جہاد کی عبادت کا منکر بھی کافر ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
30 سال قبل روس کے خلاف جب جہاد تھا تو وہ کہا کرتے تھے کہ یہ امریکہ کا جہاد ہے، ہم سوویت یونین کے خلاف امریکی جہاد میں نہیں بلکہ ’’امریکہ‘‘ کے خلاف جب جہاد شروع ہوگا تو اس میں شرکت کریں گے ، پھر خدا نے کیا نائن الیون کے بعد امریکی، امریکہ سے نکل کر افغانستان پر حملہ ہوگئے ، تب پاکستان کے حکمرانوں سمیت دنیابھر نے امریکہ کے ساتھ دل کھول کر تعاون کیا، افغان طالبان نے تنہا افغانستان پر حملہ  آور امریکہ اور اسکے ٹوڈیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر جہادی منکروں کا یہ مخصوص گروہ اس وقت بجائے افغان طالبان کے ساتھ کھڑا ہونے  امریکی دستر خوان پر ڈھیر ہوگیا اور لگاتاویلیں گھڑنے اور اعتراضات اٹھانے، مثلاً جہادی قائدین اپنے بچوں کو بچاتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کو مرواتے ہیں، پھر جب امریکہ جہادی قائدین کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنا شروع ہوا تو منکرین جہاد کے اس گروہ نے ڈھول پیٹنا شروع کر دیئے کہ یہ جہادی تو پاکستان پر بوجھ ہیں، ان کی وجہ سے پاکستان کا دنیا میں نام بدنام ہو رہا ہے۔ مطلب یہ کہ منکرین کا یہ گروہ اتنا ’’چکنا‘‘ ہے کہ کسی ایک طرف کھڑا ہونے کیلئے نہ تیار ہے اور نہ آمادہ بلکہ الٹا اگر کوئی قرآن کے فلسفہ جہاد پر کالم لکھے تو یہ اپنے غیر ملکی آقائوں کو اس کی مخبری کرکے اپنا ’’راتب‘‘  بڑھانے کی کوششوں میں جت جاتا ہے۔
اتوار کے دن اسلام آباد کے ڈی چوک میں آزادی کشمیر علماء ریلی میں بھارت کا ایک علاج الجہاد، الجہاد ، کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی ، جنگ رہے گی ، کے نعرے پورے ولولے کے ساتھ گونجتے رہے اور مقررین اپنی تقریروں میں بار بار یہ کہتے رہے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے ’’جہاد‘‘ ناگزیر ہوچکا ہے، یہ سارا منظر نامہ عقلمندوں کو سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ ’’کالعدم‘‘ قرار دے دینے سے اللہ کے حکم جہاد کو نہ تو کوئی روک سکتا ہے اور نہ اس پر پابندی لگاسکتاہے۔
گزرے سوا چودہ سو سالوں میں جہاد و قتال کی عبادت کی جس نے بھی مخالفت کرنے کی کوشش کی اس کا منہ کالا ہوا ، بلکہ ’’منافق‘‘ کی حقیقی پہچان کا سبب ہی جہاد کی عبادت بنی ، آج بھی سیاست کے بازار میں استعمال کیے جانے والے میر جعفر اور میر صادق کے نام اگر منافقت اور غداری کی ’’مثال‘‘  بنے تو اس کی اصل وجوہات کیا تھیں؟ کیا کبھی کسی نے اس بات پر غور کیا کہ صیہونی طاقتوں نے موم بتی مافیاء پر سرمایہ کاری کی اور این جی اوز نے سیکولرز کے ساتھ ساتھ بعض مدرسہ بھگوڑے ’’مولوی زادوں‘‘ کو بھی گود لے لیا۔ اب یہ سارے مل کر لگے مغرب کے جہاد مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے … انہوںنے مدارس کے خلاف طوفان اٹھانے کی کوشش کی ، جید علماء پر تبراء بازی کو اپنا مشن بنالیا بلکہ ایک مولوی زادہ تو اتنا جری ہوا کہ اس نے مغرب کے تعاون سے صاحبزادوں کو گمراہ کرنے کی باقاعدہ لانڈری قائم کرلی۔
وفا ق المدارس کے ہزاروں علماء اور طلباء سے مولانا قاضی عبد الرشید، مولانا ڈاکٹر عادل خان، پیر عزیز الرحمن ہزاروی اور مفتی مجیب الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت اور فوج کشمیریوں کو  تنہا نہ چھوڑے۔ قوم1965 ء کی طرح پاک فوج کی پشت پر ہوگی انہوں نے کہا کہ اگر وقت نے پکارا تو لاکھوں علماء میدان میں ہوں گے۔کشمیریوں کے  ساتھ پاکستانی قوم کا اظہار یکجہتی بہت اچھی بات ہے، حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ جلد سے جلد کشمیری قوم کو عملی ریلیف پہنچانے کی کوشش کرے۔