07:47 am
متوقع تبدیلی  اقتدار کا ممکنہ  مدوجذر

متوقع تبدیلی  اقتدار کا ممکنہ  مدوجذر

07:47 am

عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کے خلاف متحرک کچھ کالم نگاروں نے بار بار ان پر ’’روحانی دست غیب‘‘ کی موجودگی کا ذکر کرکے وزیراعظم عمران خان پر ’’طنز‘‘ کیا ہے کہ ان کی سیاسی فیصلہ سازی تو ان کی زوجہ محترمہ  کی مرہون منت ہے اور اس کے سبب ہی  ہے ان کے سیاسی فیصلے ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ عرض ہے کہ نصیب‘ قسمت  یہ ایک روحانی حقیقت ہے ۔  میرا وجدانی فہم ہے کہ اگر بشریٰ بی بی عمران خان جیسے غیر مستحکم روئیے اور سخت گیر کی زوجہ نہ بنتی تو عمران خان میں استحکام آتا نہ ٹھہرائو اور نہ ہی استقامت و صبر کا سیاسی پھل ان کو ملتا۔ مرد کا صالح عورت سے نکاح کرنا‘ قسمت‘ نصیب‘ لک میں بنیادی تبدیلی لاتا ہے اور ارتقاء ملتا ہے۔ صالح سے میری مراد طباع کا ہم مزاج ہونا بھی  بہت ضروری ہے۔ جس گھر میں صالح اور روحانی وجود ہو‘  ذکر الٰہی موجود ہو‘ نمازوں کی ادائیگی ہو‘ عبادت کے طور پر نیکیوں کا سفر طے ہوتا ہو وہاں تقدیر بھی تدبیر  کا نام ہوتی جاتی ہے۔ ناکامیوں کی تقدیر کے تدبیر ہو جانے کا نام سورہ الرحمان کی آیت نمبر29میں ہے۔ کہ ’’اللہ تعالیٰ سے ہر ذی روح جو بھی زمین و آسمان میں ہے‘ ہر لمحہ سوال کرتا ہے ‘اس کے سبب ہی تو ہر دن اللہ تعالیٰ  فیاض بن کر عطاء فرماتے رہتے ہیں‘‘ 
 
اگر عثمان بزدار کی سفارش روحانی دست غیب کے سبب ہوئی تھی تو ہی  انہیں اقتدار ملا ہوگا مگر یہ ان کا نصیب بھی تھا۔ ان کی شدید مخالفت کے باوجود تاحال ان کے منصب وزارت اعلیٰ سے فوراً الگ ہونے کے بارے میں مجھے تو ہرگزیقین نہیں ہے۔ بظاہر ان کی جو کمزوری اور عاجزی ہے  اصل میں تو وہی ان کی سب سے بڑی قوت اور ان کی بقاء کا راز ہے۔
بظاہر عمران خان اگلے دو ماہ کے لئے کافی زیادہ مخالف دورانیے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اکتوبر اور نومبر کے مہینے ان کے منصب‘ حکومت کے لئے فیصلہ ساز ہونے جا رہے ہیں۔ انڈیا سے جنگ کی بابت اکتوبر کے پہلے ہفتے اور آخری عشرے میں اتہ پتہ معلوم ہو جائے گا کہ جنگ ہونے جارہی ہے یا امن؟ عمران خان کے لئے اگلے دو ماہ  ’’میک‘‘ اور ’’بریک‘‘ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔  اتوار کو ہی کنور دلشاد نے اپنے ’’تبدیلی کے آثار‘‘ کالم میں چوہدری نثار علی خان کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی بات لکھی ہے اور یہ کہ جنرل وحید کاکڑ فارمولے پر عمل درآمد سے عمران خان کی صورت میں موجود عثمان بزدار سمیت سارے بندوبست کا خاتمہ ہونے جارہا ہے۔ اگر ایسا ہونا ’’مقدر‘‘ ہے تو یہ نومبر میں وقوع پذیر ہوسکتا ہے کہ جنرل باجوہ (پیدائش 11نومبر1960ء شخصیت سکاروپیو) اور فوج نومبر میں بہت زیادہ دبائو کے سبب بہت زیادہ جارحانہ روئیے پرکاربند ہوسکتے ہے۔ ایسا جارحانہ رویہ یا تو انڈیا سے متوقع جنگ کی جھلک دکھائی دینے کے سبب جنم لے سکتا ہے۔ شاید داخلی سیاسی عدم استحکام کے سبب یا دونوں کے سبب ویسے چوہدری نثار علی (تاریخ پیدائش31 جولائی 1954ء  شخصیت لیئو) متوقع وزیراعلیٰ پنجاب بنتے فی الحال یہ دکھائی نہیں دیتے البتہ اسپیکر قومی اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی (تاریخ پیدائش یکم نومبر1946ء‘  سکارپیو) ممکن ہے کہ وہ زیر غور آجائیں چلیئے مان لیتے ۔ لیئو حضرات  اکثر منقار زیر پر ہیں‘ البتہ خدشہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی سکار پیو ہونے کے سبب بہت زیادہ فعال ہو کر کچھ سرکش ہو جائیں کہ  سکارپیو نومبر میں بہت فعال و سرکش ہو سکتے ہیں۔ جیسے کہ مریم نواز (تاریخ  پیدائش 28اکتوبر1973ء ‘سکارپیو) بہت سرکش اور فعال ہوسکتی ہیں لہٰذا سکارپیو شدید سرکش ہوتی شخصیات کا فطری تصادم سکارپیو جنرل باجوہ سے وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔ اگر کسی کو اقتدار‘  منصب عزیز  ہے تو اسے سکارپیو باجوہ سے بہت زیادہ نرمی‘ احترام اور عزت سے معاملات طے کرنا ہونگے ورنہ جو موجود ہے وہ بھی جاسکتاہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شیخ رشید (تاریخ پیدائش9نومبر1952ء) بھی سکارپیو ہیں مگر ان کا سکارپیو ہونا ان کے لئے اکثر منصب و عہدہ ہی  لاتا ہے وہ بوقت ضرورت بہت زیادہ لچکدار بلکہ عاجزی سے خدمت کرتے راستے پر گامزن ہو جاتے ہیں جیسا کہ آج کل  وہ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ ویسے تو مشاہد حسین سید بھی (پیدائش 2نومبر1952ء) سکارپیو ہیں مگر وہ سینٹر شپ تک ہی آسکے ممکن ہے انہیں ان کی نرم مزاجی  اور سیاسی لچک کے سبب مستقبل میں نیا مقام مل جائے۔  
نجوم‘ پامسٹری یہ سب کائنات کا مطالعہ کرتے ریاضی جیسے علوم کی بنیاد پر محض قیاس و قیافہ کی ترقی یافتہ شکل ہیں۔ ضرور نہیں  ہر کہی ہوئی ان کی بات درست ثابت ہو جائے بلکہ اکثر نجومیوں کی پیشن گویاں غلط بھی ثابت ہو جاتی ہیں مگر صالحیت‘ ذکر الٰہی‘ روحانی وجود بننا یا ان کی رفاقت میسر آنا ہمیشہ نفس مطمعئنہ بناتا اور جو جو بھی اس  روحانی اور صالح کردار کے اردگرد ہو وہ رحمت خداوندی سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں۔  میری وجدانی کیفیت بتاتی ہے کہ عمران خان  کو بہت زیادہ مشکلات کے دوران کہیں سے  اللہ تعالیٰ کے حکم سے اچانک غیبی مدد مل جائے گی۔ ان شاء اللہ  اگر وہ اکتوبر نومبر کو اپنے حسن تدبر اور فراست ‘  نرمی‘ لچک دار روئیے سے گزار گئے تو ان شاء اللہ وہ موجود و برقرار رہیں گے ویسے انہیں کابینہ  اور کچھ  معاونین   تو لازماً تبدیل کرنا ہونگے جبکہ  ماہرین نجوم کے نزدیک نومبر‘ دسمبر میں نظام حکومت تبدیل ہونا ممکن ہو سکتا ہے ان حوالوں سے پروفیسر غنی جاوید24-17-4 نومبر کے اردگرد مواقع کونہایت  غور سے زیر مطالعہ لاتے ہیں جبکہ نواز شریف کو نومبر کے اواخر میں ایک ڈیڑھ ماہ کا کوئی ریلیف بھی مل سکتا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
پس تحریر: مدبر اور مستقبل بین مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمنٹ کی شدید ضرورت ہے کہ وہ اب اقتدار میں آئیں لہٰذا وہ دلیر بنیں نئی قیادت (مگر شہباز و نثار علی) ہرگز نہیں کے ذریعے عمران خان سے فوراً اتحاد کریں یوں نہ صرف ملک کی عظیم جمہوری خدمت کریں گے بلکہ ذاتی فوائد‘ سیاسی اقتدار بھی حاصل کرلیں گے۔ نواز شریف‘ مریم نواز‘ شہباز شریف‘ حمزہ شہباز کا دور دور تک اقتدار سے تعلق نہیں ہے۔ مخلص لیگی کیوں خود کو ان کے خادم بن کر تباہ کرتے ہیں؟ 27اکتوبر کو مولانا کے لاک ڈائون ‘ احتجاج کے سبب اگر مارشل لاء لگا تو بہت بے رحم ہوگا۔