07:46 am
انجام کیلئے تیارہوجا!

انجام کیلئے تیارہوجا!

07:46 am

کیاکہنے،کیابات تھی،منہ سے پھول جھڑتے تھے۔خوشبوکی برسات تھی اورمحبتوں کی بارش۔میں بہت نہایا۔ لطف،کرم اور عنائت۔ ہاں انسان تھے، کبھی کبھار لہجہ بدل جا تا تھا ، چہرہ سرخ ہوجاتااوربات کرتے کرتے آوازرندھ جاتی، آنکھیں  برسنے لگتیں۔ بہت دیرتک سب روتے اورپھرسکینت اترتی اور سکون چھا جاتا۔ ایسے تھے وہ،محبت کا پیکر، جسے چھولیامحبت بن گیا۔ چہارسو مسکراہٹ،امیدکاجھونکا، نسیم صبح۔ہرحال میں دیکھا ۔ ہنستے ہوئے بھی،روتے ہوئے بھی،گاتے ہوئے بھی،بے خودناچتے ہوئے بھی۔اذان کی آواز آتے ہی ان کی آوازگونجتی’’ چلوجی بلاواآ گیا،تیری آوازمکے مدینے،ہاں ہاں آرہا ہوں، تیرے محفل سے گیاہی کب تھاکہ بلارہا ہے! صدقے  جاں قربان جاں،چلوجی بلاواآیا ۔‘‘
 
بارش کاموسم ہمیشہ میرے لئے...چلئے چھوڑئیے۔کالی گھٹاچھاجاتی اورآسمان کی آنکھیں برسنے لگتیں،تب میں پکارتاــ’’بہت بھرگیا ہے ناں وہ اب خالی ہوگااور ہمیں بھرے گا ۔ اب ہم کہاں جا ئیں گے برسنے کیلئے،خالی ہونے کیلئےــ‘‘پہلے بہت ہنستے اورپھرمیراہاتھ پکڑکر کہتے چل!میں پوچھتا،کہاں؟وہ کہتے" رب کی شان دیکھیں گے،پودے دیکھیں گے، درخت دیکھیں گےہم کھیتوں کی راہ لیتے۔ راستے بھرمیں گنگناتے جاتے’’پیلوپکیاں نے، پکیاں نیں وے،آچنوں رل یار‘‘
’’یہ توبتائیے برسات رک جاتی ہے لیکن یہ درخت اتنی دیرتک کیوں برستے رہتے ہیں؟‘‘
’’کیاہوگیاہے تجھے‘‘؟
’’یہ تومیرے سوال کاجواب نہیں ہے‘‘ توکہتے ’’وہ دیکھ سارے درخت دھل کرکیسے نکھر گئے ہیں‘‘جی ہاں،ایک دن میں نے پوچھا تھا ’’درخت تونکھرگئے ہیں مگرہم کب نکھریں گے ؟ ‘‘  بہت دیرروئے لیکن جواب بالکل نہ دیااورمجھے بھی اصرارکی ہمت نہ ہوئی۔
وہ توبارش کی طرح آیا،برس کرچل دیا
اس نے کب دیکھاکہ کتنی دیرتک رویاشجر
میں کہیں اورنکل رہاہوں،مجھے آپ سے کوئی اوربات کرنی تھی اورنجانے میں کیاکیاکہہ رہا ہوں۔ بس میرے پاس باتیں ہی باتیں ہیں اورآپ کودیکھ کربے شمار سوالات جمع ہو جاتے ہیں۔تھوڑے سے وقت میں بہت سے سوالات کاجواب لینے کی آرزو میں ڈھنگ کاتسلسل بھی قائم نہیں رہتا۔بے ربط گفتگو سے بھی خوف آتا ہے کہ وقت کاضیاع ان کو بالکل پسندنہیں۔ایک دن کہنے لگے’’اللہ جیسا دوست،محبت کر نے والا،شفقت کرنے والاتوکوئی ہے ہی نہیں‘‘!
’’اچھاجی وہ کیسے‘‘میں نے پوچھاتھاان سے،اور پھردریابہنے لگا!
’’دیکھ وہ پکارتاہے آناں میرے گھر، تو کہاں  جارہاہے؟میں تجھے بلارہاہوں پیارسے،آناں میرے گھر۔کوئی اس طرح پیارسے بلائے اورمیں نہ جاں اس کے گھر ، تووہ کتنارنجیدہ ہوتا ہے! اورجب بلابلاکرتھک جائے توکہتاہے:چل تیری مرضی، مت آ۔تھک جاتاہے،مایوس ہو جاتا ہے، گھرنہیں بلاتا، رابطہ ختم ،لیکن اللہ نہیں چھوڑتا بلانا۔دن میں پانچ بار آواز دیتا ہے۔ آناں، آناں میرے گھر اورجب بندہ نہیں جاتا اس کے پاس، تووہ کہتاہے چل تونہیں آرہا،تجھے فرصت نہیں ، تجھے بہت کام ہیں،توچل مجھے بلا لے اپنے گھر اورپھربھی ہم نہیں سنتے،تب وہ کہتا ہے:تومجھے چھوڑبیٹھاہے،بھول بیٹھاہے،توہے ہی ایسالیکن میں نے تجھے پیداکیاہے،میں توتجھے کبھی نہیں چھوڑسکتا تو وہ پھراس کے ساتھ ساتھ رہتاہے، خاموش۔ہم نجا نے کہاں کہاں منہ مارتے پھرتے ہیں، نجا نے کس کس جگہ اپناسرجھکاتے ہیں،خوشامد کرتے ہیں، سفارش کرتے ہیں، جائزوناجائز کرتے ہیں، حق تلفی کرتے ہیں،خیانت کرتے ہیں،منافقت کرتے ہیں،جھوٹ بولتے ہیں، کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔مکاری اورریا کاری کرتے ہیں، دھوکا دیتے ہیں، اعتبا ر توڑتے ہیں،معصومیت سے کھیلتے ہیں،لوگوں کوزندہ درگورکردیتے ہیں، ان کی مجبوریوں سے ناجائزفائدہ اٹھا تے ہیں،محبت کے نام پرہوس میں مبتلا ہیں،دوسروں کے مال پرنظر رکھتے ہیں،اسے ہتھیانے کے ڈھونگ رچاتے ہیں۔دن رات جھوٹی قسمیں کھا کر دوسروں کامال غصب کرتے ہیں،اپنی مجالس میں اجتماعی طورپرغیبت اورچغلی مشغلہ کے طورپر اختیارکئے ہوئے ہیں،لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کی بجائے توڑنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں۔
نجا نے کیاکیاکرتے ہم،اوراتنابھی نہیں جانتے کہ وہ جسے ہم بھلابیٹھے ہیں،ہمارے ساتھ ساتھ ہے، سب کچھ دیکھ رہاہے،سب کچھ سن رہاہے اورہمارے دلوں کے بھید وں سے بھی باخبرہے۔ ہماری ہرمنافقت سے آگاہ ہے،لیکن ہم بازہی نہیں آتے چاہے کچھ کرلو...کہیں نہیں چھپ سکتے اس سے،چھپ ہی نہیں سکتے،ہم بہت بے شرم ہیں ۔ جناب خواجہ اجمیرؒ نے کیاخوب کہا’’رب سے ا تنی حیاتوکرجتنی تواپنے پڑوسی سے کرتاہے‘‘۔لیکن نہیں،ہمیں توکچھ سمجھ ہی نہیں آتی،تب آتی ہے جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے، بلانے والا اپناقاصدبھیج دیتاہے کہ چل ختم ہوئی کہانی....بس بس،بہت جمع کرلیاسامان،اب اسے چھوڑنا ہے،ساتھ توکوئی بھی لے کرنہیں گیا۔ بہت ہلکان ہوگیاتھا ناں،اسے جمع کرتے کرتے! توچل اب یہی ہے انجام۔دوگزکفن کاٹکڑالے اور چل۔بہت پسندکرتاتھااپنے لئے کپڑے، خوشبوکوچھوڑ کافورمیں بس،اورچل۔مجھے کب سمجھ  آئے گی،مجھے کب سمجھ آئے گی۔بہت دیر ہوگئی  ناں!
ہاں میں نے انہیں ہرحال میں دیکھاہے ہنستے ہوئے بھی اورروتے ہوئے بھی،گاتے ہوئے بھی اورناچتے ہوئے بھی،ان سب نے میرے لئے راستے آسان کئے،ہر فلسفہ پا نی کر دیا،وہ سب میرے اندرمیرے ساتھ رہتے ہیں،میرے یاربیلی،جن سے میں آج بھی ہربات پوچھ لیتااور مسکراتے ہوئے جواب پاتاہوں۔
جاناہے،چلے جاناہے،کسی کوبقاء نہیں ہاں ایک ہی گرہے،اس کے بن جاؤ،وہ تمہیں امرکردے گا۔اسی کوسجدو کروہ ہزارسجدوں سے نجات دلادے گا،اسی کا خوف دل میں رکھو، اغیارکے تمام خوف سے تمہیں آزادکردے گا۔ اس کے سا منے جھکناسیکھوجوساری دنیاکوتمہارے لئے مسخرکردے گا۔بے گناہ اوربے قصور افراد کو رہا ئی دلاؤ،وہ تمہیں حزن وملال سے رہاکردے گا۔جن کے گھروں کواغیارکیلئے بربادکیاہے ان گھروں کوآبادکرووہ تمہیں دنیااورآخرت میں آباد کرے گا۔ جن کوفاسفورس کے بموں سے خاکستر کردیاہے اس گناہ عظیم کی برملا معافی مانگو اوراتنی دیرتک اس عمل کوجاری رکھوجب تک ان کے اقربامعاف نہ کردیں ۔لوگوں کو بھوک، مہنگائی، ناانصافی،بدامنی ،منافع خوری اورغربت کے سیلاب سے بچانے کی تدبیرکرو،وہ تمہیں ہر قسم  کی افتادکے سیلاب سے محفوظ کردے گا۔ جلدی کرو کہ مہلت کاوقت ختم ہورہا ہے۔ اگراب بھی خالق کائنات کی طرف رجوع نہیں کیا تو پھر عبرتناک اورشرمناک انجام کیلئے تیارہوجا!
گلیوں میں میری لاش کوکھینچے پھروکہ میں
جا ندادہ  ہوائے راہ گزر تھا میں