07:43 am
ایمان حقیقی کے ثمرات 

ایمان حقیقی کے ثمرات 

07:43 am

سورۃ التغابن بہت جامع سورۃ ہے ۔سورۃ التغابن کے دو  رکوع ہیں ۔ پہلے رکوع میں ایمانیات ثلاثہ کی تفصیلی تشریح بیان ہوئی ہے جبکہ دوسرے رکوع میں ان ایمانیات کے ثمرات بیان ہوئے ہیں ۔اس سے قبل ہم نے ایمان کے کچھ ثمرات کا مطالعہ کیا تھا جو کہ حسب ذیل تھے ۔
1۔تسلیم ور ضا کی کیفیت : سب سے پہلے فرمایا ’’نہیں آتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے اذن سے۔اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے‘ وہ اُس کے دل کو ہدایت دے دیتا ہے ۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
یعنی جو کوئی بھی اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کی پہلی نشانی یہ ہوگی کہ وہ ہر کیفیت میں اللہ کی رضا میں راضی رہے گا ۔اُس کا یقین بن جائے گا کہ جو بھی حالات پیش آرہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہیں اور اسی میں میرے لیے کوئی بہتری ہوگی ۔جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خوشخبری بھی سنا دی کہ مومن کے لیے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے ۔ اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اس میں بھی اس کے لیے خیر ہے اور اگر کوئی راحت ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور اس میں بھی اس کے لیے خیر ہی خیر ہے لہٰذا ایک مسلمان کی سوچ یہ نہیں ہونی چاہیے کہ میں اس مشکل میں سے کیسے نکلوں اور اپنے دشمن کا کیسے مقابلہ کروں ۔ بلکہ سوچ یہ ہونی چاہیے کہ جو کچھ ہورہا ہے مجھے اس میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے کہ اللہ کے ہاں آخرت میں سرخرو ہو سکوں ۔ اگر ایسی سوچ ہے تو پھر سمجھ لیجئے کہ یہ ایمان کا پہلا ثمر ہے ۔ 2۔اطاعت ۔ فرمایا  ’’اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول (ﷺ) کی۔ پھر اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو جان لو کہ ہمارے رسول(ﷺ) کے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔‘‘
ایمان کا دوسرا ثمر یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان جس کے دل میں ایمان پختہ ہو گیا تو پھر وہ اللہ اور اس کے     رسول ﷺ کے احکامات پر لبیک کہتے ہوئے انہیں بجا لانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے ۔اللہ ورسول ﷺ کی اطاعت محبت وشوق کے جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے مارے باندھے نہیں ۔اگر واقعی دل میں ایمان ہے تو پھر زندگی کے ہر معاملے میں اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت شوق و محبت کے جذبے کے ساتھ کی جائے گی ۔ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ایک طرف عشق کے دعوے ہوں اور دوسری طرف اللہ و رسول ﷺ کے احکامات سے روگردانی بھی جاری رہے ۔ اکثر دیکھا ہوگا کہ یہ بعض ملنگ قسم کے لوگ نماز کے قریب بھی نہیں جاتے ۔ پوچھنے پر پتا چلتا ہے کہ ’’جی یہ تو ہر وقت اللہ کے حضور میں ہوتے ہیں لہٰذا ان کو نماز کی کیا ضرورت ہے‘‘۔ حالانکہ اللہ کے رسولﷺ کو نماز معاف نہیں تھی جو کہ اللہ کے نزدیک اس کائنات کی سب سے محبوب ہستی تھے ۔ لہٰذا یہ تصور غلط ہے اور یہ دین کی جڑیں کاٹنے والا تصور اور شیطانی دھوکہ ہے ۔شریعت کی پابندی ہر صورت کرنی ہوگی اور یہ وہی کرے گا جس کے دل میں ایمان راسخ ہو چکا ہوگا ۔
3۔توکل:ایمان کا تیسرا ثمر توکل علی اللہ ہے ۔ فرمایا  ’’ اللہ وہ ہے کہ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پس اہل ایمان کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔‘‘
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،کل اختیار اس کے ہاتھ میں ہے۔وہ مسبب الاسباب ہے،لہٰذا ہمارا بھروسا اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے کیونکہ ایک کام کا ارادہ اگر انسان نے کیا ہے تو وہ تب ہی پورا ہوگا جب اللہ چاہے گا ۔ ایک مرتبہ مشرکین مکہ نے آنحضور ﷺ سے کچھ سوالات پوچھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کل جواب دوں گا۔آپ ﷺ نے سوچا ہوگا کہ روزانہ ہی جبرائیل علیہ السلام آتے ہیں، میں ان سے پوچھ لوں گا۔لیکن کئی دن تک جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے ۔پھر جب آئے تو یہ آیت نازل ہوئی :’’اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کریں کہ میں یہ کام کل ضرور کر دوں گا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر لیاکیجئے جب آپ بھول جائیں اور کہیے :ہو سکتا ہے کہ میرا رب میری راہنمائی کر دے اس سے بہتر بھلائی کی طرف۔‘‘  (الکہف: 23، 24)
معلوم ہوا کہ ہر چیز پر اختیار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے لہٰذا اُسی کے بھروسے پرہر کام کیا جائے ۔
4۔طبعی محبتوں میں احتیاط:یہ ایمان کا چوتھا لازمی تقاضا ہے ۔ فرمایا:’’اے ایمان کے دعوے دارو! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ‘سو ان سے بچ کر رہو۔ اور اگر تم معاف کر دیا کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور بخش دیا کرو تو اللہ بہت بخشنے والا ‘نہایت مہربان ہے۔‘‘
یہ دنیا انسان کے لیے مسلسل آزمائش ہے اور ان آزمائشوں میں سے ایک بڑی آزمائش اولاد اور بیویوں کی محبت بھی ہے ۔یہاں اسی حوالے سے خبردار کیا جارہاہے کہ اگر آپ نے اولاد اور بیوی کو آسائشیں دینے کے لیے حلال و حرام کی تمیز کھو دی یا اُن کی محبت اللہ و رسول ﷺ کی نافرمانی پر مجبور کررہی ہو تو گویا یہ ایک طرح کی دشمنی ہی ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کی آخرت برباد ہونے کا خدشہ ہے ۔ اب اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ تم اولاد اور بیوی کو دشمن ہی سمجھنا شروع کر دو بلکہ یہاں بتایا یہ جارہا ہے کہ جس شخص کے دل میں ایمان ہو گا تو وہ ان معاملات میں بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی اس طرح کرے گا کہ نہ تو اولاد اور بیوی کی محبت میں اللہ کی حدود کو پھلانگنے کی کوشش کرے گا اور نہ ہی گھر کو میدان جنگ بنا لے گا   بلکہ وہ حکمت اور دوراندیشی کے ساتھ اور شریعت کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے معاملات کو حل کرے گا ۔ اس کا بہترین طریقہ ہے کہ گھر میں دینی ماحول قائم کیا جائے ، شرعی اصولوں کو نافذ کیا جائے اور اس کے بعد جب کسی سے سرکشی ظاہر ہو تو اُسے نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھایا جائے ۔اگر عورتیں سرکشی کریں تو انہیں دینی تقاضے یا د دلائے جائیں اور نرمی اور شفقت کے ساتھ پیش آیا جائے۔
نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا: کہ تم میں سے  بہتر مسلمان وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے حق میں بہتر ہے‘‘۔  لہٰذا معاف کر دینا ، چشم پوشی سے کام لینا ، درگزر کرنا زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ ساتھ ساتھ اصلاح کا پہلو بھی جاری رہے۔اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ ہونی چاہیے کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’خبردار تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن ) تم سے ہر شخص کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا ، لہٰذا امام یعنی سربراہ مملکت وحکومت جو لوگوں کا نگہبان ہے اس کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی۔    ( جاری ہے )



، مرد جو اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس کو اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے ، اس کو ان کے حقوق کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی اور غلام مرد جو اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اس کو اس کے مال کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی لہٰذا آگاہ رہو!تم میں سے ہر ایک شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ذمہ کچھ افراد کی نگہبانی اور ذمہ داری رکھی ہے ۔ہر شخص اپنی جگہ پر جو بھی خاندان کا سربراہ ہے۔ اس کی مثال اسی چرواہے کی سی ہے جسے ہر وقت اپنی بکریوں کی فکر رہتی ہے اور جیسے اس چرواہے سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے ٹھیک ٹھاک بکریاں واپس کی ہیں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی پوچھے گاکہ تم نے اپنی ذمہ داریاں جو اس حوالے سے تم پر ڈالی گئی تھیں پوری کی ہیں یا نہیں۔ خاص طور اولاد کے حوالے سے ایک انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان کو حلال رزق کھلائے ، دینی تعلیم سے آراستہ کرے ،ایمانیات ثلاثہ کو ان کے دل میں راسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہے، ان کے اخلاق و کردار کو سنوارے اور اس حوالے سے ان کی تربیت کرے اورپھر ایسا ماحول مہیا کرے کہ جس میں منکرات سے بچنے کا ہر ممکن اہتمام ہو ۔ آگے فرمایا : ’’تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں۔اوراللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے۔‘‘
یہاں ایک بہت بڑی حقیقت بیان ہو رہی ہے جس کو بہت توجہ سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عام طور پر مال اسی لیے جمع کیا جاتاہے کہ وہ بوقت ضرورت کام آئے اور اولاد کے لیے محنت و مشقت اس لیے کی جاتی ہے ، انہیں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم اس نیت سے دلائی جاتی ہے کہ وہ کچھ بن جائیں گے تو بڑھاپے میں کام آئیں گے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مال اور اولاد صرف ذریعہ آزمائش ہیں۔ان کے ذریعے تمہیں اللہ تعالیٰ جانچ اور پرکھ رہا ہے۔کیونکہ دنیا ہے ہی دارالامتحان ۔ لہٰذا اس بھروسے پر ان کے لیے محنت و مشقت کرو گے تو شاید مایوسی ہو ۔ لہٰذا اجر کی توقعات صرف اللہ سے رکھو ۔ دنیا میں زندگی وہ گزارو جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے ۔اس کے مطابق چلوتو اللہ سے تمہیں اجرعظیم ملے گا۔ اللہ سے اجر کی توقع پر اپنی اولاد پر محنت کرو ، ان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرو اور اجر اللہ پر چھوڑ دواور اصل اجر توآخرت ہی کا ہے ۔ یہ تما م احکامات دینے کے بعد اب پورے مضمون کا خلاصہ بیان کیا گیا کہ:
تقویٰ اختیار کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ  قرآن مجید ہے ۔ آپ اس کی تلاوت کریں ، سمجھ کر پڑھیں گے تو ہر صفحے پر آخرت کا ذکر ملے گا اور اصل زندگی تو ہے ہی آخرت کی زندگی۔لہٰذا آخرت میں کامیابی ہی اصل کامیابی ہے ۔دنیا کی ناکامی یا کامیابی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اگر دنیا کامعاملہ بہت اہم ہوتاتو کتنے رسول ہیںجو ساری زندگی دعوت دیتے رہے ،حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نوسو برس تک دعوت دیتے رہے لیکن ایمان لانے والے چند تھے ۔اگر آپ دنیوی پیمانے سے دیکھیں گے تویہی کہیں گے کہ یہ انبیاء تو بڑے ناکام رہے ۔(معاذ اللہ) مخلوق کو ٹھیک نہیں کرسکے ۔لیکن اللہ کو کوئی پروا نہیں ۔قرآن میں چھ رسولوں کا ذکر بار بار آتا ہے اور سب کی داستان کا حاصل یہ ہے کہ ساری عمر قوم کو دعوت دیتے رہے۔لیکن چندافراد ایمان لائے باقی سب کو اللہ نے تباہ وبرباد کردیا۔ لہٰذا آپ نے اپنا کام کرنا ہے دنیا کو نہیں دیکھنا ۔ دنیا کے حوالے سے آپ کی جو ذمہ داری ہے وہ آپ نے پوری کرنی ہے لیکن اس کا اصل اجر آخرت میں ملے گا ۔ ہم جو چاہتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں کامیابی ملے یہ بھی دینی تعلیمات کے خلاف ہے ۔بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ دنیا میں ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کے حوالے سے ہم آخرت میں اللہ کو جواب دے سکیں گے یا نہیں ؟حتیٰ کہ  غلبہ و اقامت دین کی جدوجہد میں بھی ہمیں وہی طریقہ اختیار کرنا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا تھا۔ پھر کامیابی ہویا نہ ہولیکن اللہ کے ہاں تو سرخرو ہوں گے ۔  ان شاء اللہ ۔کیونکہ اجر عظیم اسی کے پاس ہے ۔آگے فرمایا :’’اور سنو اور اطاعت کرو ‘‘
سمع وطاعت کا ایک نظام ہونا چاہیے ۔ ایک خلیفہ ہواور سب اس کے تابع ہوں اور وہ اللہ کے دین کو اپنے ملک میں بھی نافذ کریں اور پھر پوری دنیا میں اسلام کو نافذ کرنے کی کوشش کریں ۔جیسے اقبال نے کہا کہ 
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے 
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
یہ چیز دور خلافت راشدہ میں تھی کہ ایک ہی خلیفہ ہے اور اس کا اصل کام یہ ہے کہ جس خطہ ٔ ارضی پر اس کو اللہ تعالیٰ نے حکمران بنایا ہے وہاں پر اللہ کے دین کو قائم کرے ۔ یہی اس کی اولین ترجیح تھی۔ پھر چاہے ساری دنیا آپ کے خلاف ہوجائے تو ہوتی رہے۔ دنیا تو ہے ہی دارالامتحان ۔ لہٰذا دنیا میں ایک جماعت کی حیثیت سے رہنااصل مطلوب ہے اور اس جماعت کا مقصد پوری دنیا میں اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے ۔یہی مشن محمدرسول اللہ ﷺ لے کر آئے اور اپنے بعد یہ مشن اپنے اُمتیوں کو سونپ کر گئے۔ لیکن ہم دین کے اس اولین تقاضے کو بالکل ہی بھول چکے ہیںاور اُمت کو ہم نے جغرافیائی سرحدوں میں تقسیم کر لیا ہے کہ یہ عربوں کا ملک ہے ، یہ مصریوں کا ہے ، یہ ایرانیوں کا ہے ، یہ عراق ہے ، یہ شام ہے ۔بے شک آپ مسلمان ہیں لیکن ویزے کے بغیر کسی دوسرے مسلمان ملک میں نہیں جا سکتے ۔ہم نے خود اُمت کو پارہ پارہ کر لیا ہے اور اُسی پر خوش ہیں، جشن منا رہے ہیں حالانکہ یہی ہمارے زوال اور پستی کی بنیادی وجہ ہے اور  اسی وجہ سے ہم ذلیل و خوار ہیں ۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جو مشن دیا تھا اُس کو چھوڑ دیا ۔ لہٰذا اللہ نے پہلے بتا دیا تھا کہ دین سے غداری کرو گے توذلت ومسکنت کا عذاب تم پر مسلط ہوکر رہے گا ۔ا ٓج پوری دنیا میں مسلمان اسی ذلت ومسکنت کا شکا رہیں۔ پاکستان جیسا بہترین خطہ اللہ نے ہمیں عطا کیا،معجزانہ طور پر دیا ، اس لیے کہ ہمارا وعدہ تھا کہ یہاں اسلام کو نافذ کریں گے مگر 72 سال ہو گئے ملکی سطح پر اسلام ایک انچ جگہ پر نہیں آیا۔لہٰذا یہ سمع و طاعت تو نہ ہوئی بلکہ ہم نے سمع و طاعت کا نظام ہی ختم کر دیا اور خود کو مسلمان بھی کہہ رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ آیت شہادت دے رہی کہ اگر ایمان ہو گا تو سمع و طاعت بھی لازمی ہو گی ۔اگرنہیں ہے تو پھر ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے ۔آگے فرمایا : ’’اور خرچ کرو (اللہ کی راہ میں) یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور جو کوئی اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کے مزاج میں یہ صفت رکھی ہے کہ اس کی طبیعت لالچی نہیں ہے تو وہی اصل میں کامیاب ہے ،البتہ دنیا کی کچھ نہ کچھ محبت تو ہر ایک کے دل میں ہے لیکن مومن کو اس محبت کو دل سے کھرچنے کی ہمیں کوشش کرنی ہے ورنہ یہی اس کے راستے کی رکاوٹ بنے گی اور جب کو ئی اس سلسلے میں کوشش کرے گا تو اللہ مدد کرے گا اور جس کے دل میں دنیا کی محبت زیادہ ہے تواسے ایک بڑے مقصد کے لیے اس کو قربان کرنا پڑے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے بس جس کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی رہے بلکہ یہ اس کے لیے چیلنج ہے۔اگر کامیابی چاہیے تو اس کو دنیا کی محبت دل سے نکالنی ہوگی ۔ آگے فرمایا: ’’اگر تم اللہ کو قرضِ حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا ۔ اور اللہ شکور (یعنی قدر دان) بھی ہے اور حلیم (یعنی بردبار)بھی ۔‘‘
 یعنی یہاں کے بینکوں میں جمع کرانے کی بجائے اللہ کے بینک میں جمع کرائو۔آج کل تو ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک سے باہر اثاثے زیادہ محفوظ رہیں گے ۔پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ مال کو ملک سے نکال کر باہر لے جائے ۔الا ماشاء اللہ۔گویا ہم نے دنیا ہی کو اپنا محفوظ ٹھکانہ سمجھ رکھا ہے اور اسی کے لیے سب کچھ جمع کر رہے ہیں حالانکہ ہمارا اصل ٹھکانہ تو آخرت میں ہے اُس کی فکر کرنی چاہیے اور وہاں کے لیے جمع کرنا چاہیے ۔
’’جاننے والا ہے چھپے اور کھلے سب کا‘ وہ بہت زبردست ہے‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘
اگر ہم اللہ کو قرض دیں گے ۔ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے تو وہ سب سے بڑا قدردان ہے ۔اسے ضرورت نہیں ہے۔ سب کچھ اُسی کا ہے مگر اس کی راہ میں ، اُس کے دین کے لیے جو کچھ خرچ کرو گے وہ اس پر اتنا منافع دے گا کہ تم سوچ ہی نہیں سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کے حصول اور اس کے ان ثمرات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !