07:44 am
آصف زرداری ہمیشہ انتقام کا نشانہ بنے 

آصف زرداری ہمیشہ انتقام کا نشانہ بنے 

07:44 am

شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے اپنے آپ کو گویا دل شکستہ ملک کے تباہ حال حصےمیں پایا۔ انہیں سوگوار قوم کو تسلی دینا تھی، اس پارٹی کے زخم سینے تھے، جو مضروب و گھائل تھی، آزردہ اور دکھی تھی۔ اتنے بڑے نقصان کا ازالہ آپ کس طرح کرسکتے ہیں؟ آپ آگے کس طرح بڑھیں گے؟ انہوں نے’’پاکستان کھپےٗ؍‘‘ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ویژن ’’جیئے بھٹو‘‘ کو ملاکر رہنمائی پائی۔ تقریباً ہر روز ہونے والے دھماکوں کے باعث ایک ناکام ریاست قرار دیئے جانے سے پاکستان اتنا ہے دور تھا، جتنا سر کے بال آغازی لکیر کے باعث ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں۔ 2008 میں آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو بہت کچھ کرنا تھا۔ یہ آصف علی زرداری ہی تھے، جنہوں نے باوجود سیاسی ہنگامہ آرائیوں و قدرتی آفات، باوجود ہر قسم کی دہشت گردی کے خطرات کے، وہ آگے بڑھے اوراپنی مرحوم اہلیہ کے ویژن کو فروغ دینے کی خاطر کسی قسم کی خونریزی، مواخذے  اور داخلی انتشار کے مشرف کی چُھٹی کرائی اور جمہوریت کی بنیادوں کو ازسرِ نو مضبوط کیا، جس کے لیے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔ 
 
2013 کے عام انتخابات پر شدید تحفظات اور انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو یکساں مواقع کی عدم فراہمی کے باوجود، صدر آصف علی زرداری نے ایک سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی کی سرپرستی کی۔ یہ عمل پاکستان میں جمہوریت کے لیئے انتھائی اہمیت کا حامل تھا۔2018 کے انتخابات کے بعد آنے والے برسوں میں عوام دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر وہی پرانے ہتھکنڈوں کا شکار ہوگیا ہے۔ اب کی بار ان کارستانیوں کے لیے عمران خان کا چہرہ استعمال ہونا تھا۔جنہوںنے ایک مہم چلائی، مکمل طور مبالغہ آرائی پر مبنی انتخابی نعرے دیئے اور تاریخی دعوے کیے کہ وہ 200 ارب ڈالرز واپس ملکی خزانے میں جمع کرائیں گے جو حزب اختلاف کے رہنمائوں نے ملک سے لوٹ کر بیرون ممالک چھپائے ہوئے ہیں۔ گذشتہ 10 سالوں کے دوران اقتدار میں آنے والے سیاسی قائدین کے خلاف جلسوں میں نفرتیں اگلنا، نوجوانوں کو تقسیم پیدا کرنا ، اس مہم کے تمام نعرے پڑھیں تو کہتے ہیں پاکستان میں جتنے بھی مصائب ہیں، اس کا سبب بدعنوانی ہے۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے پاکستان میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بغیر کسی مداخلت کے جمہوریت کو پھلنے پھولنے دیا گیا ہو۔ ایک تکرار آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر مبنی تھی۔ 2018 کے عام انتخابات سے محض ایک ہفتہ قبل، تمام چینلز پر آصف علی زرداری کے خلاف الزامات کی ہذیانی کیفیت اچانک پھٹ پڑی۔ اس معاملے میں بھی ٹائمنگ کی مماثلت ہیلری کلنٹن کے خلاف ای میل ایشو جیسی تھی۔ 7 جون 2018 کو ایف آئی اے کی جانب سے ایک ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں چند نجی بئنکس کے درمیان رقم کی منتقلی پر سوالات اٹھائے گئے۔ انویسٹی گیشن افسر وہی ہوتے ہیںجنہوں نے ماضی میں دورانِ حراست آصف علی زرداری پر مبینہ تشدد کے لیئے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا اور ان کے خلاف اس معاملے پر ایک مقدمہ بھی زیرالتوا تھا۔ یہ واضح ہوچکا تھا کہ یہ ایک ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے اور ایک ہی آدمی کے خلاف ہے۔ آنے والے چند ہفتوں کے دوران، آصف علی زرداری کے خلاف بینکنگ کورٹ کراچی میں زیرسماعت معاملات کو اچانک ملک کی سب سے بڑی عدالت، سپریم کورٹ اسلام آباد کے سامنے یہ کہہ کر رکھے دیئے جاتے ہیں کہ جعلی بینک اکاوَنٹس کے متعلق تحقیقات سست روی کا شکارہیں۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا، جس کی قانون میں کوئی نظیر نہیں ملتی کہ نجی بینکوں کے درمیان رقم کی منتقلی کے متعلق ایک پئنڈنگ انکوائری کو سست روی کا شکار تصور کیا جائے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس وقت slackness کیسے قانونی جواز بن جاتی ہےجب شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل(1979 ) کیا جاتا ہے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ (2007) دہائیاں گذرنے کے باوجود تاحال معزز عدالتوں میں زیرِ التویٰ ہیں۔  9 جولائی 2018 کو، ازخود نوٹس لیئے جانے بعد، سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے نام ای سی ایل میں شامل کیئے جائیں۔ الیکشن مہم کو روکنے کی تمام کوششوں کےباجود وہ 26 جولائی 2018 کو اپنے حلقے سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔وہ دن جب ایوان وزیراعظم کو منتخب کرنے کے لیئے جمع ہوا، آصف علی زرداری کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر دیئے گئے، بجائے اس کے کہ وہ پارلیمان میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے، ضمانت کے لیئے عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کردیئے گئے۔
  عوام کو بہت جلد اندازہ ہوگیا کہ تحریک انصاف حکومت کرنے جیسی ذمہ داری کے کبھی لائق تھی ہی نہیں۔ اس حکومت کے ویژن کے متعلق غلط مفہوم نکالا گیا تھا۔ انہوں نے قوم کو لاکر اب یہاں کھڑا کیا ہے۔ تضادات میں جکڑی ہوئی ایک ایسی حکومت جو تذبذب کا بری طرح شکار اور مکمل طور ناکارہ ہے۔  انہوں نے جو کمال حاصل کیا ہے وہ ایسا طرزِ حکومت ہے کہ حزب اختلاف کے خلاف دشنام طرازی کر کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹایا جائے، آزدی پر قدغنیں لگائی جائیں، صحافت  اور عوام کے حقوق سلب کیئے جائیں۔ وہ ان تمام پیشقدمیوں کو ختم کرنا چاہتے تھے، جو آصف علی زرداری نے اپنے دورِ حکومت میں حاصل کیں تھیں اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بھاری مینڈیٹ والی حکومت کو   غیر مستحکم کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے  18ویں ترمیم کے خلاف کھلم کھلا مخالفت کی اور یہ سوال کرنے لگے کہ صوبوں کو فنڈز کیوں دیئے جائیں۔
(جاری ہے)
27 دسمبر 2018، کو تحریک انصاف کے رہنمائوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ وہ سندھ میں اپنی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چند گھنٹوں کے بعد، پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ کئی منتخب اراکین، بشمول چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، کے نام ای سی ایل میں شامل کردیئے گئے۔ قانونی طور مذکورہ اقدام کے لیئے ایک رتی برابر بھی گنجائش محال تھی، لیکن یہ آمریت اور حزب اختلاف کے تمام رہنماوَں کو جیلوں میں بند کرکے ایک پارٹی کی حکومت مسلط کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔  
7 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کو نیب راولپنڈی منتقل کیا جائے اور اس کے ساتھ یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ اب یہ تحقیقات بھی وہی کریں گے۔ اگرچہ نیب متنازعہ ادارہ ہےجس کو ایک فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے(جو بذاتِ خود اب نیب کے مفرور ملزم اور سوئس بنک اکاوَنٹس، دنیا بھر میں جائیدادیں، میں مطلوب ہیں) بنایا تھا، جس کا مقصد فقط مخالف سیاستدانوں پر دباوَ ڈالنا، ہراساں کرنا اور منتخب حکومتوں کو گرانا تھا۔
جون 2019 ءتک آصف علی زرداری جے آئی ٹی اور نیب کی طلبی پر پیش ہوتے رہےاور 10 جون 2019 کو انہیں نیب کے سیل میں منتقل کردیا گیا۔ 13 جون 2019 کو نیب کی جانب سے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولاجی میں ان کے طبی معائنے کا بندوبست کیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ وہ کتنے علیل ہیں۔ 11 سالوں پر محیط قید و بند کی صعوبتیں اور اس دوران تشدد نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ میڈیکل رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ان کی دل کی تین شریانیں بری طرح بلاک ہیں اور ان کی شگر لیول کنٹرول نہیں ہو رہی جس سے ان کی صحت مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود انہیں 16 اگست 2019 کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور تاحال وہاں پر ہیں۔ انہیں بی کلاس کی 12x12 کی ایک کھولی اور مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیںہو پایا کہ آیا انہیں جیل میں ایک عدد ایئرکنڈیشنڈ فراہم کیا جانا چاہیے بھی کہ نہیں۔ ان کے وکیل اور خاندان کے افراد کو ان سے ملنے نہیں دیا جارہا جو کہ انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں، وہ پاکستان کے سابق صدر، قانون پسند شہری ہیں، مقدمہ چلنے سے پہلے ہی ان کے ساتھ اختیار کیا گیا برتائونہ فقط بلاجواز ہے بلکہ مجرمانہ غفلت ہے جس کا مقصد انہیں نقصان پہنچانا ہے۔   
29 اگست 2019 میڈیا نے بریکنگ نیوز چلائیں کہ آدھی رات کو انہیں جیل سے دل کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اگلی صبح میری ہمشیرہ آصفہ انہیں دیکھنے کے لیئے ہسپتال پہنچیں لیکن وہ ہمارے علیل والد کی دور سے فقط ایک جھلک ہی دیکھ سکی، کیونکہ اسے ملنے نہیں دیا گیا اور عدالتی حکمنامہ دکھانے کے باوجود اسے پولیس نے ہسپتال کے دروازے پر روک دیا اور بدتمیزی کی۔ ہسپتال کے دروازے بند کرکے وہاں رکاوٹیں لگادی گئیں، حتیٰ کہ مریضوں کو بھی اندر جانے یا باہر نکلنے سے روک دیا گیا تھا۔ 
میں یہاں پر یاددہانی کرانا چاہتی ہوں کہ وہ ملک کے سابق صدر ہیں، دہشتگرد یا دشمن ملک کے پائلٹ نہیں ہیں۔ تاحال ان کے خلاف باضابطہ کوئی الزام بھی نہیں لگایا گیا؛ ریفرنسز تاحال زیرالتویٰ جبکہ تحقیقات اور مقدمہ بھی شروع نہیں ہوا۔  انہیں اسی دن ہی بڑی عجلت میں اسپتال سے دوبارہ اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا اور حتیٰ کہ علاج مکمل ہونے بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی اسپتال سے ڈسچارج فارم لینے کی زحمت اٹھائی گئی۔ اس بار اسپتال میں علاج معالجے کے حوالے سے ہمیں یا ان کے وکلاء کو تاحال کسی قسم کی بھی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔  ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ عدالتی احکامات کو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نظرانداز کردیا گیا تھا۔ ہمیں عید کے دنوں میں ملاقات کی اجازت تھی، لیکن ایک قیدی کے انتھائی بنیادی حقوق ہی سلب کردیئے گئے۔ میں ان تمام واقعات کو اس لیئے بیان کر رہی ہوں، تاکہ سب کو پتا چلے پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ تحریک انصاف کے وزیرِ داخلہ، جو مشرف کے دورِ اقتدار کے دوران بھی اسی عہدے پر برجمان تھے، کو میری والدہ کے قتل میں ملوث قرار دیا گیا اور اب اسے یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ بذاتِ خود آصف علی زرداری کے علاج معالجے کی نگرانی کریں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ یہ ایک ظالم حکومت ہے، جو ہمارے والد کی جان کے درپے ہے۔ 
صدر آصف علی زرداری نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیئے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسے شخص ہیں جس کے خلاف ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ چھان بین، تحقیقات اور مقدمات چلائے گئے، لیکن ان کے خلاف کوئی ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا۔ باوجود اس کے کہ من گھڑت الزامات کی بنیاد پر انہیں 11 سال تک قید میں رکھا گیا، لیکن آج کے دن تک ان کے خلاف ایک چھوٹا سا الزام بھی ثابت نہیں ہوا، اور آج ایک بار پھر انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے، وہ شہر جہاں 2007 میں میری والدہ محترمہ کو شہید کردیا گیا تھا۔ میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا بس یہ قصور تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہے‘‘ اور اس کی پاداش میں انہیں من گھڑت الزامات کی بنیاد پر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔میر ی والدہ، بینظیر بھٹو، فقط اس لیئے جلاوطنی ختم کرکے وطن لوٹیں تھیں کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں، لیکن انہیں بھی ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے ‘‘کہنے پر شہید کردیا گیا۔ میرے والد محترم، آصف علی زرداری، نے ’’جیئے بھٹو‘‘کا نعرہ بلند کیا ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ اس نے اُن (شہید بھٹو اور شہید بی بی ) کے جمہوریت کے متعلق ویژن کو پاکستان میں فروغ دینے میں سرخرو ہوئے ہیں۔ اب مذموم عزائم یہ ہیں کہ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر توڑا جائے، کیونکہ وہ نئے احکامات ماننے سے انکاری ہے۔ فقط وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ اسے کیسے یاد رکھا جائے گا، لیکن وہ وقت ابھی نہیں آیا۔
27 دسمبر 2018، کو تحریک انصاف کے رہنمائوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ وہ سندھ میں اپنی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چند گھنٹوں کے بعد، پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ کئی منتخب اراکین، بشمول چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، کے نام ای سی ایل میں شامل کردیئے گئے۔ قانونی طور مذکورہ اقدام کے لیئے ایک رتی برابر بھی گنجائش محال تھی، لیکن یہ آمریت اور حزب اختلاف کے تمام رہنماوَں کو جیلوں میں بند کرکے ایک پارٹی کی حکومت مسلط کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔  
7 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کو نیب راولپنڈی منتقل کیا جائے اور اس کے ساتھ یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ اب یہ تحقیقات بھی وہی کریں گے۔ اگرچہ نیب متنازعہ ادارہ ہےجس کو ایک فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے(جو بذاتِ خود اب نیب کے مفرور ملزم اور سوئس بنک اکاوَنٹس، دنیا بھر میں جائیدادیں، میں مطلوب ہیں) بنایا تھا، جس کا مقصد فقط مخالف سیاستدانوں پر دباوَ ڈالنا، ہراساں کرنا اور منتخب حکومتوں کو گرانا تھا۔
جون 2019 ءتک آصف علی زرداری جے آئی ٹی اور نیب کی طلبی پر پیش ہوتے رہےاور 10 جون 2019 کو انہیں نیب کے سیل میں منتقل کردیا گیا۔ 13 جون 2019 کو نیب کی جانب سے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولاجی میں ان کے طبی معائنے کا بندوبست کیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ وہ کتنے علیل ہیں۔ 11 سالوں پر محیط قید و بند کی صعوبتیں اور اس دوران تشدد نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ میڈیکل رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ان کی دل کی تین شریانیں بری طرح بلاک ہیں اور ان کی شگر لیول کنٹرول نہیں ہو رہی جس سے ان کی صحت مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود انہیں 16 اگست 2019 کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور تاحال وہاں پر ہیں۔ انہیں بی کلاس کی 12x12 کی ایک کھولی اور مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیںہو پایا کہ آیا انہیں جیل میں ایک عدد ایئرکنڈیشنڈ فراہم کیا جانا چاہیے بھی کہ نہیں۔ ان کے وکیل اور خاندان کے افراد کو ان سے ملنے نہیں دیا جارہا جو کہ انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں، وہ پاکستان کے سابق صدر، قانون پسند شہری ہیں، مقدمہ چلنے سے پہلے ہی ان کے ساتھ اختیار کیا گیا برتائونہ فقط بلاجواز ہے بلکہ مجرمانہ غفلت ہے جس کا مقصد انہیں نقصان پہنچانا ہے۔   
29 اگست 2019 میڈیا نے بریکنگ نیوز چلائیں کہ آدھی رات کو انہیں جیل سے دل کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اگلی صبح میری ہمشیرہ آصفہ انہیں دیکھنے کے لیئے ہسپتال پہنچیں لیکن وہ ہمارے علیل والد کی دور سے فقط ایک جھلک ہی دیکھ سکی، کیونکہ اسے ملنے نہیں دیا گیا اور عدالتی حکمنامہ دکھانے کے باوجود اسے پولیس نے ہسپتال کے دروازے پر روک دیا اور بدتمیزی کی۔ ہسپتال کے دروازے بند کرکے وہاں رکاوٹیں لگادی گئیں، حتیٰ کہ مریضوں کو بھی اندر جانے یا باہر نکلنے سے روک دیا گیا تھا۔ 
میں یہاں پر یاددہانی کرانا چاہتی ہوں کہ وہ ملک کے سابق صدر ہیں، دہشتگرد یا دشمن ملک کے پائلٹ نہیں ہیں۔ تاحال ان کے خلاف باضابطہ کوئی الزام بھی نہیں لگایا گیا؛ ریفرنسز تاحال زیرالتویٰ جبکہ تحقیقات اور مقدمہ بھی شروع نہیں ہوا۔  انہیں اسی دن ہی بڑی عجلت میں اسپتال سے دوبارہ اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا اور حتیٰ کہ علاج مکمل ہونے بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی اسپتال سے ڈسچارج فارم لینے کی زحمت اٹھائی گئی۔ اس بار اسپتال میں علاج معالجے کے حوالے سے ہمیں یا ان کے وکلاء کو تاحال کسی قسم کی بھی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔  ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ عدالتی احکامات کو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نظرانداز کردیا گیا تھا۔ ہمیں عید کے دنوں میں ملاقات کی اجازت تھی، لیکن ایک قیدی کے  بنیادی حقوق ہی سلب کردیئے گئے۔ میں ان تمام واقعات کو اس لئے بیان کر رہی ہوں، تاکہ سب کو پتا چلے پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ تحریک انصاف کے وزیرِ داخلہ، جو مشرف کے دورِ اقتدار کے دوران بھی اسی عہدے پر برجمان تھے، کو میری والدہ کے قتل میں ملوث قرار دیا گیا اور اب اسے یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ بذاتِ خود آصف علی زرداری کے علاج معالجے کی نگرانی کریں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ یہ ایک ظالم حکومت ہے، جو ہمارے والد کی جان کے درپے ہے۔ 
صدر آصف علی زرداری نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسے شخص ہیں جس کے خلاف ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ چھان بین، تحقیقات اور مقدمات چلائے گئے، لیکن ان کے خلاف کوئی ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا۔ باوجود اس کے کہ من گھڑت الزامات کی بنیاد پر انہیں 11 سال تک قید میں رکھا گیا، لیکن آج کے دن تک ان کے خلاف ایک چھوٹا سا الزام بھی ثابت نہیں ہوا، اور آج ایک بار پھر انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے، وہ شہر جہاں 2007 میں میری والدہ محترمہ کو شہید کردیا گیا تھا۔ میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا بس یہ قصور تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہے‘‘ اور اس کی پاداش میں انہیں من گھڑت الزامات کی بنیاد پر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔میر ی والدہ، بینظیر بھٹو، فقط اس لئے جلاوطنی ختم کرکے وطن لوٹیں تھیں کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں، لیکن انہیں بھی ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے ‘‘کہنے پر شہید کردیا گیا۔ میرے والد محترم، آصف علی زرداری، نے ’’جیئے بھٹو‘‘کا نعرہ بلند کیا ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ اس نے اُن (شہید بھٹو اور شہید بی بی ) کے جمہوریت کے متعلق ویژن کو پاکستان میں فروغ دینے میں سرخرو ہوئے ہیں۔ اب مذموم عزائم یہ ہیں کہ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر توڑا جائے، کیونکہ وہ نئے احکامات ماننے سے انکاری ہے۔ فقط وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ اسے کیسے یاد رکھا جائے گا، لیکن وہ وقت ابھی نہیں آیا۔
 

تازہ ترین خبریں