09:27 am
فضل الرحمن، بلاول، سراج الحق کے حکومت ختم کرنے کے دعوے!

فضل الرحمن، بلاول، سراج الحق کے حکومت ختم کرنے کے دعوے!

09:27 am

٭مقبوضہ کشمیر: مزید تین کشمیری شہید، کرفیو کا 42 واں دنOاکتوبر، اسلام آباد: جے یو آئی کے حملے کی تیاریاں مکمل، 15 لاکھ افرادکی ریلی، 90 ہزارافراد کی سکیورٹی!O سعودی عرب: تیل کے کنوئوں پر گولہ باری، پیداوار رک گئی۔ تیل کی قیمت 14 روپے لٹر تک بڑھنے کا امکان O وزیراعلیٰ عثمان بزدار، مسجد نبوی میں نماز کے ساتھ پنجاب حکومت کو سیاسی احکامOپنجاب میں بلدیاتی انتخابات ڈیڑھ سال تک امکانOپاکستانی شہری، 90 ارب کی چائے پی گئےO عمران خان کی حکومت اس سال ختم ہو جائے گی:بلاول زرداریO ٹنڈو محمد خان گٹر کے پانی میںڈوبے ہوئے سکول کے بچے بچ گئے۔
 
٭مولانا فضل الرحمان نے اکتوبر میں اسلام آباد پر قبضہ کرنے اور بلاول زرداری نے اس سال کے آخر تک عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی اسلام آباد میںدھرنے کا اعلان کیا ہے مگر یہ دھرنا جے یو آئی کے دھرنے سے الگ ہو گا۔ اس کا مقصد بھی عمران خاں کی حکومت کو ختم کرنا ہے اس کے لئے کوئی مدت طے نہیں کی گئی۔ فی الحال مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد کے لاک ڈائون المعروف ’آزادی مارچ‘ کے بارے میں کچھ اہم اور دلچسپ معلومات پڑھئے۔ عبدالرزاق عابد جے یو آئی کے رضا کاروں کے سالار ہیں۔ انہوں نے روزنامہ اوصاف کے نمائندہ حافظ محمد نعیم سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کے لئے دو لاکھ افراد کو مختلف قسم کی تربیت دی جا رہی ہے، 30 ہزار باوردی رضا کار سکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے، 30 ہزار عام کپڑوں والے 30 ہزار رضا کار خفیہ پولیس، کی طرح ’اردگرد‘ کے واقعات اور منصوبوں کی خبر دیں گے، مزید 30 ہزار رضا کار ریزرو فورس کے طور پر تیار رہیں گے۔ کمانڈر عبدالرزاق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آزادی مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ہم مزاحمت کریں گے۔ اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ خالی ہاتھ کیسے مزاحمت کریں گے؟ یہ تو جے یو آئی کے ایک ذمہ دار نمائندے کا بیان ہے۔ البتہ تھڑا سیاست دان علم دین نے حسب معمول عجیب حساب لگایا ہے۔ اس کے مطابق 15 لاکھ افراد کے کھانے پینے کے لئے چاولوں کی 30 ہزار دیگیں، 30 لاکھ نان 15 لاکھ تھالیاں اورپیالیاں اور تقریباً ایک لاکھ بیت الخلا چاہئیں۔ پھر وہ خود ہی کہنے لگا کہ جناب 15 لاکھ افراد کی بات محض سیاسی لگتی ہے! ویسے کیا پولیس رینجرز اور فوج کشمیر کے خاص حالات کے پیش نظر ایسے موقع پر کسی قسم کی محاذ آرائی کی اجازت دے سکیں گے۔ ظاہر ہے روکا جائے گا اور پھر رضا کاروں کے سالار کے مطابق سخت مزاحمت ہو گی۔ اس مزاحمت کے نتائج کیا ہوں گے؟ لاٹھی چارج، آنسو گیس، توڑ پھوڑ، گھیرائو جلائو!! اعلان تو یہ بھی ہے کہ اسلام آباد کا گھیرائو پر عمران خان نے استعفا نہ دیا تو پھر پورے ملک کا گھیرائو ہو گا، پورا نظام منجمد کر دیا جائے گا، کروڑوں افراد کو گھر میں بند کر دیا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ تاریخ کے اوراق میں دب جائے گا!
٭سرکاری اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تقریباً ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے۔ اس وقت بلدیات کا سارا نظام معطل ہے، اسے کئی ماہ سے افسر لوگ چلا رہے ہیں۔ قانونی طور پر انہیں ایسے منصوبوں پر کام کرنے کا اختیار نہیں جو بلدیاتی اداروں کے اجلاسوں میں طے کئے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صوبہ بھر میں ہر قسم کے بلدیاتی ترقیاتی منصوبے منجمد ہو چکے ہیں۔ ملک میں آج تک جمہوریت کی علم بردار کسی بھی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو خوش دلی سے قبول نہیںکیا۔ حکومتیں بلدیاتی نمائندوں کے پاس کسی قسم کے اختیارات برداشت ہی نہیں کر سکتیں۔ پنجاب کے ایک وزیراعلیٰ کے دور میں صادق آباد یا بھکر میں کوئی چپڑاسی بھی وزیراعلیٰ کی منظوری کے بغیر مقرر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ فوجی حکومتیں اس لئے بلدیاتی نظام قائم کرتی تھیں کہ سارے سیاست دان ان اداروں کی چودھراہٹوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ اب خبر یہ ہے کہ پورے صوبے میں ضلع کی بجائے تحصیلوں کی سطح پر نئے سرے سے حلقہ بندیاں بنائی جائیں گی۔ ان حلقہ بندیوں کی تشکیل کے لئے کمیٹیاں بنیں گی۔ اس کام میں تقریباً چھ ماہ لگیں گے، اس کے بعد تقریباً ایک سال میں بلدیاتی ادارے قائم ہوں گے۔ ظاہر ہے وہ اک دم تو کام شروع نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بمشکل ایک سال میں انتخابات کرائے، ایک سال تک ان کے چیئرمین منتخب نہ ہونے دیئے پھر ایک سال تک فنڈز جاری نہ ہونے دیئے۔ بالآخر موصوف کی اپنی حکومت ہی ختم ہو گئی۔ ایک پرانا شعر یاد آ رہا ہے کہ’’ مگس کو باغ میں جانے سے روکو، ناحق خون پروانے کا ہو گا۔‘‘ تشریح یہ کہ مگس (شہد کی مکھی) باغ میں جائے گی، پھولوں میں موجود شہد کا رس چوسے گی، یہ شہد چھتے میں جمع کرے گی۔ چھتے میں موم بھی بنے گی۔ اس سے موم بتیاں بنائی جائیں گی، وہ رات کے وقت جلیں گی تو پروانے آئیں گے اور آگ سے جلنے لگیں گے! پنجاب کے بلدیاتی ادارے اور موم بتیاں!
٭وزیراعلیٰ پنجاب نے مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں حضور نبی کریم سرور کائناتؐ کے روضہ اقدس روبرو نماز پڑھی اور پھر لاہور میں اپنے دفتر میں سیاسی و غیر سیاسی ہدایات اوراحکام جاری ہونے لگے! میں حیرت دکھ اور صدمے کے عالم میں ہوں۔ روضہ اقدس رسولؐ اکرم کے سامنے بیٹھ کربھرپور عقیدت اور عبادت کے خشوع و خضوع کی بجائے اپنی کرسی کے تحفظ کے لئے احکام! ذہن پر ہر وقت حکمرانی سوار تھی تو اس مقدس جگہ پر کیا کرنے گئے جہاں روضہ رسولؐ پر پہلی نظر پڑتے ہی سرفرازسید کے قدم جم گئے تھے، ہر چیز، ہر بات بھول گئی تھی۔ ذہن عجیب سی کیفیت میں گم تھا۔ ساری عمر جس مقدس ترین ہستی کا نام سنتے ہی ذہن پر عجیب سرشاری طاری ہو جاتی تھی۔ اس نام کو سن کر بے اختیار ہاتھوں کے انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگا لیتا تھا…اور…اور عمر بھر کی دُعائوں کے بعد اس عظیم محترم ہستی کے روضہ پر نظر پڑی تو قدم جم گئے۔ انہی قدموں پر، اسی جگہ عصر مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کیں۔ نمازوںکے سوا کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔ بہت سے حضرات نے روضہ کو سلام کہنے کے لئے نام بھیجے تھے، سب بھول گیا تھا (یہی کیفیت خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑنے پر ہوئی)… اور…اور ایک وزیراعلیٰ اس عظیم مقدس جگہ پر بیٹھ کر لاہور میں اپنی کرسی کے چوبداروں کو سیاسی ہدایات جاری کر رہا تھا! کیا تبصرہ کروں!
٭میں ٹیلی ویژن اور فیس بک پر ایک روح فرسا منظر دیکھ رہا ہوں، سندھ کے ایک شہر ٹنڈو محمد خان کی ایک گلی میں گہرا گٹر کا گندا بدبودار پانی بھرا ہوا ہے۔ گلی کے کونے میں ایک سکول ہے۔ چھٹی کا وقت ہوا ہے۔ بہت سے بچے اس گہرے گندے پانی سے گزریں گے۔ سکول یا محلے والوں نے بچوں کے گزرنے کے لئے ایک مقام پر لکڑی کا ایک بنچ رکھوا دیا ہے۔ بچے اس پر سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھاری بیگ اٹھائے چھ سات بچے بینچ پر آ چکے ہیں۔ مشکل کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہیں۔ اچانک بینچ لرزنے لگتا ہے۔ عین اس موقع پر کہ بینچ بالکل الٹ جائے اور اس پر موجود تمام بچے گٹر کے گہرے پانی میں گر جائیں، کسی فرشتے کی طرح ایک شخص پانی میں چھلانگیں لگاتا بھاگ کر آتا ہے اور پوری قوت کے ساتھ اس بینچ کو گرنے سے روک دیتا ہے۔ سارے بچے بچ جاتے ہیں۔ ان کے بچ جانے پر اظہار تشکر کے لئے میری آنکھیں بھر آئی ہیں۔ قارئین کرام ٹنڈومحمد خان کا یہ شہر سندھ کے صوبہ کا اہم شہر ہے، اس صوبے کا ایک گورنر، ایک وزیراعلیٰ اور بہت سے وزیروں کا ایک غول بیابانی ہے۔ ان وزراء کے گروہ پر بیرون ملک کھربوں کے اثاثوں والے مہاراجوں کی ایک سیاسی قیادت حکمران ہے۔ اس شہر کی ایک بے حس، نالائق اور نااہل بلدیہ بھی ہے۔ اس حکومت کے پاس کھربوںکے فنڈز ہیں…اور… اور ایک فرشتہ صفت انسان عین موقع پر بھاگ کر لکڑی کا بینچ نہ سنبھالتا تو؟آگے لکھنے کا حوصلہ نہیں پاتا!