09:26 am
تبدیلی کا مثالی فارمولا

تبدیلی کا مثالی فارمولا

09:26 am

ان دنوں ملک و قوم کے نظام اور معاشرتی صورتحال میں بہتری لانے کے دعوے ہر طرف سے کیے جا رہے ہیں، اور حکومت و اپوزیشن کے سب لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کے موجودہ حالات کو بدلنا اور عوام کو ایک بہتر نظام اور سوسائٹی سے روشناس کرانا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ایک دوسرے پر کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے سنگین الزامات بھی مسلسل دہرائے جا رہے ہیں اور ایک عجیب سی صورتحال ملک میں پیدا ہو گئی ہے جس سے عام شہری پریشان ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ قومی راہنماں میں کس کا رخ کدھر کو ہے؟ ان حالات میں عالم اسلام کے ایک مثالی حکمران حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی حیات مبارکہ کی چند جھلکیاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ یہ واضح ہو کہ ملک و قوم کو بہتری کی طرف لے جانے اور حالات میں مثبت تبدیلی لانے کا صحیح طریق کار کیا ہے اور حالات کو سدھارنے کے لیے کس قسم کی قیادت قوم کو درکار ہے۔
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ خاندان بنو امیہ کے نامور چشم و چراغ اور خلفائے اسلام میں مثالی کردار کے حامل حکمران شمار ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق تابعین کے طبقہ سے ہے جو صحابہ کرام ؓکے بعد امت کا سب سے بہترین طبقہ ہے۔ وہ اپنے دور کے ممتاز عالم دین، محدث اور صالح بزرگ تھے۔ ان کے والد عبد العزیز کئی سال تک مصر کے گورنر رہے اور عمر بن عبد العزیزؒ خود بھی خلیفہ بننے سے پہلے حجاز کے والی رہے۔ وہ خلیفہ وقت عبد الملک بن مروان کے بھتیجے اور داماد تھے اور شاہی خاندان کے ممتاز ترین افراد میں سے تھے۔ انہیں نامور اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک  نے اپنا جانشین نامزد کیا اور وہ ان کی وفات کے بعد صفر 99ھ میں منصب خلافت پر متمکن ہوئے۔ ان کا پایہ تخت دمشق تھا اور وہ اپنے دور میں پوری دنیائے اسلام کے واحد حکمران تھے۔
     حضرت عمر بن عبد العزیز ؒکے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ جب شاہی خاندان نے خلیفہ سلیمان بن عبد المالک کی وفات کے بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ دمشق کی جامع مسجد میں عوام سے خطاب کیا اور کہا کہ خلیفہ کا انتخاب عوام کا حق ہے اور وہ خود کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے اس لیے عوام کو ان کا حق اختیار و انتخاب واپس کرتے ہیں کہ وہ ان کی بجائے جس شخص کو چاہیں اپنا حکمران منتخب کر لیں، مگر عوام نے بیک آواز انہی کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ ان کے بغیر اور کوئی خلیفہ انہیں قبول نہیں ہو گا۔
     حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو خلافت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے جس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا وہ یہ تھا کہ بیت المال ( قومی خزانہ )کا بیشتر حصہ شاہی خاندان اور اس کے منظورِ نظر افراد کی تحویل میں تھا اور قومی معیشت بدحالی کا شکار تھی۔ انہیں بیت المال کی دولت اور اثاثے ناجائز طور پر قابض افراد سے واپس لینا تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ترجیحات میں سب سے پہلا نمبر اسی کو دیا اور خلافت سنبھالتے ہی اس مشن کا آغاز کر دیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے جو عملی طریق کار اختیار کیا اسے تین دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ان تینوں پر انہوں نے بیک وقت عملدرآمد کا آغاز کر دیا۔
 سب سے پہلے انہوں نے ذاتی زندگی کو یکسر تبدیل کیا اور شہزادگی کے دور میں وہ سہولت اور تعیش کے جن معاملات کے عادی ہو گئے تھے، انہیں ترک کر دیا۔ ان کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ اپنے دور کے انتہائی خوش پوش افراد میں سے تھے، عمدہ ترین لباس پہنتے اور کوئی لباس ایک بار سے زائد ان کے جسم سے نہ لگ پاتا، حتی کہ ایک دور میں جب وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے، ان کا ذاتی سامان تیس اونٹوں پر لاد کر دمشق سے مدینہ منورہ جایا کرتا تھا، اور ان کے علم و تقویٰ کے باوجود ان کے معاصرین ان کی اس ذاتی نفاست پسندی اور خوش پوشی پر تنقید کیا کرتے تھے مگر خلافت سنبھالتے ہی ان کا مزاج تبدیل ہو گیا، خلافت کی عمومی بیعت کے بعد جامع مسجد سے نکلتے ہوئے انہیں شاہی گھوڑوں کا دستہ سواری کے لیے پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میری سواری کے لیے خچر کافی ہے۔ انہوں نے اس معاملہ میں اپنی ذات اور اہل خاندان پر اتنی سختی کی کہ ان کے نانا  حضرت عمرؓ بن الخطاب کی یاد ایک بار پھر تازہ ہو گئی اور اسی لیے انہیں عمرؓ ثانی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
 دوسری بات انہوں نے یہ کی کہ وصولیوں کا سارا وزن انہوں نے بڑے لوگوں پر ڈالا اور اس کا آغاز خود اپنی ذات سے کیا۔ ان کے پاس فدک کا باغ چلا آتا تھا جو بیت المال کی ملکیت تھا، وہ انہوں نے سب سے پہلے بیت المال کو واپس کیا۔ ان کی بیوی فاطمہ بنت عبد الملک کے پاس ایک قیمتی ہار تھا جو انہیں ان کے والد محترم خلیفہ عبد المالک بن مروان نے شادی کے موقع پر دیا تھا، حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے اسے بیت المال کی ملکیت قرار دے کر واپس کر دیا۔ اس کے بعد خاندان خلافت کا اجلاس طلب کیا اور ان سے کہا کہ بعض سابق خلفاء کی طرف سے انہیں جو جاگیریں اور عطیات دیئے گئے تھے وہ بیت المال کی ملکیت تھے جن پر ان کا کوئی حق نہیں ہے اس لیے وہ انہیں واپس کر دیں۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں