07:49 am
پاکستان کے خلاف کابل میں لوئی جرگہ

پاکستان کے خلاف کابل میں لوئی جرگہ

07:49 am

٭کابل: پاکستان کے خلاف افغان صدر کا بڑا جرگہ، پاکستان سے محمود اچکزئی، اسفند یار ولی، آفتاب شیرپائو کی شرکتO سعودی عرب پرحملہ بھاری نقصان، ایران پر حملے کا الزام، ایران کا انکارO گھوٹکی! سینکڑوں مسلمانوں نے رات بھر مندرکی حفاظت کی 50 افراد کے خلاف مقدمےO کراچی:حکومت کچرا اٹھائے گی، وزیراطلاعاتO مقبوضہ کشمیر، سپریم کورٹ کا کرفیو ہٹانے کا حکمOلیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی معافی،معاملہ ختمO مریم نواز ن لیگ کی نائب صدر برقرار۔ الیکشن کمیشن۔
 
٭کابل میں امریکہ اور بھارت کے کٹھ پتلی صدر اشرف غنی نے آج سے شروع ہونے والا سہ روزہ لوئی جرگہ (بڑا جرگہ) بلایا ہے اس میں شرکت کے لئے پاکستان کے پشتون لیڈروں، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی اور آفتاب شیرپائو کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کی شرکت یا عدم شرکت آج واضح ہو جائے گی۔ اہم بلکہ اہم ترین بات یہ ہے کہ اس جرگہ کے ایجنڈے کی اہم ترین شق یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کی بیرونی امداد سے چلنے والی جنگجو ملیشیا تنظیمیں افغانستان میں دہشت گردی کر رہی ہیں۔ پاکستان کے خلاف یہ ایجنڈا ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب صرف تین روز قبل افغانستان کی طرف سے فائرنگ سے پاکستان کے پانچ فوجی جوان شہید ہو گئے! اس دہشت گردی کی مذمت کی بجائے افغان صدر پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا رہا ہے۔ ایک قاری نے اشرف غنی کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف زہر فشانی کے لئے لندن سے الطاف حسین اور دہلی سے نریندر مودی کو بھی جرگہ میں بلایا جانا چاہئے۔ نریندر مودی کی طرح اشرف غنی کا خون اتنا زہر آلود ہو چکا ہے کہ وہ کئی بار پاکستان آ چکا ہے، اعلیٰ ترین ضیافتیں کھا چکا ہے مگر ہر بار واپس جاتے ہی پاکستان کے خلاف زہر آلود یاوہ گوئی شروع کر دیتا ہے۔ چلیں وہ تو بچھو کی طرح ڈنگ مارنے سے باز نہیں آئے گا مگر پاکستان سے خاص قسم کے قوم پرست پشتون رہنمائوں کو جرگے میں شرکت کی دعوت کیا منظر نامہ پیش کر رہی ہے؟ اب تک خبر آ چکی ہے ہو گی کہ کون کون سا ’’محب وطن‘‘ پاکستانی کابل گیا ہے۔ محمود اچکزئی کی شرکت ضروری دکھائی دیتی ہے۔ موصوف پاکستان کا کھاتے پیتے ہیں۔ اسمبلیوں کی رکنیت، گورنر کا عہدہ، مگر ہر بار اعلان کہ خیبرپختونخوا افغانستان کا حصہ ہے۔ موصوف خود کو پاکستان کی بجائے افغانستان کا باشندہ قرار دیتے ہیں۔
٭سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر یمن کے حوثیوں کی راکٹوں سے بھڑکنے والی آگ سے تیل کے دو بڑے یونٹ مکمل طور پر جل گئے۔اس سے سعودی تیل کی پیداوار کم ہو گئی اور دنیا بھر میں تیل نہائت مہنگا ہو گیا ہے۔ پاکستان میں آٹھ روپے فی لیٹر اضافہ امکان ہے۔ پٹرول کی قیمت 120 روپے لٹر سے بڑھ جائے گی۔
٭الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہ مریم نواز ن لیگ کی نائب صدر بن سکتی ہیں۔ یہ چھوٹا سا معاملہ ہے، ن لیگ کے بہت سے نائب صدر اور شہباز شریف منتخب صدر ہیں مگر مریم نواز نے انہیں نظر انداز کر کے ن لیگ کے سارے معاملات خود سنبھال لئے تھے۔ جلسے جلوس حتیٰ کہ اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان اور احتساب جج محمد ارشد کے خلاف وڈیو کی پریس کانفرنس جس میں شہباز شریف بھی شریک ہوئے مگر انہیں ویڈیو کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا گیا۔ مریم نواز نے سیاسی سطح پر ہل چل مچا رکھی تھی، مسلم لیگ کی قیادت ان کے پیچھے چل رہی تھی مگر چند ماہ پہلے جیل جانے کے بعد وہ بالکل خاموش ہیں۔ کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دے رہیں اور مسلم لیگ پھر سے شہباز شریف نے سنبھال لی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایسے موقع پر ان کا نائب صدارت کا عہدہ برقرار رکھا ہے جب عملی طور پر انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ وہ میاں نوازشریف کی جیل میں حالت کے بارے روزانہ تیز بیان دیا کرتی تھیں۔ اب وہ خاموش ہو چکی ہیں (کیوں؟) نوازشریف سے بہت سے عزیز و اقارب جیل میں ملاقات کرتے ہیں مگر ایک عرصے سے کسی نے نوازشریف کی بیماری کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ یہ کام اب آصف زرداری کی بیٹی آصفہ زرداری نے سنبھال لیا ہے۔ باپ کے بارے میں وہی مریم نواز کے الفاظ، وہی جُملے!
مقبوضہ کشمیر میں 45 دن کے کرفیو سے غیر انسانی صورتحال اتنی واضح ہو گئی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے بھی اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور مودی حکومت کو ہدائت کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر کرفیو ختم کر کے مارکیٹیں اور تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں۔ سپریم کورٹ سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن غلام نبی آزاد نے رجوع کیا تھا۔ اس عدالتی حکم کا کیا اثر ہوتا ہے وہ جلد سامنے آ جائے گا مگر اس سے مقبوصہ کشمیر میں جو صورت حال پیدا ہونے والی ہے اس نے مودی حکومت کو حواس باختہ کر دیا ہے۔ گھروں میں 45 روز سے بند بھوک پیاس اور دوسری تکلیفیں سہنے والے لاکھوں کشمیری باشندوں کو کرفیو کی سخت پابندیوں کے باوجود مودی حکومت اپنے خلاف مظاہروں سے نہ روک سکی، اب کھلے عام مظاہروں سے کیسے روک سکے گی؟ اگلے چند روز میں نئی ہنگامہ آرائی سامنے آنے والی ہے۔
٭لاہور، شاہدرہ!ایک وکیل نے ایک لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارا۔ بات دونوں طرف ہنگاموں، ہڑتالوں اور مقدمات تک پہنچ گئی۔ بالآخر وکیل نے لیڈی کانسٹیبل فائزہ سے معافی مانگ لی اور معاملہ ختم ہو گیا۔ یہ معافی پہلے ہی روز مانگ لی جاتی تو بات نہ بڑھتی۔ اہم بات یہ کہ غریب گھرانوں کی بچیاں کسی نہ کسی خاندانی مجبوری کے تحت ملازمتوں کے لئے گھروں سے نکلتی ہیں۔ رکشا اور ٹیکسی کے کرائے نہیں دے سکتیں، کسی سے لفٹ بھی نہیں مانگ سکتیں۔ پرہجوم بسوں اور ویگنوں میں دھکے کھا کر سفر کرنے پرمجبور ہوتی ہے۔ گھر آنے جانے میںبہت سا وقت لگ جاتا ہے۔ المیہ یہ کہ ان بچیوں، بیٹیوں کو باعزت مقام اور احترام دینے کی بجائے ان کے ساتھ بدسلوکی کے الم ناک واقعات عام ہو رہے ہیں، انتہا یہ کہ پولیس کی وردی میں ملبوس خاتون کو تھپڑ لگوایا جاتا ہے مگر صرف معافی!غریب گھر کی بے بس بچی نے وکیل گردی کے خلاف کسی سخت کارروائی کی بجائے اپنی جان بچانی ضروری سمجھی! مرتضیٰ برلاس کا ظالموں کے بارے میں ایک شعر کہ ’’ظلم جب حد سے بڑھ جائے برلاس! ایسے لوگوں کو زمیں چاٹ لیا کرتی ہے…!‘‘
٭شہر کے پانچ ستارہ ہوٹل میں بزرگ قانون دان ایس ایم ظفر کی پاکستان کی تاریخ کے بارے میں کتاب کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صدارت کی۔ کتاب انگریزی میں ہے اس لئے زیادہ تقریریں انگریزی میں ہوئیں حتیٰ کہ قرآن مجید کی آئت کا ترجمہ بھی انگریزی میں ہوا۔ اہم بات یہ کہ کچھ مقررین نے چیف جسٹس کی اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا کہ احتساب کے معاملہ میں سیاسی انجینئرنگ خطرناک ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بات پانچ چھ روز قبل کہی تھی اس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ احتساب کے لفظ کے ساتھ سیاسی انجینئرنگ کا لفظ سادہ اور قابل فہم ہے۔ اس پر ذرا غور کیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے بہت سے افراد احتساب کی زد میں اور جیلوں یا حوالاتوں میں بند ہیں۔ نوازشریف، شہبازشریف، حمزہ شریف، مریم نواز، عباس شریف کے بیٹے، حسین نواز، حسن نواز، شاہد خاقان عباسی، خواجہ برادران، آصف زرداری، فریال تالپور، سید خورشید شاہ، سید مراد علی اور بہت سے دوسرے! مگر…مگر کوشش کے باوجود تحریک انصاف کا کوئی اہم بلکہ غیر اہم نام بھی نہ مل سکا۔ ایک نام عبدالعلیم خان کا آیا تھا مگر گرفتاری کے بعد فوراً ضمانت! قارئین کرام! آپ کوتحریک انصاف کے کسی احتساب زدہ شخص کا علم ہو تو مجھے بتایئے گا!
٭ایک سال قبل راوی نامہ 16 ستمبر2018ء: ’’…بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں ہر سیاسی پارٹی کے رہنما شریک ہوئے۔ میدان میں 20 ہزار افراد کی گنجائش تھی، باہر سڑکوں پر بھی بہت سے لوگ تھے۔ کلثوم نواز گھریلو خاتون تھیں، کبھی کسی عہدہ پر نہ آئیں اور ان کاعصر حاضر میں لاہور کا سب سے بڑا جنازہ۔