07:44 am
’’صاف ستھری حکومت‘‘

’’صاف ستھری حکومت‘‘

07:44 am

عمران خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے 14مہینوں میں ان کی حکومت کا کوئی کرپشن سیکنڈل سامنے نہیں آیا ہے۔ اب اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا۔ جو پارٹی ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے وعدے پر حکومت میں آئی تھی۔ اس نے  شروع میں میڈیا پر اپنا اتنا سخت کنٹرول رکھا ہوا تھا کہ حکومت مخالف کوئی بات نہ ٹی وی  پر آن  ائیر تھی نہ ریڈیو پر اور نہ یہ اخبارات میں اس وجہ سے غالباً عمران خان کو گماں ہوگیا ہے کہ ان کی حکومت میں کوئی کرپشن نہیں  ہو رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی مختصر حکومت میں ہی کرپشن کے جو نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں اس نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ ان کی ناتجربہ کاری اور نالائقی کو تو برداشت یا معاف کیا جاسکتاہے مگر اب جو بے ایمانیاں سامنے آرہی ہیں۔  اسے نظرانداز کرنا بہت مشکل ہے۔ سخت میڈیا یا کنٹرول کے باوجود یہ چند نمونے سامنے آچکے ہیں۔ ملاحظہ کریں۔
 
ملک بھر میں ادویات کی قیمت میں تین سو فیصد تک کا اضافہ کر دیا گیا۔ پتہ چلا کہ ایک وزیر نے جنوبی افریقہ سے بنک میں پانچ ملین ڈالر کی رشوت وصول کی اور ان دوا ساز کمپنیوں کے تمام مطالبے من و عن مان لئے۔ شور اٹھا تو وزیراعظم نے کہا کہ  انکوائری ہوگی اور قیمتیں واپس پرانی سطح پر آجائیں گی۔ وزیر کو وزارت سے علیحدہ کر دیا گیا مگر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ قیمتیں وہیں ہیں عوام پس رہے ہیں اور برطرف شدہ وزیر پانچ ملین ڈالر یعنی  اسی کروڑ روپے لیکر اطمینان سے بیٹھا ہے۔ کسی انکوائری کی کوئی رپورٹ نہیں آئی ہے۔
شوگر ملز مالکان کو مختلف طریقوں سے نوازا گیا۔ پہلے ایکسپورٹ سبسڈی کے نام پر بڑی بڑی شوگر ملوں کو اربوں روپے دئیے گئے۔ پھر سرکاری طور پر چینی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔ یاد رہے پاکستان میں چینی صرف 4ماہ بنتی ہے یعنی نومبر سے فروری تک  اس وقت جو چینی ملک  میں موجود ہے دو فروری تک بن چکی تھی اب اس کی قیمت میں اضافے کا کیا جواز ہے۔ چینی میں نا تو پٹرول ڈلتا ہے اور نہ ہی گنے کی قیمت ڈالروں میں ادا کی جاتی ہے۔ اس کی قیمت میں اضافہ مخصوص اشخاص کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا گیا اور اس کا بوجھ عام عوام پر ڈال دیا گیا۔ یہ نااہلی یا لائقی میں ہے بلکہ کرپشن ہے۔
ویسے تو ملک بھر میں ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے ٹھیکے ویسے ہی عنقا ہیں مگر اس حکومت نے جو بھی ٹھیکے دئیے ہیں اس میں شفافیت کہیں نظر نہیں آتی۔ مہمند ڈیم کا ٹھیکہ ایک مثال ہے جہاں تمام اصول توڑ کر پی ٹی آئی سے منسلک ایک وزیر نما مشیر کو نوازا گیا۔ ٹھیکہ ابھی شروع ہوا ہے اور ابھی سے ان کے تخیمنے میں اضافے کی باتیں کی جانے لگی ہیں۔ اب اس کے لئے کرپشن کے علاوہ اور کون سا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پشاور کی میٹرو میں جو عالی شان کرپشن ہو رہی ہے  اس کی مثال پاکستان تو کیا دنیا بھر میں کہیں نہ ملے گی مگر کرپشن کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کرنے والی تحریک انصاف نے ابھی تک کوئی انکوائری نہیں کی ہے۔ نیب نے ملک کے تمام بڑے اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کر رکھا ہے مگر انہیں پشاور  میٹرو نظر ہی نہیں آرہی۔ نیب کے چیئرمین فرماتے ہیں کہ اگر ہم نے حکومتی پراجیکٹس کی فائلیں کھول لیں  تو حکومت گر جائے گی۔ اب آپ بتائیے کرپشن کی اس سے زیادہ نمایاں مثال کیا ہوسکتی ہے۔ صرف اتنا سوچیے کہ جتنی رقم خرچ کرکے بھارت نے اپنا خلائی جہاز چاند تک تقریباً پہنچا دیا تھا اس سے پانچ گناہ زیادہ پھر پشاور میٹرو پر خرچ ہوچکا ہے اور ابھی تک وہ صرف کھدے ہوئے نالے سے آگے نہیں بڑھا ہے۔
پی ٹی آئی کے مختلف وزراء پر مختلف الزامات لگے۔ عمران خان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اعظم سواتی اب پھر وزیر ہیں۔ اب اگر کوئی عوام سے کہے کہ اعظم سواتی کرپشن سے پاک سیاستدان  ہیں تو کیا ہنسی نہیں آئے گی؟ ان لوگوں کو اپنے اردگرد رکھنا بھی کرپشن ہی کے معنی میں آتا ہے۔
گیس انفراسٹرکچر کے معاملے میں چند مخصوص کمپنیوں کو تقریباً تین سو ارب معاف کر دئیے گئے جب شور اٹھا تو وزیراعظم  نے اپنے ہی فیصلے کا نوٹس لے لیا۔ اگر شور نہ اٹھتا تو عوام کو یہ ٹیکہ لگ چکا ہوتا۔ اب کہا جارہا ہے کہ معاملہ سپریم  کورٹ میں لے جایا جائے گا۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے عدالتیں جس قسم کے فیصلے دے رہی ہیں  عوام کو اب عدالتوں پر بھی اعتماد  نہیں رہا۔ جو بھی فیصلہ آئے گا اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ نواز شریف نے بھی اپنے زمانے میں  بہت کرپشن کی ہوگی مگر صرف ایک کاغذ پر دستخط کرکے چند صنعتکاروں کو تین سو ارب روپے سے نواز دینا نواز شریف کی تمام کرپشن سے بڑا سانحہ ہے۔
اس دفعہ حج ہماری تاریخ کا سب سے مہنگا حج تھا اور اس کے باوجود  انتظامات انتہائی ناقص تھے۔ اس سلسلے میں جو ٹھیکے دئیے گئے ان کی تفصیلات سن سن کر انسان حیران ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست حج جیسے فریضے کی ادائیگی کرنے والوں کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کر سکتی ہے۔ جو یہ آج کل پی ٹی آئی پر عتاب آیا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ حج کرپشن پر ملنے والی حاجیوں کی بددعائیں بھی ہیں۔ حکومت نے اعلان تو کیا مگر کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔
اب آئے پولیس کی کارکردگی کی طرف واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ ایک کالم میں ان کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔ ساہیوال کا واقعہ صلاح الدین کا واقعہ لاتعداد بچیوں کی زیادتی کے واقعات‘ کھلم کھلا مارپیٹ بزرگ مردوں اور عورتوں کے ساتھ بدتمیزی ‘ جو گند آپ تصور کر سکتے ہیں اور ہماری پولیس میں موجود ہے۔ پولیس کو حکومت کی سرپرستی ہے اور حکومت اتنی سرعت سے ٹرانسفرز کرتی ہے کہ پولیس آفیسرز کرپشن چھوڑ ہی نہیں سکتے۔ تمام کرپشن سے ہوتے ہوتے سیاستدانوں کو حصہ جاتا ہے اب اگر پولیس پیسے جمع نہ کرے تو نوکری کیسے بچائے۔
جی آئی ڈی سی کی طرح Etenol بنانے  والی کمپنیوں کو بھی نوازا جارہا ہے اور اسی طرح پرائیویٹ پاور پرچیز کے معاہدوں پر بھی نظرثانی ہو رہی ہے۔ اربوں کا ہیر پھیر ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کو تفصیلات شاید کبھی بتائی ہی نہ جائیں مگر حکومت اور عوام کو ٹھیک ٹھاک ٹیکہ لگے گا۔
کوئی سرکاری افسر خود کو محفوظ نہیں سمجھتا‘ بڑے بڑے عہدوں پر جس رفتار سے ٹرانسفرز اور پوسٹنگز ہو رہی ہے اس نے ساری سول سروس کو مفلوج کر رکھا ہے۔ سرکاری افسران کرپشن کرنے اور کرپشن روکنے میں سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ اب آپ خود ہی سوچیں کہ کرپشن میں بے تحاشا اضافہ اور کارکردگی میں زوال کا ذمہ دار کون ہے؟
سینٹ چیئرمین کے الیکشن میں جو ہوا اسے کرپشن کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس ایک واقعے نے  پاکستان کی جمہوریت کو داغدار کرکے رکھ دیا۔ 35 سیٹوں والے کس طرح 65سیٹوں والوں سے جیت گئے۔ اس پر سوچ کر بھی شرمندگی ہوتی ہے۔
اب اگر پی ٹی آئی سے کرپشن پر بات کی جائے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ سابقہ حکومتیں چور تھیں۔ میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ سابقہ حکومتوں میں بھی بہت کرپشن تھی مگر کیا ان کی کرپشن پی ٹی آئی کی کرپشن کو جائز ثابت کرتی ہے۔ وہ بھی غلط تھے۔ اب بھی غلط کام کر رہے ہیں۔ ان کو گھر بھیج دیا گیا۔ اب آپ کو کیوں نہ گھر بھیجا جائے؟