07:35 am
’’کِتھوں سِکھیا اے‘‘

’’کِتھوں سِکھیا اے‘‘

07:35 am

کہا تو یہی جاتا ہے کہ رحیم یار خان پاکستان اور پھر پنجاب کا ایک پسماندہ ضلع ہے تو پھر صلاح الدین جیسا دانا جو بظاہر دیوانہ نظر آتا تھا وہ کہاں پیدا ہوا تھا جس نے پولیس کے بے پناہ تشدد کے بعد اسی انسپکٹر سے انتہائی معصومانہ انداز میں پوچھا ’’اگر آپ مجھے ماریں نہ تو ایک سوال پوچھوں؟‘‘ اِجازت ملنے کے بعد اس نے اِنتہائی عاجزی اور معصومیت سے پوچھا ’’ایہہ تسی لوکاں نوں مارنا کتھوں سِکھیااے؟‘‘ (آپ نے لوگوں کو مارنا کہاں سے سیکھا ہے) اس کی معصومیت اور پھر تشدد کے بعد اس کی موت نے مجھے بھی سوالات کی ایک اندھی قبر میں دفن کر دیا ہے جس میں میں خود ہی سوال کر رہا ہوں اور پھر چشم تصور میں اس کا جواب بھی پا لیتا ہوں۔
 
  میں صلاح الدین کو کیسے بتائوں کہ جب گوالمنڈی کے اشتہاری ملزم اور اشتہاری ملزموں کے گن مین پولیس میں بھرتی کر لئے جائیں تو ان سے کس چیز کی توقع ہمیں رکھنی چاہئے جب پولیس ملازم میرٹ کی بجائے بدمعاشی میں شہرت، قبضہ گروپوں میں اُبھرتے ہوئے نام، لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے ماہرین عوامی نمائندوں کو کوٹے کی صورت میں بانٹے جائیں گے تو کس اچھائی کی توقع کی جانی چاہئے۔ اِنسانی زندگی میں سیکھنے کے لئے دو ادارے اہم ترین کردارادا کرتے ہیں ایک ماں کی گود اور دوسرا استاد کا رویہ اور انداز زندگی تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے سکولوں میں اور خاص طور پر دیہاتی و دینی مدرسوں میں کون سے ایسے ذہنی مریضوں کو استاد کے طور پر رکھا جاتا ہے جو بچوں کو الٹا لٹکاتے ہیں، اُن پر تشدد اس وحشیانہ انداز میں کیا جاتا ہے کہ شاید جانور بھی برداشت نہ کر سکیں۔
 لاہور میں ہی ایک استاد نے اس وحشیانہ انداز میں تشدد کیا کہ بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور ماں باپ کے لئے ایک دردناک یاد کا عذاب چھوڑ گیا کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسے ذہنی پسماندہ درندے ٹیچر کو بھی اِسی وحشیانہ انداز میں تشدد کر کے عوام کی عدالت کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے وہ بچہ تو یہ سوال بھی نہ کر سکا ماسٹر جی تسی ایس طرح مارنا کِتھوں سیکھا اے؟‘‘ کچھ وکلا حضرات نے ہائیکورٹ کا دروازہ توڑ دیا تھا اور ایسے واقعات بھی عدالتوں میں ہو چکے ہیں کہ قانون کے رکھوالوں اور قانونی زبان میں آفیسر آف دی کورٹ نے عدالتوں میں جج حضرات کو مارا پیٹا، گالیاں دیں اور وہ جج یا بار آج تک ان وکلا کو نہ تو سزا دے سکی اور نہ ہی ان سے پوچھ سکی ’’تسی تے کالا کوٹ قانون اور عدلیہ دی حفاظت لئی پایا سِی تے پیپر ویٹ مار کے، گالیاں دے کے عدالتاں دی تضحیک کرنا تسی کِتھوں سکھیا اے‘‘؟
سندھ کے چیف منسٹر کی بیٹی جب ایک پولنگ ا ٓفیسر کو کیمرہ کے سامنے تھپڑ مارتی ہے اور پھر اِس کے بعد وہی بیٹی ایم این اے بھی ہو جاتی ہے تو اِس کے لئے کیا اس کی ماں ذمہ دار ہے یا استاد؟ اس سے بھی سوال ہو سکتا ہے’ تسی ایہہ بدتمیزی کتھوں سِکھی اے؟‘
تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے کی بیٹی ٹی۔ وی پر پورے اعتماد کے ساتھ کہتی ہے کہ میری دُنیا بھر میں تو کیا پاکستان میں بھی ایک روپے کی بھی جائیداد نہیں ہے اور یہ فقرہ پوری قوم سنتی ہے جس میں اُس کا باپ، بھائی، خلیفہ بننے کا شوقین چچا بھی شامل ہے لیکن پھر پوری قوم نے آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا کہ اس کی کروڑوں نہیں کئی اربوں کی جائیداد نکلنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کمپنیوں میں کروڑوں ڈالروں کے حصص بھی نکل آئے تو میں ابھی تک حیران ہوں نہ تو اِس کے باپ نے پوچھا، نہ بھائیوں نے، نہ چچا نے، نہ ہی اس کا دفاع کرنے والے ٹی وی اینکرز نے نہ ہی اس کے ساتھی ایم این اے اور ایم پی اے نے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی گاڑی پر پھول پھینکنے والےلوگوں نے، نہ ہی اِس قوم نے، نہ ہی ان اساتذہ نے جنہوں نے اس کی جعلی ڈگریوں میں اس کی مدد کی تھی کہ تم نے اِس ڈھٹائی، بے شرمی کے ساتھ جھوٹ بولنا کِتھوں سِکھیا اے ؟تے اپنے مرے ہوئے دادے اور فوت شدہ چچا پر الزام دینا بھی کِتھوں سکھیا اے؟ اس قوم کے لوگوں اور اُن جعلی دانشوروں، کالم نویسوں، اس کے سوشل میڈیا کے ساتھیوں سے بھی یہ سوال بنتا ہے۔’ اینی بے شرمی نال جھوٹ دا ساتھ دینا تسی کِتھوں سکھیا اے؟‘  ایک بڑی کاروباری شخصیت جس نے صحافیوں، سیاستدانوں اور بیورو کریٹس میں آشیانےریوڑیوں کی طرح بانٹ اور ٹی۔ وی پر بیٹھ کر اقرارکیا ہے کہ میرا کام اِس لئے نہیں رُکتا کہ میں فائلوں کے نیچے پہیے لگا دیتا ہوں، کوئی ہے جو اس سے پوچھے یہ پہیے کس سڑک پر چلتے ہوئے کِس طرف جاتے ہیںاور پلاٹ لینے والے کالم نویس اور صحافی کبھی اس سے سوال کرنے کی جرأت کر سکیں گے ’’تسی لوکاں نوں کرپٹ ثابت کر کے کم نکلوانا کِتھوں سِکھیا اے؟ ۔
قلم کا ذِکر اللہ تعالیٰ نے بہت پیارے اور خوبصورت انداز میں کیا ہے ہے کوئی جو آج قلم فروشوں کا ایمان بکنے اور اس قلم کا سودا سرِ عام ہوتا ہوا دیکھنے کے بعد بھی یہ سوال کرنے کی جرأت کر سکے کہ قلم تو ایک مقدس چیز کا نام ہے جس سے آدمی اِنسان بننا سیکھتا ہے تے تسی ایس قلم نوں تے اپنی عزت نوں بیچنا کتھوں سِکھیا اے؟ میں نے اور آپ نے بھی  لاکھوں تاجروں کو ہر سال عمرہ اور حج کی ادائیگی کے لئے جاتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن ہے کوئی جو انہیں ملاوٹ کرنے، کم تتولنے، جعلی دودھ، جعلی، گھی، گوشت میں پانی ملانے، مقدار میں کمی، جھوٹی قسمیں کھانے، سمگلنگ، منی لانڈرنگ، ٹیکس میں جعلی اندراجات، ناجائز منافع خوری سے روک سکے اور ان سے پوچھ سکے کہ ایہہ سارے کم کرنے تسی کِتھوں سِکھے نیں؟